تیسری طاقت… عمران یا جماعت
عمران خان کے علاوہ ایک انتہائی منظم اور نظریاتی جماعت ’’جماعت اسلامی‘‘ ہے جو مدت سے پاکستان کی سیاست میں موجود ہے
لاہور:
جماعت اسلامی منصورہ کے جناب انور نیازی صاحب نے شکایت کی ہے کہ ضیاء الحق کی کابینہ میں صرف جماعت اسلامی نہیں قومی اتحاد کی بعض دوسری جماعتوں کے نمایندے بھی شامل تھے جن میں بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان کے بھی دو وزیر تھے۔ میں نے کالم میں صرف جماعت کے وزراء کا ذکر کیا تھا۔ یہ عمل چونکہ جمہوریت کے خلاف تھا اس لیے اس کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے قومی اتحاد کی دوسری جماعتوں کا ذکر بھی مناسب ہے۔ اگرچہ جرم جرم ہی ہوتا ہے اور مجرموں کی تعداد میں اضافے سے وہ بے اثر نہیں ہو جاتا لیکن جماعت والے چونکہ زیادہ حساس ہو گئے ہیں اس لیے وہ اپنے خلاف کسی بات کو یا جسے وہ اپنے خلاف سمجھیں اسے بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں جب کہ یہ پورا کالم ہی جماعت کے حق میں تھا بلکہ بہت زیادہ حق میں لیکن سارا کالم چھوڑ کر اپنے خلاف کوئی مبینہ مخالفانہ بات تلاش کر لی گئی آخر اس سے زیادہ کالمانہ تعریف وہ کیا چاہتے تھے لیکن
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
قومی اتحاد جو پاکستانی عوام کا ایک نمایندہ اور محبوب سیاسی اتحاد تھا جب اس کے ارکان ضیاء حکومت میں شامل ہوگئے تو ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ جیسے اتحاد کا مقصد بھی اقتدار ہی تھا موقع ملتے ہی اسے لے لیا گیا۔ باغبان پورہ لاہور کا ایک نوجوان جو اس تحریک میں شہید ہو گیا تھا اتحاد کی اس کابینہ میں شمولیت کے دن اس نوجوان کے باپ نے اس کا ماتم شروع کیا اور یہ کہہ کر میرا بیٹا آج شہید ہوا ہے۔ نوابزادہ نصراللہ خان کے دو عدد وزیر تھے جب کہ ان کا اصرار اور ضد تھی کہ تین ہوں لیکن ضیاء کے پاس اس کی گنجائش نہیں تھی یا اس جماعت کے اتنے ہی کافی تھے۔ ولی خان کی جماعت کابینہ میں شامل نہیں ہوئی تھی عملاً یہ نو جماعتی اتحاد ایک فوجی آمر کی امداد کے لیے تھا۔ میں نے تو صرف اتنا لکھا تھا کہ جماعت کے وزراء بھی تھے۔ کوئی حاشیہ آرائی نہیں کی تھی۔ مجھے ایک بات کا افسوس ہے کہ جماعت کے صدر دفتر والوں نے میرا کالم پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی ورنہ اس میں ان کی تعریف بھی اتنی زیادہ ہے کہ انھیں اس میں اور کچھ دکھائی ہی نہیں دینا چاہیے تھا لیکن جماعت کی سیاسی محرومیوں کا میرے پاس کیا علاج ہے۔
آج اقتدار والوں کی سیاست دو حصوں میں تقسیم ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) ان دونوں نے آپس میں سمجھوتہ کر لیا ہے اور اب میاں نواز شریف صاحب کی باری جاری ہے۔ میاں صاحب نے دوستانہ اپوزیشن میں پانچ برس صبر اور خاموشی میں گزار دیے اور انھیں اس کا پھل مل گیا۔ اب بھی یہی سلسلہ جاری ہے کہ دونوں جماعتوں میں سے اگر کوئی دوسرے کے خلاف بات کرتا ہے تو اسے اوپر سے جھڑک دیا جاتا ہے اور یہ جھڑکیاں اخباروں میں خبروں کی صورت میں چھپا کرتی ہیں۔ اس طرح پاکستانی عوام کو یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار کی اپنی اپنی باری پر متفق ہیں۔
مویشیوں کی طرح پاکستانی عوام اگر گزشتہ پانچ برس تک ایک پارٹی کی رعایا رہے تو اب دوسری پارٹی کی رعایا بن جائیں گے لیکن قوم کے سیاسی شعور کے دانش وروں نے اس غیر سیاسی اور مفاداتی سمجھوتے کا حل یہ نکالا ہے کہ وہ ایک تیسری طاقت بھی میدان میں لے آئے ہیں اور وہ ہے عمران خان۔ اس لیڈر نے اگر دونوں جماعتوں کے لیڈروں کے جواب میں صاف ستھری سیاست کی، عوام کے دلوں میں اتر کر ان کی نمایندگی کی تو سیاست کی دنیا میں ایک تبدیلی ضرور آئے گی وہ کتنی بڑی یا چھوٹی ہوتی ہے اور فیصلہ کن ہوتی ہے یا نہیں بہر حال یہ بڑے سیاستدانوں کے لیے پریشان کن ضرور ہو گی اور سیاست کا میدان اتنا ہموار نہیں ہو گا جتنا اب دکھائی دے رہا ہے۔
عمران خان کے علاوہ ایک انتہائی منظم اور نظریاتی جماعت ''جماعت اسلامی'' ہے جو مدت سے پاکستان کی سیاست میں موجود ہے۔ یہ جماعت خوف خدا سے سرشار اور خدمت گزار لوگوں کا گروہ ہے۔ آج بھی عوام کی خدمت کا سب سے بڑا ادارہ جماعت کا ہے۔ ملک بھر میں کوئی آبادی ایسی نہیں جہاں جماعت کا کوئی کارکن سرگرم نہ ہو اور کوئی پاکستانی ایسا نہیں جسے جماعت کی حب الوطنی پر شبہ ہو۔ جماعت قربانی دینے والوں کی جماعت ہے۔ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کی مثال دنیا بھر کے سامنے ہے۔ پاکستان میں اگر جماعت کے کچھ لوگ محفوظ ہیں تو یہ ان کو پھانسی دینے والوں کی بزدلی ہے ورنہ جماعت کے لوگوں نے تو سر ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں اگر کوئی صاف ستھری اور پرعزم جماعت ہے تو یہ جماعت اسلامی ہے۔
سید مودودی کی تربیت کے اثرات کسی حد تک اب تک باقی ہیں کچھ فنکاروں نے جماعت کو بھی ایک روائتی پاکستانی جماعت بنانے کی کوشش کی مگر جماعت کی مضبوط جمہوری روایات کو وہ مغلوب نہ کر سکے۔ جماعت حیرت انگیز حد تک ایک جمہوری جماعت ہے جو جمہوری اصولوں اور نظریات کو ایمان اور اسلام کا حصہ سمجھتی ہے۔ نیچے سے اوپر تک اس کا جماعتی نظم جمہوری ہے اور یوں جماعت ایک انتہائی جدید اور ترقی پسند جماعت ہے جس میں آمریت کی ذرہ بھر گنجائش نہیں ہے۔ جماعت جو بھی ہے سب کے سامنے ہے اور اس کے امیر کے حالیہ الیکشن نے اس کے عملی نظریات کو واضح کر دیا ہے۔
دو بڑی جماعتوں کے سامنے جماعت خود ایک روشن حقیقت ہے جسے کسی قسم کی تعریفی حاشیہ آرائی کی حاجت نہیں۔ دو بڑی جماعتوں کے مقابلے میں عمران خان کا جو ذکر کیا ہے جماعت اس کے برابر کا ایک سیاسی وجود ہے۔ جماعت جیسی بھرپور سیاسی تنظیم کے بعد پاکستان میں کسی اور سیاسی جماعت کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے لیکن ایسا کیوں نہیں اور جماعت میں ایسی کیا کمزوری ہے جو اسے اٹھنے نہیں دیتی اور عمران خان جیسے نووارد سامنے آ جاتے ہیں اور جماعت جیسی مضبوط اور پختہ سیاسی جماعت کے لیے مشکل بن جاتے ہیں۔