میڈیا کے لبادے کہاں ملتے سلتے ہیں

جب ان عام سے مقامات پر ’’لبادے‘‘ کی اتنی اہمیت ہے تو جہاں کچھ دینا ہو وہاں تو ظاہر ہے کہ لبادے ہی لبادے نظر آئیں گے


Saad Ulllah Jaan Baraq September 30, 2012
[email protected]

خدا چوہدری نثار کو کروٹ کروٹ کوئی بڑی سی کرسی نصیب کرے اور رکھے کہ انھوں نے ہمارا ایک بہت بڑا دیرینہ اور پارینہ مسئلہ حل کر دیا کہ میڈیا کا لبادہ اوڑھے لوگوں میں اربوں روپے بانٹے گئے۔

حالانکہ شاید ان کو پتہ بھی نہیں ہو گا کہ بالکل نادانستہ طور پر انھوں نے بالواسطہ سہی ہمارا کتنا بڑا کام کر دیا ہے۔ ان کا ٹارگٹ تو حکومت تھا یا تھی، اور زیادہ زور ''اربوں روپے'' پر تھا لیکن ساتھ ہی انھوں نے ''میڈیا کا لبادہ اوڑھے'' کہہ کر ہمیں بھی اپنی منزل کا پتہ بتا دیا تھا، گویا یہ سارا کیا دھرا ''میڈیا کے لبادے'' میں تھا، ہم بھی حیران تھے کہ آخر ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں، کوئی جھوٹے منہ بھی نہیں پوچھتا،اربوں کروڑوں، لاکھوں چھوڑیئے کوئی ہزاروں سیکڑوں کے لیے بھی نہیں پوچھتا ۔

بارے اب کہیں جا کر پتہ چل گیا کہ یہ سارا کمال تو اس ''لبادے'' میں ہے ، ملا نصیر الدین یا شاید کسی اور کا قصہ ہے کہ ایک مرتبہ کسی امیر نے ان کی دعوت کی۔ یہ ٹھہرے ہم جیسے ''بے لبادے'' چنانچہ دربان نے اندر جانے ہی نہیں دیا۔ واپس جا کر انھوں نے کسی سے مانگے تانگے کا ایک لبادہ حاصل کیا، اب کے دربان نے انھیں جھک کر اہلاً و سہلاً کہا اور عزت و احترام کے ساتھ اندر لے گیا ۔

دستر خوان پر بیٹھ کر انھوں نے لبادے کا دامن لیا اور شوربے میں ڈبو کر بولے ،کھا بیٹا، یہ تمہارے لیے ہے۔ یہ تو معلوم نہیں کہ لبادے نے کچھ چکھا یا نہیں یا میزبان نے لبادے کے اندر ملبوس خدا مارے کو بھی کچھ کھلایا یا نہیں ۔۔۔۔ لیکن ہمیں یہ سبق ملا کہ اربوں روپے وصولنے کے لیے صحافی ہونا ضروری نہیں بلکہ وہ لبادہ ضروری ہے جس کا ذکر محترم چوہدری صاحب نے کیا ہے، خیر اب یہ مسئلہ تو ہے کہ ''وہ پری'' کہاں سے لاؤں، تری دلہن جسے بناؤں لیکن پتہ تو چل گیا تھا ۔۔۔ وجہ تو معلوم ہو گئی بلکہ اپنی پچھلی تمام ناکامیوں پر نگاہ ڈالی تو معلوم ہوا کہ

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا،

جب ''لبادہ'' ہی نہیں اوڑھا تھا تو کوئی کچھ دیتا ہی کیوں؟ ہم کوئی ''شکنتلا'' تو نہیں جو راجہ دشنیت ہمیں پہچانتا، ہم نے آپ سے ذکر تو کیا تھا کہ ابھی رمضان کے مہینے میں ایک خوش خبری ملی کہ صوبائی محکمہ اطلاعات صحافی تسلیم کر کے ہمیں بھی دو لاکھ نقد سکہ رائج الوقت دینا چاہتی ہے، وقت دن مقام سب بتایا گیا تھا لیکن پھر

قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لب چیک رہ گئے

گویا یہ وہ بلاوا تھا جو شرمندہ معنی بلکہ منی (Mony) نہ ہوا، وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی تھی لیکن اب چوہدری نثار کے انکشاف کے بعد آ گئی ہے۔ کسی بدخواہ نے بتایا ہو گا کہ ہم ''بے لبادے'' ہیں اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہے بھی نہیں۔ ایک دنیا جانتی ہے کہ ہم ''چادر پوش'' ہیں لبادہ پوش نہیں، بھلا کسی بے لبادے کو چادر کاندھے پر ڈال کر ایسے مقامات پر داخلہ کیسے مل سکتا ہے۔ یہ تو پھر بھی بڑے اونچے اونچے مقامات آہ و فغاں ہیں۔ ہمیں تو راہ چلتے پولیس کے سپاہی بھی روک لیتے ہیں بلکہ اسپتال میں کسی مریض کی عیادت کو جانا ہو تو چادر کسی دکاندار کے پاس رکھ دیتے ہیں کہ ڈس کوالی فیکش کا یہ تمغہ امتیاز کہاں لیے پھریں گے اور دربانوں کے ''پیچھے ہٹو'' کا نشانہ بنیں گے۔

چادر تو خیر بہت ہی بڑی ڈس کوالی فیکش ہے۔ ہمیں تو شلوار قمیض نے بھی کئی کئی بار خوار کیا ہے۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے ہم کراچی جانے کے لیے ایئر پورٹ پہنچے تو قطار میں ہم سے پہلے والے جو کوٹ پتلون والے کھڑے تھے، ان کو کسی نے پوچھا بھی نہیں اور جب ہماری باری آئی تو محترمہ نے شناختی کارڈ کا مطالبہ کیا۔ پوچھا، بھئی یہ جو ہم سے پہلے گئے، ان سے تو آپ نے شناختی کارڈ نہیں مانگا، بولی یہ میری مرضی ہے۔ جب ان عام سے مقامات پر ''لبادے'' کی اتنی اہمیت ہے تو جہاں کچھ دینا ہو وہاں تو ظاہر ہے کہ لبادے ہی لبادے نظر آئیں گے اور پھر یہ دربان لوگ؟

بعد یک عمر ورع بار تو دیتا بارے
کاش رضواں ہی در یا رکا درباں ہوتا

اور غالب نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ کیوں کہ ''رضواں'' کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ''کاغذات'' وغیرہ تو چیک کریں گے اور جنت میں جانے کا پروانہ وغیرہ دیکھیں گے لیکن کسی نے بھی نہیں کہا ہے نہ کہیں لکھا ہے کہ وہ ''لبادے'' بھی دیکھیں گے اب جب کہ اصل وجہ کا پتہ چل گیا ہے تو ہم اس لبادے کا پتہ بھی چلا لیں گے کہ کس کپڑے کا ہوتا ہے کیسا ہوتا ہے اس کی سلائی کڑھائی کیسی ہوتی ہے رنگ کیا ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات ہے کہ کہاں ''سلتا یا ملتا'' ہے، پشاور میں تو یہ کام ممکن نہیں ہے کیوں کہ برسر عام ہم نے کوئی ایسی دکان نہیں دیکھی ہے جہاں ا یسے لبادے دستیاب ہوں، کوئی ایسی ٹیلرنگ کی دکان بھی نہیں دیکھی ہے جس کے بورڈ پر لکھا ہو کہ یہاں میڈیا والوں کے لبادے سلتے ہیں یا آرڈر پر ملتے ہیں۔ پوچھ تاچھ میں ایک شخص نے بتایا کہ اسلام آبادایسے لبادے کا سب سے بڑا مرکز بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ ہے۔

ہر رنگ و نسل اور ناپ تول کے میڈیائی لبادے یہاں مل جاتے ہیں لیکن ایک پرابلم یہ ہے کہ ایسے لبادوں والے ہمیں کیوں لبادہ دیں گے یا اس کے سلنے اور ملنے کی ترکیب بتائیں گے چنانچہ اس کے لیے ہم اپنا کیس اپنے پڑھنے والوں کو سونپتے ہیں کہ وہ سن گن لیں اور ہمارے لیے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی رنگ اور کسی نہ کسی سائز کے ایک لبادے کا انتظام کر دیں جو خرچہ آئے گا، اس کی فکر نہ کریں کیوں کہ لبادہ ملتے ہی جب ہم پر نوازشات کی برسات ہو گی تو ہم کوئی بھی صلہ یا معاوضہ دینے کے قابل ہوں گے۔

ہماری ضرورت شدید اس لیے ہے کہ اب تک تو صرف باہر والے ہمیں طعنے تشنے دیتے تھے لیکن اب گھر والے بھی نکما نکھٹو سمجھتے ہیں اگرچہ الفاظ دوسرے ہوتے ہیں مثلاً وہ آپس میں جب تبادلہ خیال کرتے ہیں اور دوسرے لبادہ پوشوں کا ذکر کرتے ہیں تو بظاہر تعریف و تحسین کی چھریاں چلاتے ہیں کہ فلاں بڑا بے ایمان ہے ایسی صحافت اگر ہمارے والد کرتے یا ایسے ایوارڈ اگر ہمارے والد چاہتے تو سیکڑوں لے سکتے ہیں لیکن ہمارے والد نے ''ایمانداری اور عزت'' کمائی ہے ''ایمانداری اور عزت'' پر وہ اپنا سارا زور صرف کر ڈالتے ہیں۔

مقبول خبریں