کیا حاصل ہُوا

آخر وجہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے شدید احتجاجات کے باوجود امریکا اور مغرب میں گستاخانہ خاکے مسلسل شایع کیے جا رہے ہیں؟


Tanveer Qaisar Shahid September 30, 2012
[email protected]

حُرمتِ رسولؐ معلوم دنیا کی اجتماعی حُرمت سے کہیں بڑھ کر ہے اور ہمیں جاں سے زیادہ عزیز ہے۔

یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ امریکا اور مغرب میں دانستہ توہینِ رسالت کی گئی۔ کبھی شرانگیز کتابیں چھاپ کر، کبھی فلمیں بنا کر اور کبھی گستاخانہ اور دل آزار خاکے شایع کر کے۔ اہلِ اسلام نے بر وقت پوری شدت سے اِن گستاخوں اور دریدہ دہنوں کے خلاف مقدور بھر احتجاج کیا لیکن عالمِ اسلام کے حکمران تقریباً مُہر بہ لب ہی رہے۔ ہاں ایران کے انقلابی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کو اِس میدان میں استثنیٰ حاصل ہے جنہوں نے کسی بھی سُود و زیاں کی پروا کیے بغیر گستاخ سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ صادر کر کے پوری دنیا کو ششدر کر دیا۔ کئی دیگر مسلمان حکمرانوں نے یقینا اِس فتوے کے اجرا پر ''شرمندگی'' محسوس کی ہو گی۔

ہائے، کہیں امریکا ناراض نہ ہو جائے۔ اور امریکا کا حال یہ ہے کہ ہمارے شدید احتجاجات اور یومِ عشقِ رسولؐ منانے کا اُس پر کوئی اثر ہُوا ہے نہ اُس کے کانوں پر جوں تک رینگی ہے۔ ہم نے تو یومِ عشقِ رسولؐ مناتے ہُوئے اپنے بیس سے زائد شہریوں کا خون بھی پیش کیا ہے (ایسی خوں رنگ مثال پورے عالمِ اسلام میں کہیں نظر نہیں آئی ہے) لیکن اِس کے باوجود امریکی صدر اوباما نے ہمارے صدر صاحب کی موجودگی میں علی الاعلان کہا ہے: ''ہم فلم پر پابندی نہیں لگائیں گے۔'' ہاں، اُس غلیظ شخص، نکولا بیسلے، کو دکھاوے کے لیے امریکا نے تین روز قبل گرفتار ضرور کیا ہے۔ آخر وجہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے شدید احتجاجات کے باوجود امریکا اور مغرب میں گستاخانہ خاکے مسلسل شایع کیے جا رہے ہیں؟

دکھ اور افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ فرانس، جہاں یورپ کے حوالے سے سب سے زیادہ مسلمان بستے ہیں، میں بھی بعض شیطان صفت صحافی اور جرائد نبی کریمؐ کے بارے میں توہین آمیز خاکے شایع کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ اُن کی ناپاک جسارت دیکھیے کہ گزشتہ ہفتے امریکی شہری نکولا بیسلے کی بنائی گئی گستاخانہ فلم کے خلاف جب یورپ سمیت ساری دنیا میں مظاہرے ہو رہے تھے، اُسی ہفتے فرانس کے ایک جریدے ''چارلی ھیبڈو'' (Charlie Hebdo) نے نہایت دل آزار اور گستاخانہ خاکے شایع کیے۔ یہ غلیظ حرکت دانستہ کی گئی لیکن افسوس فرانسیسی حکومت نے اِس میگزین کو بازار میں آنے اور نیوز اسٹینڈز پر سجانے سے منع نہ کیا حالانکہ اِن خاکوں کے بارے میں حکومتِ فرانس کو پہلے ہی سے معلوم ہو چکا تھا لیکن آزادیٔ صحافت کے نام نہاد قانون کا سہارا لے کر اُس نے اِس پر کوئی پابندی لگانے کا فیصلہ نہ کیا۔

ہم اِسے فرانسیسی حکومت کا منافقانہ اور دوغلاپن کہیں گے۔''چارلی ھیبڈو'' گزشتہ 52 برسوں سے شایع ہو رہا ہے لیکن درمیان میں تقریباً دس سال کے لیے یہ شایع نہ ہو سکا۔ وجہ یہ تھی کہ اِس نے فرانسیسی صدر کے خلاف نہایت غیر اخلاقی اور واھیات قسم کے خاکے شایع کر دیے تھے۔ اِس پر حکومتِ فرانس حرکت میں آئی اور ''چارلی ھیبڈو'' کو دس سال کے لیے بند کر دیا گیا۔ اِس پس منظر میں عالمِ اسلام خصوصاً فرانسیسی مسلمانوں نے بجا طور پر فرانسیسی صدر سے احتجاج کیا ہے کہ اگر ماضی قریب میں فرانسیسی صدر کی بے حُرمتی کرنے کی پاداش میں جریدہ مذکور پر پابندیاں عائد ہو سکتی تھیں تو مسلمانوں کے پیغمبرؐ کے توہین آمیز خاکے شایع کرنے پر اِس جریدے پر پابندی عائد کیوں نہیں کی جا سکتی؟ لیکن فرانسیسی حکومت نے اِس مطالبے پر کان دھرنے سے انکار کر دیا۔

دوم، پورے فرانس میں مسلمانوں کو توہین آمیز خاکوں کے خلاف جلسے جلوس نکالنے اور احتجاج کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہو گی۔ سوم، جریدے کے ایڈیٹر کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ چہارم، جس کسی مسلمان کو اِن خاکوں کی اشاعت پر تکلیف ہے، وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے۔ حکومتِ فرانس نے اِسی پر بس نہیں کی بلکہ چند روز بعد، 27 ستمبر 2012 کو فرانسیسی وزیرِ داخلہ مینوئل والز نے فرانسیسی مسلمانوں کو دھمکی دیتے ہُوئے کہا: ''ہم ایسے لوگوں کو ملک بدر کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائیں گے جو اسلام پر چلنے کا دعویٰ کریں اور ہمارے امنِ عامہ کے لیے خطرہ بن جائیں۔ جو ہمارے قوانین اور اقدار کا احترام نہیں کرے گا، وہ یہاں نہیں رہ سکتا۔ فرانس میں نفرت کے پرستاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔''

فرانسیسی وزیرِ داخلہ کے مذکورہ بالا بیان کا مختصر سا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے جس میں فرانس میں بسنے والے سب مسلمانوں کے لیے واضح دھمکیاں بھی موجود ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ''ایکسپریس فورم'' کے زیرِاہتمام ممتاز علمائے کرام تشریف لائے۔ موضوع تھا: ''مغرب میں آزادیٔ اظہار اور گستاخانہ فلمیں اور خاکے۔'' جمعیتِ علمائے اسلام (ف) کے معروف رہنما حافظ حسین احمد صاحب نے بجا طور پر کہا: ''امریکا اور مغربی ممالک میں فرد کی آزادیٔ اظہار محض ڈھونگ اور منافقانہ عمل ہے۔ اگر فرانس میں فرد کو ہر قسم کی بات کہنے کی آزادی ہے تو اِسی آزادی کے نام پر اگر فرانس میں بسنے والی مسلمان خواتین اجتماعی طور پر یہ اعلان کرتی ہیں کہ ہم حجاب بھی کریں گی اور برقع بھی پہنیں گی تو فرانسیسی حکومت اُنھیں یہ آزادی دینے کے لیے تیار کیوں نہیں؟ برقع اور حجاب پہننے والی مسلمان مستورات کو ریاستی پولیس تنگ کیوں کرتی ہے؟ اُن کے خلاف مقدمے کیوں بنائے جاتے ہیں؟''

گستاخانہ فلم اور گستاخ خاکوں کے خلاف ساری دنیا میں اہلِ اسلام کے لاتعداد احتجاجات کے باوجود مغربی دنیا میں دِل آزار خاکے بند ہونے کے بجائے مزید شدت سے شایع کیے جا رہے ہیں اور وہ بھی رسالوں کے سرِورق پر۔ تو کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہودی اور مسیحی دنیا کے بعض شیطان سب کچھ جانتے ہُوئے دانستہ اِن قبیح حرکتوں کے مرتکب ہو رہے ہیں؟ تا کہ مسلمانوں کو مزید اذیت دی جائے۔ دوسری طرف یہ بات بھی باعثِ حیرت ہے کہ امریکا اور یورپ میں بسنے والے مسلمان، اِس توھین کے باوجود احتجاجاً اِن ممالک سے ناتہ توڑ کر اپنے اپنے آبائی وطن آنے پر تیار ہیں نہ امریکا اور یورپ جا بسنے کی خواہش رکھنے والے مسلمانوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔

اِسی کا نتیجہ ہے کہ یورپین یونین کے ایک کمزور ملک (اسپین) کے ایک جریدے کو بھی یہ جرأت و جسارت ہُوئی ہے کہ وہ بھی گستاخانہ خاکے شایع کرے۔ اِس ہسپانوی جریدے کا نام ہے: El Jueves اُس نے 25 ستمبر 2012ء کے شمارے کے سرِورق پر گستاخانہ خاکے شایع کر کے ایک بار پھر یورپ کے مسلمانوں کی غیرت کو للکارا ہے لیکن اِس کے باوجود اسپین جانے کی خواہش رکھنے والے مسلمانوں خصوصاً پاکستانی مسلمانوں کی ایک طویل قطار لگی ہُوئی ہے۔ کسی کو یقین نہ آئے تو وہ کسی دن کی صبح اسلام آباد میں واقع ہسپانوی سفارت خانے کے سامنے کھڑا ہو کر یہ منظر ملاحظہ کر سکتا ہے۔ اب اِسی ملک کے ایک جریدے نے گستاخانہ خاکے شایع کر کے ہمارے دل دُکھائے ہیں اور اِس کی ایڈیٹر Mayte Quilez نہایت جارحانہ انداز میں اِس گستاخی کا دفاع کرتی سنائی دے رہی ہے۔

ہاں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکی و مغربی ممالک میں محبوبِ کائناتؐ کے بارے میں جو گستاخیاں کی گئی ہیں، اُن کا جواب دینے کے لیے مصر کا مشہور اخبار ''الوطن'' میدان میں آیا ہے۔ ''الوطن'' مغرب کی دریدہ دہنیوں کا جواب دینے کے لیے نہ صرف ممتاز ترین عرب مسلمان مفکرین (مثلاً عمرو حمزاوی اور علی الجمعہ) کے مضامین شایع کر رہا ہے بلکہ امریکا و یورپی ممالک کی مسلمانوں اور اسلام کے خلاف باطنی منافقتوں کا پردہ چاک کرتے ہُوئے سیاسی کارٹون بھی شایع کر رہا ہے جو اپنے اہداف پر ٹھیک ٹھیک بیٹھ رہے ہیں۔

گزشتہ صدی میں مغربی مستشرقین نے نام نہاد تحقیق کے پردے میں رسول اللہؐ کی ذات مبارکہ کے خلاف گستاخیاں کرنے کی قابلِ مذمت کوششیں کیں لیکن اُس وقت ملّتِ اسلامیہ کے پاس سرسید احمد خان ایسے مخلص اور جیّد علماء موجود تھے جنہوں نے مستشرقین کی گستاخیوں کا دندان شکن جواب دینے کے لیے قابلِ فخر کتابیں لکھیں اور اِس کارِخیر میں اپنی جائیدادیں تک فروخت کر ڈالیں لیکن افسوس کہ آج ہم سر سید احمد خان ایسے مخلص علماء سے تہی دست ہیں۔ یہی ہماری سب سے بڑی محرومی اور بدنصیبی ہے۔

مقبول خبریں