بحرانوں کی یلغار اور حکومتی میڈیا ٹیم کی کارکردگی

گلو بٹ نامی شخص نے لاہور میں ادارۂ منہاج القرآن کے عین سامنے پولیس کے جوانوں اور سینئر پولیس افسران کی


Tanveer Qaisar Shahid June 24, 2014
[email protected]

شمالی وزیرستان میں پناہ یافتہ دہشت گردوں کے خلاف، حکومتی ایما پر، فوجی آپریشن پوری شدت و حدت اور کامیابی سے جاری ہے۔ ملک کے بیس کروڑ عوام اور تمام سیاسی جماعتیں شدت پسندوں کے حتمی خاتمے کے لیے ملٹری آپریشن کی دل و جان سے حمایت کر رہی ہیں۔ نااتفاقی اور عدم توجہی اب کسی بھی طرح افورڈ نہیں کی جا سکتی۔ حساسیت کا یہ عالم ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے سری لنکا کے لیے اپنا چار روزہ دورہ تو منسوخ کر دیا لیکن وزیر اعظم جناب نواز شریف تاجکستان کے دو روزہ دورے پر تشریف لے گئے۔

یہ دورہ بعض تجزیہ نگاروں اور واقفانِ درونِ خانہ کے نزدیک اتنا اہم بھی نہ تھا لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم صاحب خود کو دورے پر جانے سے نہ روک سکے۔ ایسے میں ان کے سیاسی حریفوں کو یہ کہنے کا موقع ملا ہے کہ وزیر اعظم صاحب نیم دلی سے وزیرستان کے ملٹری آپریشن کی حمایت کر رہے ہیں۔ تِیلی لگانے اور نواز شریف کے بارے میں منفی تاثر پھیلانے والے یہ بھی پروپیگنڈہ کرتے نظر آ رہے ہیں کہ آپریشن کے بارے میں وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں جو تقریر کی، اس میں روح تھی نہ جذبہ۔

اور یہ پروپیگنڈہ بھی کہ مولانا طاہر القادری کے درجن بھر کارکنوں کے قتل کا اصل مقصد یہ ہے کہ ن لیگی حکومت شمالی وزیرستان کے آپریشن کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔ اس پروپیگنڈے سے ہم خواہ کتنا ہی عدم اتفاق کریں لیکن یہ تاثر مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔ افسوس کی مگر بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کی میڈیا ٹیم اس پروپیگنڈے کے توڑ اور اس منفی تاثر تو ختم کرنے میں کوئی دلچسپی لے رہی ہے نہ اس الزاماتی یلغار کے آگے کوئی بند باندھتے نظر آ رہی ہے۔

گلو بٹ نامی شخص نے لاہور میں ادارۂ منہاج القرآن کے عین سامنے پولیس کے جوانوں اور سینئر پولیس افسران کی موجودگی میں جس آزادی اور وحشت کے ساتھ توڑ پھوڑ، تباہی اور لوٹ مار کا مظاہرہ کیا، اس سے یہ تاثر مستحکم ہوا ہے کہ وہ پولیس کا گماشتہ ہے ۔اس سانحہ سے پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کی نیک نامی کو یقینا دھچکا لگا ہے۔ گلو بٹ، جسے ایک انگریزی معاصر میں ''غنڈئہ اعظم'' (Vandal-in-Chief) کہا گیا ہے، کو پنجاب پولیس خصوصاً لاہور پولیس کے افسرانِ بالا کی شہ اور حمایت حاصل تھی تو اس الزام سے صوبائی وزیر قانون کسی طرح محفوظ رہ سکتے تھے؟

گلو بٹ، جسے وفاقی وزیرِ خزانہ نے اُلو بٹ کا نام بھی دیا ہے، سے مسلم لیگ (نون) کی چھوٹی بڑی قیادت لاتعلقی اور اس کے قابلِ مذمت کردار سے برأت کا اظہار کر رہی ہے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم کے میڈیا منیجرز نے ملکی میڈیا اور سوسائٹی میں مستحکم ہو جانے والے اس تاثر کو مٹانے کی ذرا برابر بھی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس شخص کو لیگی حکومت کی سرپرستی حاصل نہیں تھی۔ خصوصاً جناب وزیر اعظم کی میڈیا ٹیم کی یہ لاپرواہی اور لاتعلقی نہ صرف ان کے متعینہ سرکاری فرائض سے غفلت برتنے کا اظہار ہے بلکہ یہ کردار اس امر کی بھی چغلی کھاتا ہے کہ ان متعلقہ افراد کو سرے ہی سے مسلم لیگ نون کی تیزی سے بگڑتے تاثر کے خاتمے میں قطعی کوئی دلچسپی نہیں۔

مسلم لیگ نون، خصوصاً اس کی اعلیٰ ترین قیادت کے بارے میں کبھی یہ خیال نہیں تھا کہ یہ سیاسی جماعت طاقت و حشمت سے اپنے سیاسی دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی آرزو رکھتی ہے لیکن تازہ حالات نے اس تاثر میں شگاف ڈالا ہے بلکہ یہ نیا تاثر پختہ کیا ہے کہ مسلم لیگ نون کے اقتدار کی چونکہ یہ آخری باری ہے، اس لیے مبینہ طور پر وہ با جبروت بن کر اپنے راستے کی ہر رکاوٹ ختم کرنے کے متمنی ہیں۔ اس کے لیے انھیں صوبہ بھر میں قانون کے نفاذ میں دلچسپی ہے نہ عوامی احساسات کی پروا۔ ممکن ہے اس احساس کو غلط قرار دیا جائے لیکن یہ احساس روز افزوں ہے اور میڈیا اسے بوجوہ ابھارتا چلا جا رہا ہے۔

ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ حکومت کے وہ ذمے داران جن کا کام ہی یہ ہے کہ دلیل و برہان اور میڈیا سے گہرے رابطوں کے ذریعے حکومت کے بارے میں پھیلتے اس منفی تاثر کا خاتمہ کیا جائے، ایسا لگتا ہے کہ وہ غفلت کی گہری نیند سو رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ مسلم لیگ نون کی حکومت یکا و تنہا ہو کر دوستوں سے تیزی کے ساتھ محروم ہو رہی ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اس کے بہی خواہوں کی تعداد روز بروز کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔

یہ بات انتہائی احساسِ ذمے داری کے تحت رقم کی جا رہی ہے کہ ملک بھر میں عموماً اور پنجاب بھر میں خصوصاً یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ مسلم لیگ نون کے چار پانچ اہم ترین افراد ملک میں جناب نواز شریف کی حکومت کے لیے منفی جذبات پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ پانچوں افراد وزیر اعظم کے لیے Liability بن چکے ہیں۔ یقینا مسلم لیگ نون کے کرتا دھرتا اس تاثر سے اتفاق کریں گے نہ اسے قابلِ توجہ ٹھہرائیں گے لیکن واقعہ یہی ہے۔

مختلف تجزیہ نگار اور کالم نویس حضرات وزیر اعظم محمد نواز شریف سے بعض بیانات منسوب کر کے بات کا بتنگڑ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جناب وزیر اعظم کی میڈیا ٹیم اپنے باس کے بارے میں پیدا ہونے والے منفی تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتی نظر نہیں آتی۔ کسی بھی ملک کے چیف ایگزیکٹو سے منفی بات منسلک و منسوب کرنا اس کی سیاسی کردار کشی کے مترادف ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف صاحب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے بھارت گئے لیکن میاں صاحب کے بارے میں بھارتی شخصیات کے حوالے سے نہایت منفی اور گمراہ کن تاثر مستحکم کرنے کی مہمات جاری ہیں، نواز شریف کی میڈیا ٹیم اس کج ادا تاثر کو تحلیل کرنے میں قطعی ناکامی کا منہ دیکھ رہی ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ جناب نواز شریف ان خبروں، جنھیں ایک خاص مقصد کے تحت حقائق کا نام دیا جا رہا ہے، سے بالکل بے خبر اور ناآشنا ہوں کہ انھیں اس منفی تاثر اور پروپیگنڈے کی ہوا ہی نہ لگنے دی جا رہی ہو۔ اگر ایسا ہے تو یہ ان کی میڈیا ٹیم کی ایک بڑی مجرمانہ حرکت ہو گی۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ امریکا کے ممتاز ترین اخبار ''نیویارک ٹائمز'' کے ادارتی صفحات پر گزشتہ دنوں لیگی حکومت کے بارے میں انتہائی منفی تاثر کے حامل آرٹیکل شایع ہوئے ہیں لیکن وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے میڈیا منیجرز نے ان کا بھی ترنت اور فوراً جواب دینے میں (دانستہ؟) غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس غفلت شعاری سے حکمرانوں کا نقصان تو ہو ہی رہا ہے، قومی اور بین الاقوامی سطح پر وطنِ عزیز کی نیک نامی بھی منفی طور پر متاثر ہو رہی ہے۔

مقبول خبریں