علاج دنداں اور سیاست کا نیا انداز

انسانی جسم میں سب سے زیادہ کام کرنے والے دانت ہوتے ہیں۔


Abdul Qadir Hassan April 05, 2014
[email protected]

انسانی جسم میں سب سے زیادہ کام کرنے والے دانت ہوتے ہیں۔ یہ دن رات چلتے ہی رہتے ہیں اور ان کو قابو رکھنے کے لیے انسان نہ جانے کیا کیا جتن کرتا ہے لیکن کثرت استعمال کے باوجود اگر کچھ دھیان کیا جائے تو جسم میں ان کی عمر بعض اوقات ان کے مالک کی عمر سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور لوگ دانتوں کے ذریعے کھاتے پیتے ہی مرتے ہیں۔ اگرچہ میں بھی کھاتا پیتا ہوں اور یہ عمل دانتوں کے ذریعے ہی جاری رہتا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کبھی کوئی غلطی ہو گئی تھی اور علاج دنداں، اخراج دنداں کا قدیمی اور آزمودہ نسخہ استعمال کرنا پڑ گیا۔ دانت میں درد ہوا تو فوراً اپنی مجلسوں کے ساتھی ڈاکٹر صوفی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ ان دنوں ٹمپل روڈ پر ایک دکان میں کلینک کرتے تھے۔

انھوں نے دانت کا درد کم کرنے کی دوائی دی۔ دوسرے دن بلایا اور علاج دنداں، اخراج دنداں کر دیا۔ دانت کے نکل جانے کا احساس مجھے آخر تک یاد ہے کیونکہ ہماری زندگی کا یہ پہلا موقع تھا کہ میرے جسم کا کوئی حصہ مجھ سے جدا ہو گیا تھا۔ بند رہنے والے منہ میں ایک دانت کے نکل جانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا لیکن بات وہی تھی کہ جسم کا ایک حصہ پہلی بار مجھ سے الگ ہوا تھا۔ اس کے بعد تو اعضاء کی محرومی کا صدمہ کئی بار دیکھا اور برداشت کیا لیکن یاد صرف پہلا صدمہ ہی رہا، دانت والا صدمہ۔ دانت نکلتے گرتے رہے لیکن کھانا پینا جاری رہا۔ بعض اوقات کھانا چبانے میں کچھ دقت ہوتی تھی چنانچہ میں نے اپنے مہنگے ترین ڈاکٹروں کو چھوڑ کر ایک اور سینئر ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ تجربے اور عمر کے سینئر اور ممتاز ڈاکٹر شاہد قیوم نے اخراج دنداں سے زیادہ اصلاح دنداں پر توجہ دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کام ذرا لمبا تو ہو گیا لیکن جتنا بھی ہوا سلیقے کے ساتھ ہوا، کسی درد کے بغیر اور فاقہ کشی کے بغیر صرف اتنی احتیاط ہوئی کہ اب دائیں طرف کے دانتوں سے کھانا ہے اور اب بائیں طرف کے۔ دانتوں کو ٹوپیاں پہنائی جا رہی ہیں اور اسی رنگ کی جو دانتوں کا رنگ ہے اس طرح گویا نقاب کے اندر بھی وہی رنگ ہے جو باہر ہے۔ اس طرح یہ دانت میرے دوغلے پن سے محفوظ ہیں اور یہ سب میرے ڈاکٹر کی مہربانی ہے اور ہنر مندی ہے۔

ڈاکٹری کے شعبہ جات میں سب سے گراں شعبہ دانتوں کے ماہرین کا ہے۔ سرکاری دوروں پر جب ملک سے باہر جانا ہوتا ہے تو وہاں کے سفارت کار ہمیں مطلع کرتے ہیں کہ خدا نہ کرے کوئی بھی تکلیف ہو تو علاج ہمارے ذمے لیکن دانتوں کا علاج نہیں کروا سکتے۔ یہ ہمارے قاعدے قانون میں نہیں ہے اور یہ کہ بہت زیادہ مہنگا ہوتا ہے اس لیے ہم کسی مہمان کی یہ ذمے داری نہیں اٹھا سکتے اور اپنی معذرت سے پیشگی مطلع کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سب سے مہنگے دانتوں کے ڈاکٹر ہیں، کئی ہزار والے۔ جب ڈاکٹر کے دفتر سے مجھے متوقع اخراجات کا پتہ چلا تو میں نے کہا کہ جو بہت ضروری ہے صرف انھیں دانتوں کا علاج کیا جائے لیکن معلوم ہوا کہ بیمار دانت کے آس پاس والے بھی بیمار ہی سمجھیں کیونکہ ہر بیماری اڑوس پڑوس کا لحاظ نہیں کرتی، سب کو لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اب میں آپ کو یہ تو نہیں بتاؤں گا کہ خرچ کتنا ہو گا کیونکہ ڈر ہے کہ آپ یہ سن کر میری ہمدردی میں چندہ کی مہم نہ شروع کر دیں لیکن خرچ بہرحال میری توفیق سے زیادہ ہے۔ ہماری دیہاتی زندگی میں کسی مقدمے پر زمین رہن رکھ کر یا بیچ کر بھی خرچ کیا جاتا ہے، اب ایک طبی مقدمہ سہی۔ ڈاکٹر صاحب نے میری ایک درخواست کو قبول کیا ہے اور مجھے کالم نویسی کی حد تک صحت مند رکھا ہے۔ ایلوپیتھی میں اتنی دوائیں ایجاد ہو چکی ہیں کہ وہ مریض کو درد سے بچا لیتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ٹیکے لگا کر جگہ سن کر دیتے ہیں اور بعد میں اگر درد کا خطرہ ہو تو دوا موجود۔ بہر کیف میں زیر علاج بھی ہوں اور کالم بھی لکھتا رہتا ہوں کہ دانت میں درد نہیں ہونے دیا جا رہا۔

یہ تو جو ہو گا وہ ہو ہی رہا ہے لیکن ہماری سیاست بھی درد دنداں میں مبتلا ہے۔ غریبوں کے لیے آنسو بہانے والوں کا حافظہ اس قدر کمزور ہے کہ چند دن پہلے کروڑوں روپے سندھ کے جشن پر صرف کرنے کا حادثہ بھول گئے۔ بھٹو کی یاد میں کی جانے والی تقریروں میں تھر کا مسئلہ سرفہرست رکھا گیا لیکن تھر کا یہ صحرا تو مدتوں سے موجود ہے اور پیپلز پارٹی کی ختم ہونے والی حکومت کے ہاتھ کس نے باندھ دیے تھے کہ وہ تھر کے پیاسوں اور بھوکوں کے لیے کچھ نہ کر سکی۔ اب تقریروں کے ذریعے ان کی پیاس اور بھوک مٹائی جا رہی ہے۔ تقریری سیاست کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ یہ ملک کے ساتھ ساتھ چلتا آ رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ ان دنوں چونکہ بھٹو صاحب کی برسی منائی جا رہی ہے اس لیے تقریری سیاست عروج پر ہے۔ اگر بلاول بھٹو نے رٹا نہیں لگایا ہوا تھا اور تقریر سے یہی اندازہ ہوتا ہے تو پاکستان کے ایک اور تقریری ڈرامے تماشے سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے۔ اندازہ تو یہی تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا سمجھوتہ جاری ہے اور دونوں جماعتیں باری باری کی حکومت کی پالیسی کو اپنائے ہوئے ہیں لیکن یہ سب اونچے لوگوں کے سمجھوتے اور مفاہمت ہے ہم عوام صرف اس کی سزا اور جزا ہی بھگت سکتے ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی اس نئی سیاست کو جاری رکھتی ہے تو ہم اس رونق اور تماشے سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے اور نعرہ زن رہیں گے۔ ہمارے حصے میں یہی نعرہ ہے۔ روٹی' کپڑا اور مکان۔

مقبول خبریں