ہم گھر پر بھی کیوں شیر نہیں

ٹیسٹ اسپیشلسٹ سے کھیلا نہیں جارہا آپ ٹی ٹوئنٹی والوں کو ٹیسٹ کھلانے کی باتیں کررہے ہیں


Saleem Khaliq December 14, 2022
ٹیسٹ اسپیشلسٹ سے کھیلا نہیں جارہا آپ ٹی ٹوئنٹی والوں کو ٹیسٹ کھلانے کی باتیں کررہے ہیں (فوٹو: پی سی بی)

کرکٹ میں گھر کے شیر والی بات اکثر استعمال ہوتی ہے، بھارت پر طویل عرصے تک یہ لیبل لگا رہا، اس کی وجہ ہوم سیریز میں اسپن پچز بنا کر جیتنا اور باہر جا کر تیز ٹریک پر ہتھیار ڈال دینا تھی، بنگلہ دیشی کرکٹرز بھی گھر میں ٹائیگرز بن جاتے ہیں اور حال ہی میں مسلسل دوسری ہوم سیریز میں بھارت کو شکست دی،البتہ پاکستانی ٹیم اب اپنے گراؤنڈز پر لگاتار دوسری سیریز گنوا چکی ہے۔

ماضی میں بڑی بڑی ٹیموں میں ہمت نہ تھی کہ وہ ہمیں ہوم سیریز میں مات دے دیتیں، یو اے ای میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا،اب نجانے کیا ہوگیا، شیر چاہے گھر کا ہی ہو وہ شیر ہوتا ہے،وہ کسی سے ڈرتا نہیں اور موقع ملتے ہی شکار پر جھپٹ پڑتا ہے۔

البتہ اگر شیر کی سوچ بکری والی ہو جائے،وہ ڈرنے لگے کہ کہیں کوئی مجھے کھا نہ جائے، اپنی جان بچانی چاہیے تو پھر وہ شیر کس بات کا ہے، بدقسمتی سے پی سی بی نے ہمارے شیروں کو شیر والی مینٹلٹی سے محروم کر دیا۔

ڈر کر ایسی پچز بنائی جا رہی ہیں جہاں میچ ڈرا کر کے ہی مٹھائیاں بانٹی جائیں مگر آسٹریلیا کے بعد اب انگلینڈ سے سیریز میں بھی یہ پلان بْری طرح ناکام رہا، راولپنڈی میں ڈیڈ پچ بنائی کہ 600 رنز وہ بنائیں گے تو 500 رنز ہم بنا لیں گے یوں میچ ڈرا ہو جائے گا، انگلینڈ کی نئی طرز کی کرکٹ کو ذہن میں ہی نہیں رکھا جس کے تحت وہ ایک ہی دن میں 500 رنز بنا لیتے ہیں۔

اسی لیے شکست ہو گئی،راولپنڈی میں گذشتہ میچ کی پچ بھی بے جان تھی،اس وقت کی طرح اب ایک بار پھر آئی سی سی نے پچ کو اوسط سے کمتر قرار دے کر ایک اور ڈی میرٹ پوائنٹ دے دیا،ایسا لگتا ہے کہ بورڈ حکام راولپنڈی پر پابندی لگوا کر ہی دم لیں گے۔

ملتان میں سوچا گیا کہ اسپن پچ بنا کر جیت جائیں گے، مسٹری اسپنر ابرار احمد نے اپنے انتخاب کو درست ثابت کر دکھایا اور 11وکٹیں اڑا دیں مگر اس اسپن پچ پر انگلش پیسرز نے 12 کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگا دیا اورمیچ کے ساتھ سیریز بھی جیت لی۔

اب دیکھتے ہیں کراچی میں کلین سوئپ سے بچنے کیلیے کیسی پچ بنائی جاتی ہے، رمیز راجہ کے چیئرمین بننے کے بعد پاکستانی پچز اچانک بالکل ہی بے جان ہو گئی ہیں یا انھیں کر دیا گیا ہے،پہلے تو ان پر اچھی کرکٹ ہوتی تھی۔

دفاعی سوچ کے باوجود سیریز گنوانا اس بات کی گواہ ہے کہ فتح بین اسٹوکس جیسے بہادروں کے ساتھ رہنا ہی پسند کرتی ہے، جس ٹیم کا پیس اٹیک محمد علی اور فہیم اشرف پر مشتمل ہو اس کیلیے تو جیت کا سوچنا ہی جرم ہے۔

40 سال کے اینڈرسن وکٹیں اڑا رہے ہیں اور ہمارے پیسرز پورے میچ میں ایک کھلاڑی کو بھی آؤٹ نہ کر سکے،ایسا نہیں ہے کہ ملک میں پیس بولرز ختم ہو گئے دراصل یہ چیف سلیکٹر صاحب کا ''کارنامہ'' ہے جنھوں نے حارث رؤف اور نسیم شاہ کی انجری کے باوجود کوئی متبادل ہی نہیں لیا، انھیں لگتا تھا کہ محمد علی اور فہیم موقع ملنے پر وسیم اکرم اور وقار یونس کی طرح حریف بیٹرز پر ٹوٹ پڑیں گے مگر یہ خواب حقیقت کا روپ نہ دھار سکا۔

بابر اعظم کا بس چلتا تو وہ ابرار سے دونوں اینڈز سے بولنگ کرا دیتے مگر ظاہر ہے ایسا ممکن نہ تھا،زاہد محمود نے پہلی اننگز میں ٹیل اینڈرز پر ہاتھ صاف کیا،البتہ دوسری اننگز میں بولنگ بہتر رہی،شاہین آفریدی پہلے ہی انجرڈ تھے، حارث راولپنڈی ٹیسٹ کے دوران زخمی ہو گئے تھے مگر ان کی بولنگ سے واضح تھا کہ وہ ٹی ٹوئنٹی یا ون ڈے کی حد تک ہی مفید بولر ثابت ہو سکتے ہیں۔

نجانے کیا سوچ کر محمد وسیم نے میر حمزہ کو منتخب نہیں کیا، جب 30 سال کی عمر میں محمد علی کا ڈیبیو ہو سکتا ہے تو 32 سالہ محمد عباس کو دوبارہ آزمانے میں کیا قباحت ہے۔

اسی طرح سلمان علی آغا کو کیوں مسلسل کھلایا جا رہا ہے؟ 64 کی اوسط سے قائد اعظم ٹرافی میں706 رنز بنا کر آٹھویں کامیاب بیٹر فواد عالم کو آؤٹ آف فارم قرار دے کر ڈراپ کیا گیا اور سلمان آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں۔

ان پر ٹیم کے اعتماد کا یہ عالم ہے کہ دوسری اننگز میں ''نام نہاد ''آل راؤنڈرز کے بعد بیٹنگ کیلیے بھیجا گیا،شکر ہے 38 سالہ اظہر علی کو ڈراپ کرنے کی ہمت کر لی گئی، اب ان کا شکریہ ادا کر کے باعزت ریٹائرمنٹ کا موقع دینا چاہیے، جب 12 سال ٹیسٹ کرکٹ کھیل کر وہ ٹاپ 20میں شامل نہ ہو سکے تو آگے کیا کر لیں گے، عبداللہ شفیق ملتان میں بڑی اننگز نہیں کھیل پائے،امام الحق نے تاخیر سے بیٹنگ کرتے ہوئے دوسری اننگز میں نصف سنچری بنائی۔

ان دونوں کو کارکردگی میں تسلسل لانا ہوگا، ساتھ رنز بنانے کے مواقع سے فائدے بھی اٹھانے چاہئیں، بابر اعظم دوسری اننگز میں جلدی کیا آؤٹ ہوئے شائقین ان کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے، یہ رویہ ٹھیک نہیں ، وہ ہمارے ملک کااثاثہ ہیں انھیں عزت دینی چاہیے۔

سعود شکیل نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا، بدقسمتی سے دوسری اننگز میں وہ متنازع کیچ کی بھینٹ چڑھ گئے ورنہ سنچری بھی بنا لیتے،آل راؤنڈرز کہلانے والے کھلاڑی شاید خود اپنے نام پر یہ لکھا دیکھ کر شرمندہ ہو جاتے ہوں، ٹیم کی ٹیل بہت بڑی ہے اسی لیے ٹاپ آرڈر کے آؤٹ ہوتے ہی مسائل ہونے لگتے ہیں۔

محمد رضوان کو ٹیسٹ ٹیم سے ہٹا دیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، یہ پاکستان کی ٹیم ہے، سرفراز اسکواڈ میں موجود ہیں انھیں کھلائیں، سب سے پہلے ٹیم کا مفاد ہونا چاہیے، دوستی یاری تو چلتی رہتی ہے،ہونا تو یہ چاہیے کہ اتنی بڑی شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ، موٹیویشنل اسپیکر سوری ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق اور چیف سلیکٹر محمد وسیم عہدہ چھوڑ دیں مگر پاکستان میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے۔

یہاں جیتو تو سب سینہ ٹھوک کر سامنے آ جاتے ہیں ہاریں تو ڈھونڈے سے نہیں ملتے یا ''فکسڈ'' انٹرویوز سے بھونڈی وضاحتیں دی جاتی ہیں، بیٹنگ کوچ محمد یوسف سے جب رضوان کے بارے میں سوال ہوا تو اپنے ڈومین میں رہنے کی باتیں کرنے لگے۔

کیا رضوان بیٹسمین نہیں ہیں جو ان کے ڈومین میں نہیں آتے اور پچ کی تیاری کیلیے ملتان جاتے ہوئے انھیں اپنا ڈومین یاد نہ آیا،آخر میں چیئرمین پی سی بی سے درخواست کہ برائے مہربانی بھارت سے میچز کا راگ الاپنا چھوڑیں اور فی الحال شکستوں کا سدباب کرنے کا سوچیں،شائقین کے سامنے بڑی بڑی باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

مستقبل کی باتوں کے بجائے پہلے حال کی فکر کریں،ٹیسٹ اسپیشلسٹ سے کھیلا نہیں جارہا آپ ٹی ٹوئنٹی والوں کو ٹیسٹ کھلانے کی باتیں کررہے ہیں،ہیڈ لائنز آپ کے بلندو بانگ دعوؤں کے بجائے ٹیم کی فتح پر بنیں تو اچھا رہے گا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

مقبول خبریں