سردی کی شدت میں اضافے سے پشاور سمیت صوبے کے دیگر اسپتالوں میں سانس و سینے کی بیماریوں میں مبتلا بچوں و بڑوں کو بڑی تعداد میں اضافہ ہوا اور وارڈز بھر گئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق محکمہ صحت کی انٹیگریٹڈ ڈیسز سرویلنس اینڈ رسپانس رپورٹ میں ماہ جنوری کے صرف ایک ہفتے کے دوران 8 ہزار 642 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ کیسز 12 جنوری سے 18 جنوری سے اسپتالوں میں رپورٹ ہوئے، سب سے زیادہ چارسدہ سے 2 ہزار 573 کیسز کو رپورٹ ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر ہری پور سے 2 ہزار 554، صوابی سے 780، بٹگرام 583، پشاور 535، مردان 324، سوات 287، ایبٹ آباد 235 اور مہمند میں 299 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں،
ماہ جنوری کے پہلے ہفتے میں 8462 سے قدرے کم رپورٹ ہوئے تھے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی طرح انفلوئنزا کے کیسز بھی بڑی تعداد میں تین ہفتوں کے دوران رپورٹ ہوئے ہیں۔
ایپی ڈیمالوجیکل دو ہفتوں میں انفلوئنزا کے بھی 12 ہزار کے لگ بھگ کیسز کو رپورٹ کیا گیا ہے، گزشتہ دو ہفتوں میں 6054 اور 6190 کیسز کو رپورٹ کیا گیا ہے۔
اسی طرح شدید سردی کے باعث کئی اضلاع سے نمونیہ کے بھی بڑی تعداد میں کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، خصوصا پانچ سال سے کم عمر بچوں کے کیسز رپورٹ کیے جارہے ہیں۔
ایسی ڈیمالوجیکل تین ہفتوں کے دوران پہلے ہفتے میں نمونیہ کے ایک ہزار 649 کیسز اور دوسرے ہفتے میں 1442 اور تیسرے ہفتے میں 1541 کیسز کو مختلف اسپتالوں سے رپورٹ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا پشاور کے تینوں بڑے اسپتالوں سمیت دیگر چھوٹے اسپتال بھی اس وقت بیمار بچوں سے بھرے ہوئے ہیں، ان میں زیادہ تر بچوں کو سانس و سینے کے امراض یا نمونیہ کا مرض لاحق ہے۔ اس صورتحال کے باعث بچوں کے وارڈز میں اب بستر کم پڑ گئے ہیں۔
ماہرین صحت کا اس صورتحال کے حوالے سے کہنا ہے کہ گھروں میں بزرگ افراد اور بچوں کو خصوصا گرم ملبوسات کے ساتھ کور رکھا جائے اور گرم سوپ جیسے مشروبات کے ساتھ غذا کا خاص خیال رکھا جائے ۔بچوں کو باہر لے جاتے ماسک لازمی پہنایا جائے۔