واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی زیرِ قیادت وائٹ ہاؤس کے سینئر معاونین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل سفارتکاری کو موقع دیا جائے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردِعمل میں ایران پر حملے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، تاہم نائب صدر اور بعض اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ فوجی اقدام سے پہلے سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
ایک امریکی اخبار نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، اگرچہ اس وقت وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حق میں جھکاؤ رکھتے ہیں، لیکن ان کا مؤقف تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔
کچھ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ پہلے محدود حملے کا حکم دے سکتے ہیں، جس کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی مبینہ پیشکش کا بھی جائزہ لے رہا تھا، تاہم اسی دوران صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری پر سنجیدگی سے غور کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔