پاکستانی شوبز کی سینئر میزبان، اینکر اور سماجی کارکن مشی خان اداکارہ ہانیہ عامر کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔
مشی خان ایک بار پھر اپنے دوٹوک مؤقف کے باعث خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔ وہ مختلف معاملات پر کھل کر رائے دینے کے لیے جانی جاتی ہیں اور چاہے معاملہ شوبز انڈسٹری کا ہو یا سیاست کا، اپنی بات کہنے سے نہیں جھجکتیں۔
مشی خان نے انسٹاگرام پر چند تصاویر شیئر کیں جن میں ہانیہ عامر ایک مخصوص ہاتھ کے اشارے کے ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ مشی خان کا کہنا ہے کہ یہ علامت مبینہ طور پر ’ایلومیناٹی‘ سے جڑی ہوئی سمجھی جاتی ہے اور ہانیہ عامر نے یہ انداز ایک سے زیادہ مرتبہ اختیار کیا ہے، جس پر وہ سوال اٹھا رہی ہیں۔

بعض لوگوں کے مطابق یہ اشارہ اشاروں کی زبان میں ’’آئی لو یو‘‘ کہنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ہانیہ اس انداز میں پوز دیتی ہیں۔
ان تصاویر کے سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ صارفین کی رائے واضح طور پر تقسیم ہو گئی ہے۔ کچھ لوگ ہانیہ عامر کے حق میں سامنے آئے جبکہ کچھ نے مشی خان کے مؤقف کی تائید کی۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ بڑی عمر کی خواتین ہانیہ کے پیچھے کیوں پڑ جاتی ہیں؟‘‘ جبکہ ایک اور نے لکھا، ’’میں مشی سے متفق ہوں، میں نے بھی یہ اشارہ پہلے نوٹ کیا تھا۔‘‘ دوسری طرف کئی افراد نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کو سائن لینگویج کے بارے میں پڑھنا چاہیے، یہ دراصل محبت کے اظہار کا نشان ہے۔‘‘

مشی خان کے الزامات کے بعد ہانیہ عامر نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کی جس میں مشی خان کی شیئر کی گئی پوسٹ کا اسکرین شاٹ دیتے ہوئے لکھا کہ ’’میری امی نے یہ مجھے بھیجا ہے‘‘۔ دوسری تصویر میں ہانیہ نے لکھا کہ ’’میری امی اور مشی خان کو کون بتائے گا؟‘‘

اس تازہ بحث نے سوشل میڈیا پر ایک نئی ہلچل پیدا کردی ہے، جہاں مداح اور ناقدین دونوں اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ میدان میں آ گئے ہیں۔