سو سال سے جاری جنگ قسط ہشتم

البتہ جنگ کے دنوں میں علمائے دیوبند کی تحریکِ ریشمی رومال نے بعد از جنگ مسلم سیاست پر خاصے دورس اثرات چھوڑے


Wasat Ullah Khan July 21, 2015

ہندوستانیوں نے پہلی عالمی جنگ میں تاجِ برطانیہ کی جس طرح دامے درمے قدمے مدد کی اس پر خود انگریز ششدر رہ گئے۔لندن کے اخبار ٹائمز نے ایک تبصرے میں برملا اعتراف کیا۔'' ہندوستانی سلطنت نے برطانوی قوم کو اپنی مکمل تائید و مدد سے حیران کردیا ''۔

اگرچہ دیگر اتحادی طاقتوں کے جانی نقصان کے مقابلے میں ہندوستانی سپاہیوں کا جانی نقصان نسبتاً کم تھا (لگ بھگ اڑتالیس ہزار ہلاک اور پینسٹھ ہزار زخمی ) تاہم ہندوستان کی تربیت یافتہ فوجی افرادی قوت ( آٹھ لاکھ ) کے بغیر برطانیہ کا جنگ جیتنا ممکن نہ تھا۔ ایک جانب اگر ہندوستانی سپاہیوں کو وکٹوریہ کراس سمیت شجاعت کے تمغے مل رہے تھے اور لیفٹننٹ ہردید سنگھ ملک ، اندرا لال لاڈی رائے اور سری کرشنا ویلنگکار نوزائیدہ رائل ایئرفورس کے خطرناک طیارے اڑاتے ہوئے دس دس جرمن طیارے فضا میں ہی تباہ کرکے مستقبل کی ہندوستانی (اور پھر پاکستانی ) فضائیہ کی بنیاد رکھ رہے تھے تو دوسری طرف چند سر پھرے موقع غنیمت جانتے ہوئے برِ صغیر سے برطانوی بساط لپیٹنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔اگرچہ ان کی کوششیں بظاہر ناکام ہوگئیں مگر بعد از جنگ ہندوستان کی تحریکوں کے لیے چراغِ راہ بن گئیں۔

سب سے نمایاں تحریک غدر پارٹی تھی۔جسے انیس سو تیرہ میں امریکا میں موجود چند جوشیلوں نے قائم کیا۔ان میں سے بیشتر کیلی فورنیا میں ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے پر مزدوری کر رہے تھے۔

غدر پارٹی کے بنیادی ناموں میں ہردیال سنگھ ، موہن سنگھ ، کرتار سنگھ اور رش بہاری بوس وغیرہ شامل تھے۔ جنگ شروع ہوئی تو بہت سے غدری خاموشی سے پنجاب چلے آئے اور خفیہ سرگرمیاں شروع کردیں۔مقامی غدر پارٹی میں مولوی برکت اللہ ، کریم بخش اور بھائی پرمانند جیسے انقلابی بھی شامل تھے۔مقصد یہ تھا کہ جرمن اور ترک تائید و مدد سے ہندوستان میں اسلحہ اسمگل کرکے مسلح بغاوت کی جائے اور ہندوستانی فوجیوں کو سمجھایا جائے کہ وہ اس سامراجی جنگ میں صرف چارہ بنیں گے اور بدلے میں ٹھینگا ملیگا۔

غدر پارٹی کے زیرِ اثر دورانِ جنگ پہلی باغیانہ کوشش اکیس جنوری انیس سو پندرہ کو بمبئی میں مقیم ایک سو تیس بلوچ رجمنٹ میں ہوئی۔مگر عین وقت پر بھانڈا پھوٹنے پرانگریزوں نے رجمنٹ کو غیر مسلح کرکے تتر بتر کردیا۔تاہم دوردراز سنگا پور میں ففتھ لائٹ انفنٹری بٹالین میں رانگڑوںاور پشتونوں کی بغاوت بروقت نہیں روکی جاسکی۔

ان میں سے کئی سپاہی ایک مقامی گجراتی کافی شاپ مالک قاسم منصور اور ایک مولوی نور عالم شاہ کے رابطے میں تھے۔انھیں بتایا گیا کہ انگریز انھیں چند دن بعد ترکوں سے لڑانے بھیجیں گے مگر مفتیِ اعظم استنبول نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ تمام مسلمانوں پر ترکی کی حمایت میں جہاد فرض ہوچکا ہے۔

ستائیس جنوری انیس سو پندرہ کو بٹالین کمانڈر کرنل ای وی مارٹن نے پریڈ میں اعلان کیا کہ جوانوں کو پندرہ فروری کو ہانگ کانگ کے لیے روانہ ہونا ہے۔روانگی سے ایک دن پہلے الوداعی پارٹی کے دوران بٹالین میں افواہ پھیل گئی کہ ہانگ کانگ کا بتا کہ دراصل انھیں ترکوں سے لڑنے کہیں اور بھیجا جا رہا ہے۔چنانچہ آٹھ میں سے چار کمپنیوں نے ہتھیار اٹھا لیے اور باقی چار کمپنیاں غیر جانبدار ہوگئیں۔

باغیوں نے سینتالیس انگریز افسروں اور سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔بیس فروری تک علاقے میں موجود برطانوی بحریہ ، ایک روسی اور ایک جاپانی جنگی جہاز کی مدد سے بغاوت پر قابو پالیا گیا۔دو سو سے زائد باغیوں پر مقدمہ چلا۔تہتر کو سات تا بیس برس اور چونسٹھ کو عمر قید کی سزا ملی۔مولوی نور عالم کو سنگا پور بدر کردیا گیا جب کہ قاسم منصور اور چھیالیس سپاہیوں کی سزائے موت پر آؤٹرم جیل کے باہر لگ بھگ پندرہ ہزار کے ہجوم کے سامنے فائرنگ اسکواڈ نے عمل درآمد کردیا۔

برطانوی انٹیلی جینس ہندوستان میں غدر پارٹی کے خفیہ سیلز کے خلاف مکمل حرکت میں آ گئی اور درجنوں کی پکڑ دھکڑ ہوئی۔ مارچ انیس سو سترہ میں اپنے اتحادی برطانیہ کی شکائیت پر امریکا میں غدر پارٹی کے پینتیس حامی گرفتار ہوئے۔ان میں سترہ ہندوستانی ، نو امریکی اور نو جرمن باشندے تھے۔ سب کو چھ دن سے بائیس ماہ تک کی مختلف المعیاد سزائیں ملیں۔( جنگ کے بعد غدر پارٹی دو حصوں میں بٹ گئی اور پھر معدوم ہوگئی)۔

ایک اور گروہ '' برلن کمیٹی ''کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ اسے جرمنی میں مقیم چند بنگالی ہندوؤں اور مسلمانوں نے قائم کیا۔یہ لوگ جرمنوں کے قیدی ہندوستانی فوجیوں کو وفاداریاں بدلنے پر آمادہ کرتے رہے تاہم جزوی کامیابی ہی ہو سکی۔

البتہ جنگ کے دنوں میں علمائے دیوبند کی تحریکِ ریشمی رومال نے بعد از جنگ مسلم سیاست پر خاصے دورس اثرات چھوڑے۔اس تحریک میں سب سے نمایاں نام مولانا محمود الحسن ، مولانا حسین احمد مدنی اور عبید اللہ سندھی تھے۔ عبید اللہ سندھی افغان اور روسی حکمرانوں کو ہندوستانی مسلمانوں کی مسلح و غیر مسلح مدد پر آمادہ کرنے کی سعی کرتے رہے جب کہ مولانا محمود الحسن اور حسین احمد مدنی ترکوں کی مدد حاصل کرنے کے لیے حجاز میں کوششیں کرتے رہے۔ بالاخر انھیں شریفِ مکہ کی قوم پرست انتظامیہ نے حراست میں لے کر انگریزوں کے حوالے کردیا اور انگریزوں نے انھیں جنگ کے بعد تک جزیرہ مالٹا میں قید رکھا۔

یہ جنگ بہت سے ان ہندوستانیوں کو بھی کھا گئی جن کا دور پرے تک کوئی لینا دینا نہیں تھا۔مثلاً جو سپاہی جنگ سے لوٹے ان میں سے کچھ انفلوئنزا کا متعدی وائرس بھی لائے۔ جون انیس سو اٹھارہ سے اگلے بارہ ماہ کے دوران سترہ تا اٹھارہ ملین ہندوستانی انفلوئنزا کا شکار ہو گئے۔ اس وبا سے دنیا بھر میں جتنے لوگ مرے ان میں سے ہر تیسرا کوئی ہندوستانی تھا۔

یہ جنگ بہت سے لوگوں کے لیے رحمت بھی ثابت ہوئی۔جیسے راشننگ کا نظام نافذ ہونے سے ہزاروں بلیک مارکیٹیر راتوں رات لکھ پتی ہوگئے۔جنگ میں وردیوں ، ترپالوں اور چمڑے کی مصنوعات کی بے پناہ مانگ ٹیکسٹائل اور لیدر انڈسٹری کے سیٹھوں ، آڑھتیوں اور تعمیراتی ٹھیکیداروں پر ہن برسا گئی اور ایک نئی کلاس نے جنم لیا۔ جنگ سے قبل کلیدی صنعتوں پر برطانوی سیٹھوں کا قبضہ تھا تاہم مانگ اتنی بڑھی کہ دیسی سرمایہ کار کے لیے بھی راہ کھلتی چلی گئی۔ریاست بہار کی کانوں سے ٹاٹا اسٹیل انڈسٹری ابھری۔میسو پوٹامیا ( عراق ) میں دورانِ جنگ اور بعد میں انگریزوں نے جو ریلوے لائن بچھائی اس کا زیادہ تر لوہا ٹاٹا کے کارخانوں سے آیا۔

جنگ سے تھکے ماندے مگر فتح مند لوٹنے والے فوجیوں کو حسبِ مراتب زمینیں الاٹ ہوئیں جس سے لاکھوں خِاندانوں کی معاشی حالت سدھری اور فوج میں بھرتی آنے والے دنوں میں باعثِ وقار ہوتی چلی گئی۔

یہ جنگ بہت سے لوگوں کے لیے امید بھی لائی۔مثلاً عدم تشدد کا پرچارک ہونے کے باوجود گاندھی جی نے ہندوستانیوں سے جنگ میں شرکت کی بارہا اپیل کی تاکہ جنگ کے بعد احسان مند انگریز سوراج کا پرچم ہندوستانیوں کو مرحلہ وار سونپنے پر دھیان دیں۔کچھ اسی طرح کی امیدیں مسلمان قیادت کو بھی تھیں کہ تاجِ برطانیہ کے لیے مسلمان قربانیوں کے عوض شکست خوردہ ترکی سے بہتر سلوک کیا جائے گا تاکہ مسلمانانِ ہند کے دلوں میں انگریز راج کے خلاف بدگمانیاں مزید جڑ نہ پکڑیں۔

پھر یوں ہوا کہ مصر تا ہندوستان جنگی قربانیوں کا صلہ ڈنڈے سے دیا گیا۔مصر میں سرکردہ قوم پرست رہنما سعد زاغلول پاشا نے اٹھارہ سو بیاسی سے مصر کو کٹھ پتلی بنا کر رکھنے والے برطانیہ سے آزادی کے لیے جنگ بند ہوتے ہی ایجی ٹیشن شروع کردیا۔اور جب مصر زاغلول پاشا کی گرفتاری کے بعد پھٹ پڑا تو اسے ڈنڈوں اور بندوقوں سے سیدھا کرنے کی کوشش کی گئی۔سعد کو پہلے مالٹا اور پھر سیشلز جلا وطن کیا گیا۔ جب حالات سختی سے بھی قابو میں نہ آئے تو سعد کو بادلِ نخواستہ رہا کرنا پڑااور انیس سو چوبیس کے انتخابات میں سعد کی وفد پارٹی دو تہائی اکثریت سے جیتی۔

اسی طرح بغداد پر مارچ انیس سو سترہ میں انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔تاہم جنگ کے بعد میسو پوٹامیا کو خود مختاری دینے کے بجائے پیرس کانفرنس نے برطانیہ کی سیاسی شاگردی ( مینڈیٹ ) میں دے دیا۔ برطانیہ نے بعد از جنگ فٹے سے لکیریں کھینچ کر سابق عثمانی بلادِ شام میں سے دو نئے ملک عراق اور اردن کے نام سے بنائے اور تیسرا ملک لبنان فرانس نے پیدا کیا۔ عراق اور اردن پر شریف حسین کے دو وارث کٹھ پتلی بادشاہ کے طور پر بٹھائے گئے۔ بغداد میں جب آزادی کے لیے مظاہرے شروع کیے اور شمالی میں کردوں نے بغاوت کی تو بغداد کے مظاہرین کو گولی اور کردوں کو زہریلی گیس ملی۔

دوسری جانب ہندوستان میں وہی پنجاب جو جنگ کے دوران انگریز کی عسکری ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوا۔ اسی پنجاب میں جب آزادی کے نعرے گونجے تو جنگ کے خاتمے کے صرف پانچ ماہ بعد تیرہ اپریل انیس سو انیس کو جلیانوالہ باغ قتلِ عام کا تحفہ ملا۔بریگیڈئر ریجنالڈ ڈائر کے حکم پہ برسنے والی گولیوں سے دس منٹ میں تین سو انہتر ہندوستانی ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔جس پنجاب سے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی آگ بجھانے کا کام لیا گیا اسی پنجاب کو آزادی مانگنے کے جرم میں انگریز نے انگاروں پر رکھ دیا اور پھر تپش بڑھتی ہی چلی گئی ( داستان جاری ہے )۔

مقبول خبریں