میاں صاحب بھوک مٹائیے ملک بچائیے
ملک کے حالات سامنے رکھ کرمناسب ہوگا کہ ملک کے اچھے اور کارکن افراد کو جمع کر کے ان کے ذمے ملک کے مسائل پیش کیے جائیں
طول طویل فوجی حکومتوں کے بعد خدا خدا کر کے ایک عوامی سویلین حکومت قائم ہوئی لیکن وہ ابھی جم کر بیٹھی نہیں تھی کہ ہماری بدقسمتی سے دونوں طرف سے تقریروں میں بدگمانی کا اظہار ہونے لگا۔ حکمرانوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ انھوں نے جیسی حکومت قائم کی ہے اسے کوئی ایک اکیلی پلٹن بھی چلتا کر سکتی ہے اور فوجی حکومتوں کے عادی عوام اس پر خاموش نہیں رہیں گے بلکہ حسب سابق سیاستدانوں کا ایک ہجوم فوجی حکمران کو اپنے گھیرے میں لے لے گا اور ایک دوسرے سے بڑھ بڑھ کر سابقہ حکومت کی مذمت کرنے لگے گا۔ یہ منظر ہم نے ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک دیکھا ہے اور اسے برداشت کیا ہے تو ایک دفعہ اور سہی۔
میرے جیسے خبروں کی گہرائی اور پس منظر سے ذرا دور رہنے والے صحافی کے لیے یہ سب کچھ اگرچہ نیا نہیں مگر اس طرح تعجب کا باعث ضرور تھا کہ اب تو ہمارے عوام کو سبق حاصل کر لینا چاہیے تھا اور اپنی فوج کو اس غیر فوجی مصروفیت سے بچانا چاہیے تھا۔ ہماری جان کے دشمن حکومتوں کی کیا کمی ہے کہ ہم اپنا وقت اور توانائی اس طرح کے کسی فضول کام پر ضایع کریں مگر ہماری بدقسمتی سے تعلقات میں جو خواہ مخواہ تلخی پیدا ہوئی تھی وہ ہو ہی گئی مگر نہ جانے کس وجہ سے اب تعلقات بظاہر سنبھل رہے ہیں۔ فریقین دست پنجہ ملا رہے ہیں اور فوج اور سول کی گاڑی ایک ہی پٹڑی پر پھر سے چل رہی ہے۔ ملک کے حالات اور اڑوس پڑوس میں جو ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم پر یہ باہمی چپقلش خدائی مار تھی اس سے کم کا لفظ میرے پاس موجود نہیں۔
اس تلخی اور ناچاقی کی میرے پاس کوئی وجہ موجود نہیں ہے ایک سابقہ کمانڈر انچیف پر مقدمہ اور وہ زیر تفتیش لیکن کتنے ہی پاکستانی ایسے مقدموں سے گزر رہے ہیں اور مخدوش حالات کو بھگت رہے ہیں۔ ایک فوجی سربراہ جسے اس کے وکیلوں کے سوا اور کوئی بھی بے گناہ قرار نہیں دیتا اگر عدالت میں حاضر ہے تو اس میں کون سی اچنبھے کی بات ہے مگر ہماری قومی قسمت کہ ہم اس دنیا میں ایک نارمل قوم نہیں ہیں بلکہ اب تو ہم خود بھی اپنے آپ کو نارمل نہیں سمجھتے اور یہ کچھ غلط بھی نہیں ہے ہمارا ہر روز کا اخبار ہمیں ہماری حالت کی خبر دیتا ہے بگاڑ اتنا زیادہ ہے کہ اسے چھپایا نہیں جا سکتا۔ ہم اپنے اخبارات میں اپنی حالت خود ہی دیکھتے ہیں اور خود ہی شرماتے ہیں۔ بہر کیف اب تو اختلاف کی گرد کچھ بیٹھ گئی ہے۔
وزیر اعظم کو ان کے سیاسی حلیف جناب آصف علی زرداری نے تعاون کا یقین دلایا ہے میاں صاحب نے اس تعاون سے کچھ اطمینان محسوس کیا ہو گا۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان کے تیز مزاج وزیر بھی کچھ مطمئن ہوئے ہیں یا نہیں۔ ایسے موقعوں کے لیے ایک جملہ بہت مشہور ہے لیکن میاں صاحب کے احترام میں اس کو نقل نہیں کیا جا سکتا۔ میاں صاحب نے اپنے ارد گرد جو لوگ جمع کر لیے ہیں وہ کسی ملک کو چلانے کے لیے موزوں نہیں ہیں لگتا ہے کہ افراتفری میں یہ لوگ رکھ لیے گئے ہیں جو اپنا چھپا ہوا خاص جوہر دکھا رہے ہیں۔ ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا کہ استعفوں کی باتیں ہو رہی ہیں اور جو کام ان کے ذمے لگائے گئے تھے۔ وہ ان کے قریب بھی نہیں ہیں فی الحال ان کی وزارتی سرگرمیاں دھمکیوں تک محدود ہیں۔ وہ لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں اور اسی میں اپنے اقتدار کی مضبوطی سمجھتے ہیں جب کہ میاں صاحب جیسے متحمل مزاج آدمی کے لیے یہ سب قابل قبول نہیں ہے۔ انھیں ملک چلانا ہے، ایک مشکل ملک۔
پاکستانی تاریخ کے غیر فوجی یعنی سویلین حکمرانوں میں میاں نواز شریف ایک بہت اچھے اور شرم و حیا والے حکمران ہیں۔ کسی کو ان سے شکایت نہیں ہے۔ وہ انسانوں کے ساتھ انسانی سلوک کے قائل ہیں وہ جی بھر کر بار بار اقتدار میں رہے ہیں مگر کس شخص نے ان کے غیر شائستہ سلوک کی شکایت نہیں کی۔ انھیں ایک اچھا انسان اور حکمران پایا گیا۔ ان کی حکومتی پالیسیوں سے اتفاق یا اختلاف الگ بات ہے لیکن ان کے حسن سلوک کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ میں چونکہ اقتدار کی راہداریوں اور ایوان سے بہت دور ہوں اس لیے یقین کے ساتھ کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن ان کی طرف سے کوئی بدخبری بھی موصول نہیں ہوئی۔ میری معلومات کے مطابق میاں صاحب وہی ہیں جو ہوا کرتے تھے۔
ایک مسکراتا ہوا چہرہ اور گرم جوش ہاتھ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جو لوگ میاں صاحب کی کابینہ میں ہیں وہ میاں صاحب سے متعارف نہیں ہیں یا اب میاں صاحب کچھ بدل گئے ہیں لیکن جو تبدیلی سامنے آ رہی ہے یہ ان کے پرامن اور تادیر اقتدار کے لیے مناسب نہیں ہے۔ بار بار کے مارشل لاء سے فوج کی جھجھک دور ہو چکی ہے۔ قوم کو مارشل لائوں سے جو قومی نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا ہے۔ سقوط ڈھاکہ سے بڑھ کر اور کیا ہو گا اس لیے فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ میرے خیال میں مناسب نہیں ہے۔ جنرل مشرف کو ایک ناپسندیدہ مارشل لاء سمجھ کر پی جانا چاہیے اور اسے بھی مارشل لاء کی سزا سمجھ کر برداشت کر لینا چاہیے۔ ہم نے نہ تو اس سے قبل کبھی فوجی حکومت کا مقابلہ کیا ہے نہ اب مقابلہ کر سکتے ہیں بہتر یہی ہے کہ صلح صفائی کر لی جائے۔
اس وقت ملک کے حالات کو سامنے رکھ کر مناسب ہو گا کہ ملک کے اچھے اور کارکن افراد کو جمع کر کے ان کے ذمے ملک کے مسائل پیش کیے جائیں اس ضمن میں میاں شہباز شریف ایک آئیڈیل شخص ہیں جو کام کرتے بھی ہیں اور کام لینا بھی جانتے ہیں۔ ان کے تعاون اور رائے کے مطابق ایک غیر رسمی کابینہ تشکیل دی جائے یعنی اراکین اسمبلی پر مشتمل ہی نہیں بلکہ باہر سے بھی لوگ لیے جائیں اور معاشی بحران ان کے سپرد کر دیا جائے یہ بحران ہماری تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ حضور پاکﷺ نے فرمایا ہے کہ افلاس کفر کے قریب لے جاتا ہے۔
ہم افلاس کے خلاف جنگ کریں تو اس میں کامیابی یقینی ہے بشرطیکہ اس جنگ میں غربت و افلاس کے دشمن شامل ہوں اور کس کو معلوم نہیں کہ افلاس اور غریبی کیسے آئی ہے اور کیسے جائے گی۔ ہمیں چند جانثار لوگوں کی ایک ٹیم درکار ہے جو اپنے نفس کو مار کر کچھ وقت کے لیے ملک کو ہی سب کچھ سمجھ لے ہمارے عوام نیک اور کرپشن فری ہیں انھیں کرپٹ بنایا جاتا ہے اور جب ان سے دیانت کی بات کی جائے تو اسے بڑھ کر گلے لگا لیتے ہیں۔ بہر کیف معاشی بحران بھی ایسا نہیں جو قابو سے باہر ہو ہم نے کون سی دنیا پر حکومت کرنی ہے کہ ڈالر پر مرتے رہیں۔ ہمارے لیے گندم کا دانہ اور روپیہ ہی بہت ہے اور چند باکردار لوگ۔