سندھ حکومت کا کسانوں کو اپنی تیار کردہ سرکاری سیڈ سستے داموں فراہم کرنے کا فیصلہ

سندھ سیڈ کارپوریشن کا صوبے کی تمام زرعی زمینوں کی جیو مارکنگ کرانے کا بھی فیصلہ


ویب ڈیسک January 13, 2026

کراچی:

سندھ حکومت نے آئندہ نجی شعبے سے زرعی سیڈ خریدنے کے بجائے کسانوں کو اپنی تیار کردہ سرکاری سیڈ سستے داموں فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

سندھ سیڈ کارپوریشن نے صوبے کی تمام زرعی زمینوں کی جیو مارکنگ کرانے کا بھی فیصلہ کر لیا۔

وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر کی صدارت سندھ سیڈ کارپوریشن کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے متعلق اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو، ایڈیشنل سیکریٹری ادریس کھوسو، ایم ڈی سندھ سیڈ کارپوریشن عبدالفتاح ھلیو سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں سیڈ کارپوریشن کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ افسران کی جانب سے کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 352 ایکڑ زائد رقبے پر گندم کی کاشت کی گئی جبکہ مجموعی طورپر 2242.85 ایکڑ پرگندم کاشت کی گئی ہے۔ کپاس کی مد میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپے، جبکہ چاول (پیڈی) کی مد میں ایک کروڑ 60 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل کی گئی ہے۔

ایم ڈی نے اجلاس کو بریفنگ دی کہ کاشتکاروں کو سستے دام پر گندم کے بیج کے 2170 بیگز فراہم کیے گئے، 295 من کپاس کی جننگ کی گئی ہے، اسی طرح فش پونڈز سے بھی آمدنی حاصل کی گئی ہے۔

سردار محمد بخش مہر نے بتایا کہ لینڈ گریبرز کے خلاف دو ایف آئی آر درج جبکہ گھوٹکی سے 120 ایکڑ زمین ناجائز قبضے سے واگزار کرا لی گئی ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ سندھ سیڈ کارپوریشن کی صوبہ بھر کی تمام زرعی زمینوں کی جیو مارکنگ کی جائے۔

سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ اس زمین کی حدود، رقبہ اور مقام جی پی ایس اور نقشوں کے ذریعے کمپیوٹر میں محفوظ ہوسکیں گے۔ انہوں نے ایم ڈی کو ہدایت کی کہ آئندہ صوبہ کے کاشتکاروں کو ایس ایس سی ذریعے سرکاری معیاری بیج سستے داموں پر فراہم کیے جائیں۔

وزیر زراعت سندھ کا کہنا تھا کہ اصلاحات کے ذریعے سندھ سیڈ کارپوریشن کو مالی و انتظامی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا ہے۔

مقبول خبریں