عوام اور حکومت

ایک عام شہری کو سرکار نظر آتی ہے مگر اکثر دور اور کبھی کبھار ناکام


سرور منیر راؤ January 04, 2026

ریاست اور شہری کے درمیان تعلق ایک معاہدے کی طرح ہے۔ شہری قانون کی پابندی کرتا ہے، ٹیکس دیتا ہے، نظم و ضبط قبول کرتا ہے اور بدلے میں ریاست اسے تحفظ، انصاف اور روزگار کے مساوی مواقع کی ضمانت دیتی ہے۔

جب یہ تعلق کمزور پڑ جائے تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ حالات ٹھیک ہیں لیکن عملاً صورتحال مختلف ہوتی ہے، اس کا مطلب ہے کہ حکومتی نظام درست کام نہیں کررہا اور یہی وہ نکتہ ہے جس سے مسائل جنم لیتے ہیں۔

دنیا میں بہت سے ملک یسی ہی صورتحال سے دو چار نظر آتے ہیں۔ جہاں عوام کا نظام پر اعتماد کمزور نظر آتا ہے۔ ایسے ممالک کے شہری خود کو معاشی، سماجی اور نفسیاتی طور پر غیر متعلق محسوس کرتے ہیں۔ قانون موجود ہوتا ہے مگر عملاً انصاف یا تو دستیاب نہیں یا تاخیر سے ملتا ہے۔

ایک عام شہری کو سرکار نظر آتی ہے مگر اکثر دور اور کبھی کبھار ناکام ۔ حکومتیں اگر شہری کو مطمئین دیکھنا چاہتی ہیں تو انھیں شفافیت، جوابدہی اور انصاف کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوتے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان میں بھی طبقہ اشرافیہ کے لیے نرمی، کمزور کے لیے سختی کا تصور ملتا ہے۔ یہ تاثر چاہے درست ہو یا غلط لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تاثر موجود ہے ۔

عام شہری جب یہ دیکھتا ہے کہ اس کی آواز مؤثر نہیں، شکایت کے ازالے کا راستہ پیچیدہ اور مہنگا ہے ، تو وہ لاتعلق ہو جاتا ہے ۔ یہ لاتعلقی بظاہر سکون کو ظاہر کرتی ہے مگر طویل مدت میں تک برقرار نہیں رہتی ہے۔

تاریخ اقوام عالم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جہاں پالیسی سازی میں شہری کی رائے شامل ہوتی ہے وہاں ریاست اور شہری کا رشتہ بحال رہتا ہے۔

بد قسمتی سے پاکستان میں اس رشتے کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کی بجائے محض نعروں اور بیانات سے کام لیا جاتا ہے۔ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سیاسی تنقید دشمنی نہیں ہوتی، اختلاف رائیکا مطلب انتشار بھیلانا نہیں ہوتا بلکہ حزب اقتدار کو رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اعتماد صرف حکومتی اقدامات سے نہیں پیدا ہوتا بلکہ اس میں اپوزیشن کا اہم کردار ہوتا ہے کہ وہ بھی انتشتار پھیلانے سے گریز کرے ۔

اگر ہم واقعی ایک مستحکم پاکستان چاہتے ہیں توحزب اقتدار اور حزب اختلاف کو شہریوں کے مفاداتکو مزید مضبوط کرنا ہوگا اور یہ صرف قانون کی شفافیت اور غیرجانبدار انصاف اور مکالمے کے ذریعے ہی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ ممالک میں سے بھی کئی ایسے ہیں جو ہم سے ملتے جلتے حالات کا شکار رہے ہیں اور پھر کامیابی سے اپنے حالات بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ان ممالک نے اپنی سمت درست کی، ابتدا میں خود احتسابی کا راستہ اپنایا اور پھر اصلاحات کا عمل شروع کیا اور منزل کو پا لیا۔ برطانیہ بھی انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب کے بعد اسی نوعیت کے مسائل سے دوچار ہوا تھا۔

مزدور اور غریب کے درمیان فرق بہت زیادہ تھا، قانون امیروں کا محافظ سمجھا جاتا تھا۔ پھر ریاست نے مقامی حکومتوں اور آزاد عدالتی نظام کو مضبوط کیا، جس سے شہری کو یہ احساس ہوا کہ قانون اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

اسی طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان میں ریاستی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور شہری شدید بداعتمادی کا شکار تھے۔ جاپانی ریاست نے طاقت کے بجائے کارکردگی اور شفافیت کو بنیاد بنایا، بیوروکریسی کو جوابدہ کیا گیا، تعلیم اور مقامی نظام حکومت یا بلدیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا، شہریوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کیا گیا۔

نتیجتاً اعتماد بحال ہوا اور ریاست مضبوط ہوئی۔ اسکینڈینیوین ممالک خصوصاً سویڈن، ڈنمارک اور ناروے جو اس وقت دنیا بھر کی مثالی ویلفیئر ریاستیں ہیں، وہاں کے شہری بھی ماضی میں ریاستی طاقت اور شہری آزادی کے توازن میں بحران کا شکار رہے۔

ان ممالک نے بحران سے نکلنے کے لیے قانون کی بالادستی کو کو یقینی بنایا، ٹیکس دینے والوں کے لیے معیاری سہولیات فراہم کیں اور شفافیت کو حکمرانی کا بنیادی اصول بنایا۔ سویڈن، ناروے اور ڈنمارک اس کی مثال ہے۔

ان تمام مثالوں سے یہی سبق ملتا ہے کہ اعتماد بیانات اور نعروں سے نہیں بلکہ عمل سے بحال ہوتا ہے۔ جب شہری کو بینادی ضروریات میسر آتی ہیں، اس کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے اور قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے تو عوام کا حکومت پر اعتماد بحال ہوجاتا ہے۔
’’صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے‘‘

مقبول خبریں