چناب کے کنارے نئی ہیر کی تلاش
حکیم سعید بتایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ رحمن میں جتنی نعمتوں کا ذکرکیا، پاکستان میں کچھ ان سے زیادہ موجود ہیں
ہمارے معاشیات کے ماہر اور ساتھ ہی وزیر خزانہ بھی جناب اسحاق ڈار نے نہایت ہی فخر سے اپنی اس کامیابی کا اعلان کیا ہے کہ قومی خزانے میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں اور اس طرح ہم سے عوام کے ساتھ کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کر دیا گیا ہے۔ خزانہ آمرہ کی اس خانہ آبادی کا اعلان حکومت کے محکمہ وزارت خزانہ نے کیا ہے۔ جو ڈار صاحب کا محکمہ ہے ظاہر ہے کہ اس میں تازہ امداد بھی شامل ہے جو سعودی عرب کی ڈیڑھ ارب ڈالر ہے اسی طرح کی دوسری کوئی امداد تو نہیں البتہ قرضے شامل ہیں جن میں آئی ایم ایف جیسے عالمی ساہو کار کا قرض بھی شامل ہے جس کا حصول ہم اپنا ایک کارنامہ سمجھا کرتے ہیں۔ میں کچھ کہہ تو نہیں سکتا کہ میری معاشی معلومات بہت محدود ہیں لیکن کسی حد تک یہ عرض کر سکتا ہوں کہ اس ذخیرہ میں ہمارا اپنا کمایا ہوا زرمبادلہ نہیں ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان دنوں ہماری حکومت اگرچہ کاروباری لوگوں کی ہے مگر اس حکومت کو سال بھر ہونے کو آیا ہے ہم نے اس حکومت میں سیاست کے کئی رنگ دیکھے ہیں اور بھی بہت کچھ دیکھا ہے صرف کاروبار نہیں دیکھا۔
ابھی کچھ ہی دیر پہلے مجھے اپنے علاقے سے ٹیلی فون پر بتایا گیا ہے کہ ہمارے پہاڑوں سے جپسم کے ٹرک بھارت جا رہے ہیں جہاں بنجر زمینوں کو پاکستانی جپسم کے ذریعے آباد کیا جا رہا ہے۔ جپسم ایک ایسی پہاڑی کھاد ہے جو قدرت نے زمینوں کو آباد کرنے کے لیے پیدا کی ہے۔ بھارت کی آبادی کے لیے ان دنوں ہماری تو جان بھی حاضر ہے پہاڑوں کا جپسم کیا چیز ہے ایک بے قیمت پہاڑی روڑی پتھر یا ریت۔ بھارت یہ سب شوق سے لے جائے جپسم کا ذکر تو بیچ میں آ گیا اصل بات تو میں زرمبادلہ کے اس روز افزوں ذخیرے کی کر رہا تھا۔ مانگے تانگے اور قرض کے اس زرمبادلہ کو اپنی ملکیت قرار دینے کی جرات صرف ہمارے وزیر خزانہ ہی کر سکتے ہیں۔ اسمبلی کے کسی رکن کو اس بارے میں سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ اس زرمبادلہ کی حقیقت کیا ہے اور ہمارے خزانے کے یہ جھمکے کہاں سے آئے ہیں اور کیوں آئے ہیں۔ ان کے پیچھے مقصد کیا ہے۔
آجکل کی بے پایاں اور ناقابل برداشت مہنگائی نے اس قدر پریشان کر رکھا ہے کہ مجھے بھی اپنے خزانے کے لیے بیرونی امداد کی شدید ضرورت ہے بلکہ فوری ضرورت ہے کیونکہ علاوہ روز مرہ کے کھانے پینے کے سامان کے یہ دن بلوں کی یلغار کے دن بھی ہیں جن کی بروقت ادائیگی لازم ہے تا کہ جرمانے سے بچا جا سکے۔ اصل بل ہی کیا کم ہوتے ہیں کہ ان پر جرمانہ بھی عائد ہو جائے تو نزع کا عالم طاری ہو جاتا ہے۔ انتہائی کنجوسی کے باوجود گیس بجلی وغیرہ کے بل توقع سے زیادہ آتے ہیں اور اب تو اعلیٰ عدالتوں میں بھی بلوں میں ناجائز اضافے کا اعتراف شروع ہو چکا ہے لیکن جو بل زیادہ وصول ہوتا ہے وہ تو ہو جاتا ہے یہ زیادتی یعنی غلط اضافہ واپس کون کرتا ہے۔ ایسے بل کی چپ چاپ ادائیگی کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اونچے طبقے کے ہمارے بڑوں کے لیے یہ بل چونکہ کوئی معنی نہیں رکھتے اس لیے انھیں یہ محسوس ہی نہیں ہوتے۔
یہ احساس صرف ہمارے لیے ہے کیونکہ ایسے احساس کی دولت اور نعمت صرف ہمارے حصے میں آئی ہے۔ بازار کی یہی وہ گرانی ہے اور بلوں کی یہی وہ بے رحمی ہے کہ میں اپنے خزانے میں اضافے کی کوشش کر رہا ہوں۔ زراندوزی کے ہنر سے محروم ہونے کی سزا مسلسل مل رہی ہے۔ کسی زمانے میں بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے ہمارے بزرگ زمینیں بیچ دیتے تھے وہ لوگ اگر آج کے حالات سے گزرتے تو عام ضروریات زندگی کے لیے زمین تک بیچنے سے پہلے ہی وفات پا جاتے۔ ہمارے ہاں سب سے بُرا کام زمین بیچنا ہوتا ہے اگر کوئی زمین فروخت کرتا ہے تو وہ برادری میں قابل نفرت فرد سمجھا جاتا ہے مگر میں سوچتا ہوں کہ میں بھی ان قابل نفرت لوگوں میں شمار ہو سکتا ہوں لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لیے ایک اسحاق ڈار صاحب کی ضرورت ہے جو اس قدر غریب کر دیں کہ کچھ بیچ کر ہی زندگی آگے چل سکے مگر یہ سوال اپنی جگہ کہ زندگی کی ضروریات تو مسلسل جاری ہیں مگر کیا عام پاکستانیوں کے پاس اتنے اثاثے ہیں جو بوقت ضرورت فروخت کیے جا سکیں۔
حکیم محمد سعید شہید بتایا کرتے تھے کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے سورہ رحمن میں جتنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے پاکستان میں کچھ ان سے زیادہ موجود ہیں۔ حکیم صاحب گنتی کر کے بتاتے تھے لیکن بھرپور نعمتوں سے مالا مال یہ ملک آج محتاج لوگوں کا ملک ہے اور اس کی بہت بڑی وجہ ہمارا وہ حکمران طبقہ ہے جس نے محض وقت گزارا ہے ان نعمتوں کو تلاش نہیں کیا۔ آج کی خبر ہے کہ ہمارے ہاں لوہے کے اتنے ذخیرے پنجاب کے بعض علاقوں میں موجود ہیں جن کو برآمد کرنے کے لیے دوست چین نے اربوں ڈالر کے خرچ سے چنیوٹ کی ان پہاڑوں میں سے لوہا نکالنے کا منصوبہ مرتب کیا ہے یہاں سے اتنی زیادہ مقدار میں لوہا نکلے گا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے بقول چنیوٹ میں دنیا کی سب سے بڑی اسٹیل مل لگائی جائے گی۔
یہ کام آج سے اتنا پہلے بھی ہو سکتا تھا کہ اب یہ مل چل رہی ہوتی لیکن دریائے چناب کے کنارے ہیر رانجھے کا عشق تو چلتا رہا اور کچھ نہ چل سکا۔ سرگودھے اور لاہور کے درمیان کے راستے پر میں شاید ہزاروں بار سفر کرتا رہا اور انگریزوں کے بنائے ہوئے دریا کے پل سے گزرتا رہا لیکن کبھی یہ وہم و گمان میں نہ تھا کہ ہم جس راستے پر سفر کر رہے ہیں یہ کتنا دولت مند راستہ ہے مگر کیا اس راستے پر دریائے چناب کے کنارے واقع وہ مندر باقی رہے گا یا نہیں جہاں کئی روایات کے مطابق رانجھا جوگ لیتا تھا کہ اپنے عشق کی مراد پا سکے اب میاں شہباز شریف یہاں اپنی مراد پانے کے لیے جوگ لے رہے ہیں کسی ہیر کی تلاش میں ہیں۔