امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا طیارہ منگل کی رات سوئٹزرلینڈ روانگی کے فوراً بعد ایک معمولی برقی خرابی کے باعث واپس ایئر بیس پر اتار لیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ فیصلہ احتیاطی تدابیر کے تحت کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ ایئر فورس ون مختصر پرواز کے بعد جوائنٹ بیس اینڈریوز واپس پہنچا، جہاں یہ تقریباً 0400 جی ایم ٹی پر لینڈ ہوا۔
صدر کے ہمراہ سفر کرنے والے صحافیوں کے مطابق ٹیک آف کے کچھ دیر بعد طیارے کے کیبن کی لائٹس چند لمحوں کے لیے بند ہو گئی تھیں۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنا دورہ منسوخ کرنے کے بجائے طیارہ تبدیل کیا اور بدھ کی صبح ڈیووس فورم میں شرکت کے لیے دوبارہ روانہ ہو گئے۔ نیا طیارہ ابتدائی پرواز کے تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد اینڈریوز بیس سے روانہ ہوا۔
ایئر فورس ون کو دنیا کے سب سے پہچانے جانے والے طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم صدر ٹرمپ ماضی میں موجودہ طیاروں پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں۔ یہ بوئنگ 747-200 بی سیریز کے طیارے 1990 میں سروس میں آئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق نئے ایئر فورس ون طیاروں کی فراہمی میں تاخیر کے باعث ٹرمپ انتظامیہ متبادل آپشنز پر بھی غور کرتی رہی ہے۔ اس تناظر میں ایک غیر ملکی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے طیارے پر آئینی، اخلاقی اور سکیورٹی خدشات بھی سامنے آ چکے ہیں۔