ڈرامے میں ٹرانس جینڈر کا کردار، ماریہ بی کو اعتراض کیوں؟

ماریہ بی اس سے قبل بھی کئی بار ٹرانس جینڈرز اور ایل جی بی ٹی سے متعلق مواد پر کھل کر بات کر چکی ہیں


ویب ڈیسک January 17, 2026

فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے ایک بار پھر پاکستانی ڈراموں میں ٹرانس جینڈر کرداروں کی پیشکش پر سخت ردعمل دیا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ڈرامہ ’’میری زندگی ہے تو‘‘ کی ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ڈراموں کے ذریعے خاموشی سے ایل جی بی ٹی کی سوچ کو فروغ دیا جارہا ہے۔

ماریہ بی نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں ڈرامے کی قسط 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’معیز بیٹا کیا یہ تم ہو؟‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ایک گرلز کالج کے سین میں ایک ایسا کردار دکھایا گیا جو بائیولوجیکلی مرد ہے لیکن خواتین کے درمیان موجود ہے، جس پر انہیں شدید اعتراض ہے۔

ماریہ بی کے مطابق یہ ایک ’’چالاکی‘‘ تھی اور ڈرامہ سازوں نے سمجھا کہ عوام اس بات کو نوٹس نہیں کریں گے، مگر پاکستانی قوم نے یہ بات فوراً پہچان لی۔

اپنے ویڈیو پیغام میں ماریہ بی نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈرامہ سازوں کے پاس خواتین اداکاراؤں کی کمی تھی یا وہ جانتے بوجھتے ایک بائیولوجیکل مرد کو خواتین کی جگہ میں لے آئے؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح خواتین کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور اداکاراؤں کے روزگار کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

ماریہ بی نے مزید کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک، خصوصاً امریکا میں، اس حوالے سے سنگین واقعات سامنے آچکے ہیں، اس لیے ایسے موضوعات کو معمول بنا کر پیش کرنا خطرناک ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

یاد رہے کہ ماریہ بی اور ڈاکٹر مہرب معیز اعوان کا یہ تنازع نیا نہیں۔ ماریہ بی اور ٹرانسجینڈر حقوق کی علمبردار ڈاکٹر مہرب معیز اعوان کے مابین گزشتہ چند برسوں میں متعدد مواقع پر اختلافات سامنے آئے ہیں، جو سوشل میڈیا اور خبروں کی سرخیوں کا حصہ بنے رہے ہیں۔

2022 میں ڈاکٹر مہرب معیز اعوان کو لاہور کے ایک نجی اسکول میں ہونے والے ایونٹ میں اسپیکر کے طور پر مدعو کیا گیا تھا، لیکن والدین کی مخالفت کے باعث انہیں پروگرام سے ہٹا دیا گیا۔ اس فیصلے پر ماریہ بی نے اسکول کے فیصلے کی کھلے عام حمایت کی اور اسے ’’بچوں کے لیے درست فیصلہ‘‘ قرار دیا تھا، جس پر سوشل میڈیا پر شدید بحث ہوئی۔

ماریہ بی نے اس موقع پر انسٹاگرام اسٹوریز میں ڈاکٹر اعوان پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ خواجہ سرا کمیونٹی کا حصہ نہیں بلکہ ’’مرد ہے جو عورت میں تبدیل ہو رہا ہے‘‘ اور بچوں کے لیے یہ غلط مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کو انتخاب کرنے کا حق ہے کہ کون ان کے بچوں کے لیے صحیح رول ماڈل ہے۔

اس پر ڈاکٹر مہرب معیز اعوان نے سوشل میڈیا پر جواب دیا اور اپنا موقف پیش کیا کہ ماریہ بی کی باتیں غلط فہمیوں پر مبنی ہیں، اور انہوں نے پاکستان کے Transgender Persons Protection Act 2018 کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے حقوق کی طرف اشارہ کیا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ماریہ بی نے اس معاملے پر آواز اٹھائی ہو۔ ماریہ بی اس سے قبل بھی کئی بار ٹرانس جینڈر اور ایل جی بی ٹی سے متعلق مواد پر کھل کر بات کر چکی ہیں۔ انہوں نے ماضی میں ڈرامہ ’’کچھ اَن کہی‘‘ میں فلم ’’جوائے لینڈ‘‘ کا پوسٹر دکھائے جانے پر بھی اسی پروڈکشن ہاؤس پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اس طرح کے اشارے پاکستانی معاشرتی اقدار کے خلاف ہیں۔

ماریہ بی کا مؤقف ہے کہ وہ کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ ایک مخصوص ایجنڈے کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے پر قانونی راستہ اختیار کرنے پر بھی غور کر رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ماریہ بی کے اس مؤقف کو خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔ کئی صارفین نے ان کے بیان کو ’’جرات مندانہ‘‘ قرار دیا، جبکہ کچھ سوشل میڈیا صارفین مخالفت کرتے بھی دکھائی دیئے۔ 
 

مقبول خبریں