چائینہ کی آبادی آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کی آبادی 2100میں نصف رہ جائے گی۔ چائینہ اپنی آبادی کی انجینئرنگ کر رہا ہے ۔ اور اس پلاننگ پر پچھلی کئی دہائیوں سے عمل پیرا ہے ۔
اس وقت چین کی آبادی تقریباً 1.4بلین ہے جب کہ 2050میں یہی آبادی کم ہو کر 1.3بلین ہو جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق 2100 میں چین کی آبادی 770ملین رہ جائے گی یعنی 77کروڑ ۔کیونکہ چین دنیا کی سپر پاور بننا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی آبادی اپنے وسائل کے مطابق منیج کرے ۔ ہر لمحہ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک مستقل طور پر پسماندہ رہ جاتے ہیں ۔ ماضی میں چین کی آبادی بہت زیادہ تھی۔ 1979 میں انھوں نے ایک بچے کی پالیسی اپنائی ۔اس طرح آبادی میں کمی آنا شروع ہوگئی لیکن جلد ہی یہ صورتحال سامنے آئی کہ ان کی آبادی میں بوڑھوں کی تعداد بڑھ گئی اور بچوں اور جوانوں کی تعداد تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئی ۔
یہ صورت حال تشویشناک تھی چنانچہ سوچ وبچار کے بعد دو بچوں کی پالیسی اپنائی گئی لیکن اس کے باوجود جوانوں کی تعداد کم ہوتی گئی آخر کار 2021میں چین نے تین بچوں کی پالیسی اپنائی ۔اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک چین نہیں بلکہ بھارت ہے ۔ جس کی آبادی 1.5ارب ہے ۔ چائینہ اب ایسی پالیسیاں اپنا رہا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کیے جا سکیں۔ صحت کی سہولتوں کی وجہ سے چائینہ کی آبادی میں بوڑھوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے ۔
انڈیا میں بھی آبادی بہت بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے وہاں بیروزگار ی بہت زیادہ ہے کیونکہ اس نسبت سے اس کے پاس وسائل کم ہیں ۔ بالکل یہی صورت حال پاکستان کو درپیش ہے ۔ پاکستان میں شرح پیدائش تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی پاپولیشن بم کی صورت اختیار کر چکی ہے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی کا بم پاکستان میں پھٹ چکا ہے ۔
جب کہ پاکستان کے وسائل بہت کم ہیں اور جتنے بھی وسائل ہیں بڑھتی ہوئی آبادی ان کو ہڑپ کر رہی ہے ۔ GDPہماری پہلے ہی بہت کم ہے ۔ اس طرح سے ہم ایک خوفناک بحران میں پھنس چکے ہیں کئی دہائیوں سے پاکستان اس تباہ کن مسئلے سے نبٹنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عوام کی بیشتر تعداد کو بڑھتی ہوئی آبادی کے خطرے کا احساس ہی نہیں ہے ۔ اور وجوہات کے علاوہ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری کم شرح خواندگی ہے ۔ جس ملک میں کروڑوں بچے اسکول سے باہر پھر رہے ہوں اور وہ اپنے گھرکی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مزدوری کرنے پر مجبور ہوں ، ان کا اور ان کے ملک کا کیا مستقبل ہو سکتا ہے ؟ بنگلا دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔
آج اس کی آبادی پاکستان سے کم ہے ۔ اس نے اپنی آبادی پر ملک کے تمام طبقوں کی مدد سے قابو پایا ۔ جس میں وہاں کے مذہبی طبقے کا کردار قابل ذکر ہے ۔ انھوں نے وہاں کے عوام کو بتایا کہ خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی پر کنٹرول کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اس کو اپنا کر ملک اور خاندان خوشحال ہوتے ہیں ۔ صحت اور تعلیم کے لیے حکومت کے پاس ضروری وسائل جمع ہو جاتے ہیں اور عوام کا معیار زندگی بلند ہوتا ہے ۔
پاکستان میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ ہمارے پاس نوجوان آبادی بہت زیادہ ہے لیکن یہ نوجوان بیشتر بے ہنر ہیں ۔ لیکن فرض کریں کہ اگر ان کو ٹیکنکل تعلیم دے بھی دی جائے اور انھیں ہنر مند بنا بھی دیا جائے تو اگلے چند برس بعد یہ لوگ ملک سے باہر نہیں جا سکیں گے ۔ وجہ اس کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہے ۔ ترقی یافتہ ملکوں نے اس صلاحیت کو روبوٹ کی شکل میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جو ان کے گھریلو کاموں صفائی اور دوسرے ضروری کاموں کے لیے مدد گار ثابت ہو رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کا استعمال زندگی کے مختلف شعبوں میں بڑھتا ہی چلا جائے گا اس طرح انھیں ترقی پذیر ملکوں کی لیبر کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
نہ صرف خام لیبر کی بلکہ ٹیکنیکل صلاحیت کے ہنر مند افراد کی بھی ۔اس طرح ہمارے نوجوان مستقبل میں ملازمت کے لیے ملک سے باہر بھی نہیں جا سکیں گے بلکہ وہ پاکستانی لاکھوں افراد جو ملک سے باہر ہیں وہ بھی پاکستان واپس آنا شروع ہو جائیں گے ۔ تو ذرا سوچیں کیا ہو گا؟ بیرون ملک سے بھیجے گئے زرمبادلہ کا خاتمہ یا کم ہونا ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے ۔ بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں کی وجہ سے ایک خاص طبقے میں جو خوشحالی پائی جاتی ہے اس کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ موجودہ کروڑوں بیروزگار افراد میں مزید لاکھوں افراد کا اضافہ ہو جائے گا۔
ارباب اختیار کو چاہیے اس انتہائی حساس مسئلے پر ابھی سے نہ صرف غور وفکر کریں بلکہ اس پیش آمدہ بحران کا حل بھی تلاش کریں ، ورنہ بہت سوں کی عیاشیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔