ملکہ نُور جہاں اور سیاستدانوں کا لاہور

ہندوستان کے مغل شہنشاہ کی ملکہ اور اپنے وقت کی حسین ترین خاتون ملکہ نور جہاں کسی لمحے شہر لاہور کے جادو پر مر مٹی


Abdul Qadir Hassan July 23, 2014
[email protected]

ISLAMABAD: ہندوستان کے مغل شہنشاہ کی ملکہ اور اپنے وقت کی حسین ترین خاتون ملکہ نور جہاں کسی لمحے شہر لاہور کے جادو پر مر مٹی اور اس نے کہا کہ

لاہور را بہ جان برابر خریدہ ایم

جاں دادہ ایم و جنت دیگر خریدہ ایم

کہ لاہور کو اپنی جان کے عوض حاصل کیا ہے یعنی اپنی جان دی ہے اور لاہور کی صورت میں دوسری جنت خریدی ہے۔ راوی کے کنارے آباد مغلوں کا دارالحکومت ایک سچ مچ کی زمینی جنت تھی جسے پا کر وقت کی ملکہ نے خدا کا شکر ادا کیا تھا۔ آج یہی جنت عہد حاضر کے ''مغلوں'' کی ملکیت میں ہے اور نیو یارک میں مقیم کوئی پطرس بخاری کسی صوفی تبسم سے یہ پوچھنے والا نہیں کہ کیا راوی آج بھی مغلوں کی یاد میں آہیں بھرتا ہے، اس کی یہ آہیں مغلوں کے ٹھکانوں سے دوری سے قدرے مدھم پڑ گئی ہیں اور خود مغلوں کا لاہور بھی اب نئے دور میں بدلتا جا رہا ہے جس کو ملکہ نور جہاں نے جان کے عوض خریدا تھا بس تاریخ یونہی دنوں کو پھیرتی ہے۔

یہ شہر لاہور نور جہاں کی یادیں لے کر ادھر کچھ عرصہ سے ایک نئے دور میں داخل ہوا ہے۔ اب یہ ایک سیاسی شہر ہے، کسی ملکہ کا نقش نہیں ہے، برصغیر ہند میں یہ شہر سیاست کا مرکز رہا اور اس خطے کے سیاسی فیصلے یہیں اس شہر میں ہوتے رہے پھر وقت نے ایک اور کروٹ لی اور برصغیر دو حصوں میں بٹ گیا تب بھی سیاست کے فیصلے لاہور میں ہی ہوتے رہے اور اب جب کہ وقت کی رفتار زندہ ہے لاہور کی سیاسی بادشاہت نئے دارالحکومت کے نئے ٹھکانوں میں منتقل ہو گئی ہے۔

لاہور کا موچی دروازہ جس کی جلسہ گاہ میں برصغیر کے ہر لیڈر نے قوم سے خطاب کیا تھا اور جن کی آوازیں اس کی فضائوں میں گم ہو چکی ہیں اب بچوں کے کھیل کا میدان ہے اور لاہور شہر رفتہ رفتہ اپنی سیاسی سلطنت سے دستبردار ہو رہا ہے اس شہر کے گلی کوچے اور تہذیبی مرکز خاموش ہوتے جا رہے ہیں اور ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی پرانے لاہور کی محفلوں کی یاد تازہ کرے۔ گزشتہ دنوں افطاری پر احمد ریاض شیخ صاحب اور ان کی بیگم نے لاہوریوں کو یاد کیا اور ایک سیاستدان کی افطاری ایک سیاسی اجتماع بن گئی۔

اس مجلس میں مجھے سیاسی کارکن ملے اور لیڈروں سے ملاقات ہوئی۔ کل کے اور آج کے سیاسی کارکن اور ان کے رہنما اب نئی جماعتوں کے لیڈروں اور سیاست کی بات کرتے ہیں اور انھیں آج کی سیاست کی بات ہی کرنی ہے لیکن افسوس کہ ہماری سیاست اب معنی اور مقصد سے خالی ہوتی جا رہی ہے۔ الیکشن ہو چکے جس کو جو ملنا تھا مل گیا اب اسی اثاثے کو لے کر چلنا ہے لیکن کارکن اور لیڈر بے قرار کہ حالات بدلیں اور الیکشن میں محروم رہنے والے بھی ایک بار پھر حکمرانی کی سیاست میں دھومیں مچا سکیں۔

راولپنڈی ہو یا اسلام آباد یہ دونوں جڑواں شہر غیر سیاسی شہر ہیں۔ راولپنڈی ہمیشہ ایک غیر سیاسی فوجی شہر رہا اور اسلام آباد کا دارالحکومت سرکاری ملازمین کا شہر بنایا گیا اس شہر کے بنانے والے بریگیڈئیر یحییٰ خان اونچی پہاڑی پر بیٹھ کر نیچے بسائے جانے والے شہر کا نقشہ ترتیب دیا کرتے اور کہتے کہ یہ جگہ بابوؤں کے لیے موزوں ہو گی کہ یہاں ہوائی حملہ نہیں ہو سکتا۔ اس شہر کو بسانے والی کمیٹی کے ایک رکن جو کیمبل پور کالج کے پرنسپل بھی تھے کہا کرتے کہ جس شہر میں حسن والوں کا کوٹھا نہ ہو اور جس میں کپاس دھننے کی دکان نہ ہو وہ کیا شہر ہوا لیکن فوجی یحییٰ خان کے ذہن میں یہ نفیس بات نہیں آتی تھی۔

صرف ایک کوٹھا اسے یاد رہا لیکن وہ بھی یہاں اس شہر میں بن نہ سکا۔ بہر حال یہ دونوں شہر جنھیں جڑواں شہر نہ جانے کس رعایت سے کہا جاتا ہے اپنی تخلیق میں سراسر مختلف اور غیر سیاسی شہر ہیں لیکن وقت نے ایک نئے شہر کے چوک کو یہاں کا موچی دروازہ بنا دیا ہے۔ ڈی چوک اسلام آباد کا یہ خوبصورت چوک ہمارے لاہور کا موچی دروازہ ہر گز نہیں۔ موچی دروازے کے کسی کلاسیکی جلسے میں مخالف جلسہ بگاڑنے کے لیے کہیں سے بھینس لا کر جلسہ گاہ میں چھوڑ دیتے تھے لیکن یہاں کے ڈی چوک میں یہ سب ممکن نہیں۔ پھر یہ کیسی سیاسی جلسہ گاہ ہے اور یہ کیسا شہر ہے جس میں طوائف کا کوٹھا نہیں اور دُھنیے کا پنیجا نہیں ہے۔

ہمارے نئے سیاستدانوں کی پوری کوشش ہے کہ اسلام آباد کے خوبصورت شہر کو سیاست سے گندا کر دیں، یہ سیاستدان لاہور جیسے پرانے سیاسی شہروں سے ڈرتے ہیں جن کے حاضرین میں سے کئی ایک ان لیڈروں سے زیادہ سیاست جانتے ہیں اور جلسوں میں سوال کرنے سے ہچکچاتے نہیں ہیں۔

ایک مقرر لیڈر سے پوچھا گیا کہ ہمارا پہلا چندہ کہاں گیا جو نیا مانگ رہے ہیں جواب ملا کہ جس نے حساب مانگنا ہو وہ چندہ نہ دے اور ووٹ کے جواب میں کہا کہ وہ تو صندوقچی میں ہی رہ گیا ہے کسی نے نکالا ہی نہیں اور میں اس کے بغیر ہی ممبر بن گیا ہوں۔ موچی دروازے کے قریب بھینیس بھی پھرتی ہیں اور سپیرے بھی، بھینس اور سانپ دونوں ہی جلسہ خراب کرنے کے آزمودہ نسخے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ بعض جماعتوں کے کارکن جلسہ گاہ کے قریب سے بھینس ہٹوا دیتے ہیں اور سپیروں کو کچھ دے دلا کر ادھر ادھر کر دیتے ہیں کہ ان کے لیڈر بے فکر ہو کر جو جی میں آئے کہتے رہیں۔

اسلام آباد میں یہ سب نہیں ہو سکتا اور شیخ ریاض صاحب نے لاہور میں اپنی افطاری میں جس تاریخی سیاست کو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے وہ اب پرانا قصہ ہے لیکن لاہور میں پھر بھی اتنی جان ہے کہ وہ ماضی کو زندہ کر سکتا ہے اور موچی دروازہ بہر حال اب بھی موجود ہے جس میں ملک غلام مصطفیٰ نے پکا اسٹیج بنوایا تھا۔ لاہور میں نور جہاں کا دل دھڑکتا ہے تو سیاست کا بھی اصل مرکز یہی شہر ہے جہاں سیاست رنگ دکھاتی ہے۔

مقبول خبریں