کراچی:
کورنگی میں بھتہ نہ دینے کی صورت پر فیکٹری نذرآتش کرنے کی دھمکی کے مقدمے میں نامزد 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق کورنگی سیکٹر 28 میں بھتہ نہ دینے کی صورت پر فیکٹری نذرآتش کرنے کی دھمکی کے خلاف عوامی کالونی پولیس نے فیکٹری کے سیکیورٹی انچارج محمد اصغر کی مدعیت میں نامزد ملزمان کے خلاف بھتہ خوری اور جان سے مارنے اور انسداد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
مقدمے میں متن کے مطابق شہزاد نامی شخص جو کمپنی میں ملازم تھا انتظامیہ نے خراب کردار کے باعث نکال دیا تھا، 9 جنوری کو صبح شہزاد اپنے دیگر ساتھیوں اقبال ابڑو، سدھیر، اشفاق اور دیگر نامعلوم افراد کے ہمراہ فیکٹری آیا اور انتظامیہ کو دھمکی دی کہ اگر پہلے کی طرح لاکھوں روپے بھتہ نہ دیا تو فیکٹری کو آگ لگا دیں گے۔ تمام لوگوں کو جان سے مار دیں گے اور فیکٹری میں کسی کو آنے نہیں دیں گے۔
متن کے مطابق ملزم اس سے قبل بھی متعدد بار فیکٹری سے لاکھوں روپے بھتہ وصول کر چکا ہے، ملزمان نے فیکٹری انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے دھرنا بھی دیا تھا۔
پولیس نے مقدمے کے اندراج کے بعد واقعے کی تفتیش شروع کر دی تھی اور بعد اذاں مقدمے کی تفتیش ایس آئی یو کو منتقل کر دی گئی تھی۔
ایس آئی یو پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد 2 ملزمان اختیار چانڈیو اور اقبال ابڑو کو گرفتار کر لیا۔
ایس ایس پی ایس آئی یو ڈاکٹر عمران خان نے ایکپسریس کو بتایا کہ نامزد ملزمان میں سے دو کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، گرفتار ملزمان سے تفتیش اور انکے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ گرفتار ملزمان کا تعلق اب تک کسی سیاسی جماعت سے سامنے نہیں آیا ہے
ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق علاقائی بدمعاش گروہ سے ہے، گرفتار ملزمان پہلے بھی فیکٹری مالکان سے بھتہ وصول کر چکے ہیں جبکہ ملزمان اب لاکھوں روپے مزید بھتہ طلب کر رہے تھے۔