کراچی میں گیس کا بدترین بحران جاری ہے، منگل کو گھریلو اور صنعتی صارفین کو گیس کی قلت کا سامنا رہا جس کی وجہ سے گیس صارفین نے ایس ایس جی سی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔
ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس لوڈشیڈنگ کا سلسلہ نہ تھم سکا، لانڈھی، بلدیہ سائیٹ اورنگی ٹاون لیاقت آباد پی آئی بی کالونی جہانگیر روڈ بفرزون نارتھ کراچی کیماڑی لیاری، لانڈھی ،سعود آباد، اولڈ سٹی ایریا، صدر، پی ای سی ایچ ایس، گلشن معمار، کورنگی، ملیر، ماڈل کالونی، گلشن اقبال، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، سرجانی ٹائون، شاہ فیصل کالونی، گڈاپ، کاٹھور، لائنز ایریا، سٹی ریلوے کیمپ، سلطان آباد اور دیگر علاقوں میں گیس کی بندش رہی، تاہم شہر میں شدید قلت کے باوجود ایس ایس جی سی کی جانب سے شہر میں صورتحال بہتر ہونے کا دعوٰی کیا گیا،۔
ایس ایس جی سی کے ترجمان کے دعوے کے مطابق گیس کی فراہمی کی موجودہ صورتحال میں بہتری آنا شروع ہوگئی ہے۔ سوئی سدرن کو فیلڈز سے 15ایم ایم سی ایف ڈی گیس حاصل کرنا شروع ہوگئی ہے۔
ترجمان کے مطابق ادارے کے فرنچائز علاقوں کی ضروریات کے مطابق گیس کی فراہمی جاری رہے گی، گزشتہ روز دو گیس فیلڈز سے 45ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی کمی کا سامنا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الوقت ایس ایس جی سی کو 30ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی کمی کا سامنا ہے۔ شہر میں گیس بحران کی وجہ سے رات کے اوقات کے ساتھ اب دن میں بھی گیس غائب رہنا معمول بن گیا ہے، ایس ایس جی سی کی شہر میں اربوں روپے خرچ کر کے نئی گیس لائنیں ڈالنے کے باوجود مطلوبہ پریشر کے ساتھ گیس دستیاب نہیں ہے۔
متاثرہ شہریوں نے حکومت سے ایس ایس جی سی کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں گیس لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے صارفین کو اپنے گھروں میں کھانا پکانا مشکل ہوگیا ہے جس کے سبب ہوٹل مالکان کی چاندی ہوگئی ہے۔
ایس ایس جی سی کے صارفین کے مطابق کراچی میں پہلے ہی رات 10بجے سے صبح 6 بجے تک گیس کی لوڈشیڈنگ برقرار ہے لیکن اب دن کے اوقات میں بھی گیس کی آنکھ مچولی شروع ہوگئی ہے۔ گیس کی بندش سے گھریلو خواتین، پکوان ہاؤس، دودھ فروشوں، مٹھائی اور کنفیکشنری بنانے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ صارفین کا کہنا ہے کہ ایس ایس جی سی کی جانب سے شہر میں گیس کا مصنوعی بحران پیدا کیا جارہا ہے تاکہ صارفین قدرتی گیس کے بجائے ایل پی جی کے استعمال کی جانب راغب ہوسکیں۔