احسان فراموش قوم دھمکی آمیز پیغام

گزشتہ سے پیوستہ سال پاکستان میں کف اڑاتے سیلابوں نے تباہیاں پھیلا دیں تو یہی انجلینا جُولی ستم زدگان کو ریلیف۔۔۔


Tanveer Qaisar Shahid October 19, 2012
[email protected]

GILGIT: جواں ہمتوں کا نشاں بننے اور اپنے علاقے میں علم و عمل کا پرچم بلند کرنے والی ملالہ یوسف زئی کی مخالفت کرنے والی قوتوں، گروہوں اور جماعتوں کو خبر ہو کہ خالقِ کائنات اُسے لمحہ بہ لمحہ صحت سے نواز رہا ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وطنِ عزیز سے باہر وہ لوگ جن کا اِس تیرہ سالہ بچی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے، اُن کی جانب سے بھی اُس کے لیے بلند آہنگ میں دعائوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملالہ کو اعزازات سے نوازا جا رہا ہے، اُسے تمغے دیے جا رہے ہیں لیکن ملک کے اندر ہمارے بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ امریکا اور مغربی ممالک اُسے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ''یوز'' کر رہے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے کہا ہے:''ملالہ کو شہرت اور ''روشن خیالی'' کے دلدل میں کسی اور نے نہیں بلکہ اُس کے والد جناب ضیاء الدین یوسف زئی نے دھکیلا ہے۔''

کن مقاصد کے لیے؟ اِس سوال کا جواب دیتے ہُوئے اُن کا کہنا ہے: ''ڈالروں کے حصول کے لیے۔ ایک این جی او کی شکل میں، منہ مانگے فنڈز کی فراہمی کی شکل میں۔'' چہ خوب۔ ہمارے یہ دوست کسی زمانے میں ایک مذہبی جماعت کے بازوئے شمشیر زن کا حصہ تھے۔ ہم سے تو کہتے ہیں کہ اِس مذہبی جماعت کے لیے اپنی جوانی کے لاتعداد ماہ و سال دے کر غلطی ہی کی لیکن اِس اعتراف کے باوجود وہ اوائلِ جوانی کے عشق و جنوں کی گرفت سے ابھی تک نجات حاصل نہیں کر پائے۔

ہالی وُڈ کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ انجیلینا جُولی نے ملالہ کو امن کا نوبل انعام دینے کی سفارش کی ہے تو یہ اقدام بھی ہمارے بعض لوگوں کو پسند نہیں آیا۔ اُسے امریکا کی ''فاحشہ'' کہنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ کیا ہم وہ ایام بھول گئے جب پاکستان میں ہلاکت خیز زلزلے کی خبر سُن کر یہی انجلینا جُولی وارفتہ انداز میں، اپنی تمام سرگرمیوں کو موقوف کرتے ہُوئے پاکستان آئی تھی اور زلزلہ زدگان کی اعانت کے لیے کئی ملین ڈالر کا چندہ دے ڈالا تھا؟ تاکہ موت کے پنجوں میں گرفتار ہمارے زلزلہ زدگان کی کچھ تو مدد ہوسکے۔

گزشتہ سے پیوستہ سال پاکستان میں کف اڑاتے سیلابوں نے تباہیاں پھیلا دیں تو یہی انجلینا جُولی ستم زدگان کو ریلیف پہنچانے کے لیے پھر پاکستان آئی تھی۔ اِسی اداکارہ کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا گیا اور سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے وزیرِاعظم ہائوس میں اُسے مدعو بھی کیا تھا۔ ملالہ کے حوالے سے انجلینا جُولی کے بیان کے پیشِ نظر ہم اتنے بے حِس اور سفاک ہو گئے ہیں کہ اُس کے سبھی احسانات کو ہم سب نے فراموش کر ڈالا ہے۔ کیا یہ ہے ہمارا اخلاق؟ یاد رکھا جائے ہم اپنے ذاتی، گروہی اور قبائلی تعصبات کی بنیاد پر جن حرکات کا ارتکاب کر رہے ہیں، اِسے ایک دنیا دیکھ رہی ہے۔ یہ حرکات ہمارے مسائل میں کمی لانے کے بجائے، اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

لیکن افسوس کہ ہم، مستقبل کی پروا کیے بغیر، اپنے جذبات و تعصبات سے مغلوب ہو کر بگٹٹ بھاگے جارہے ہیں۔ ریاست اور اِس کے مقتدر ادارے ایک طرف اکٹھے ہیں اور مذہبی جذبات کو ایکسپلائیٹ کر کے اپنے معمولی مفادات سمیٹنے والے دوسری طرف مورچہ لگائے بیٹھے نظر آرہے ہیں۔ یہ تماشہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے اور ہماری تباہیوں پر ٹھٹھے لگا کر ہنس رہی ہے۔ لاہور کے ایک معروف دینی مدرسے میں ''استادی'' کے فرائض انجام دینے والے ایک صاحب نے ہمارے ایک گزشتہ کالم کے جواب میں ہمیں اُردو میں یہ دھمکی آمیز ایس ایم ایس کیا:''تنویر، مُلّا عمر آج بھی امیرالمومنین ہیں۔

آپ جیسے سیکولر ڈالر پرست ہمارا اور مُلّا عمر کا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ تم دبا کر امریکی خوشنودی حاصل کرو۔ ظالمان کا شکنجہ سب امریکی ایجنٹوں کے لیے تیار ہے۔'' جس روز اِن صاحب نے ہمیں یہ پیغام بھیجا، حیرت ہے کہ اُس کے اگلے روز ہی یہ خبر آگئی کہ طالبان نے میڈیا کے وابستگان کے خلاف اپنا پروگرام طے کر لیا ہے۔ ایس ایم ایس کرنے والے اِن صاحب سے سیکیورٹی اداروں کو پوچھنا چاہیے کہ کہیں آپ بھی یہ منصوبہ بندی کرنے والوں میں شامل تو نہیں؟ میرے لیے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ دھمکی آمیز ایس ایم ایس بھیجنے والے صاحب لاہور کے ایک شاندار اور معتدل دینی ادارے میں مورچہ لگائے ہُوئے ہیں ۔ اس دینی ادارے کے بنیادیں ایک بلند مرتبت صُوفی اور عظیم عالمِ دین نے رکھیں۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ ایسے معتدل دینی ادارے، جو اب یونیورسٹی کا درجہ رکھتا ہے، میں لوگوں کو دھمکی آمیز ایس ایم ایس کرنے والے ایک ''استاد'' صاحب کس کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں؟۔

رسید: جناب ضیاء کھوکھر پرائم منسٹر سیکریٹریٹ (اسلام آباد) میں میڈیا کنسلٹنٹ کی حیثیت میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔آیے ہمارے نام اُن کا ایک خط ملاحظہ کرتے ہیں: ''پاکستان کی خوبصورت اور حسین وادی سوات میں اسکول وین پر حملہ کر کے تین معصوم طالبات ملالہ یوسفزئی، شازیہ اور کائنات ریاض کو شدید زخمی کردیا گیا۔ نامعلوم حملہ آور جائے وقوعہ سے بھاگ گئے اور افغانستان سمیت پوری دنیا میں اسلامی نظام نافذ کرنے کی دعویدار ایک تنظیم نے اس حملہ کی ذمے داری قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔اس سانحہ پر آپ نے اپنے کالم (روزنامہ ''ایکسپریس'' اسلام آباد، مورخہ 18-10-2012) میں ''ملالہ، پاکستان کے ''زندیق'' اور فوجی آپریشن'' کے زیرِعنوان عوام دشمن قوتوں کا ''تعاقب'' کر کے انھیں بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ آپ کے کالم کا مطالعہ کرنے کے بعد بچپن کی ایک یاد فلم کی ''رِیل'' کی طرح میرے دماغ کے پردۂِ اسکرین پر چلنے لگی۔

1955ء یا 1956ء کی شدید سردی کا موسم تھا۔ میں ابھی پہلی یا دوسری کلاس کا طالب علم تھا۔ والد صاحب (خدا اُن کو جنت نصیب کرے۔آمین) نے مجھے جگایا اور محلے کی مسجد میں نماز فجر کی ادائیگی کے لیے لے گئے۔ نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد امام مسجد نے درسِ قرآن وحدیث کا سلسلہ شروع کر دیا۔بوسیدہ سی مسجد کے امام نے ایک حدیثِ پاک کا عربی متن پڑھنے کے بعد سامعین کو سمجھانے کے لیے آسان اردو میں فرمایا: ''رسولِ پاکؐ کی اس حدیث کے مطابق وہ مسلمان نہیں ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ نہ ہوں۔'' اپنے آبائی شہر گوجرانوالہ کے ایک محلہ کی مسجد کے پیش امام سے سنا ہوا اسلام کی تعلیمات کا یہ اولین سبق میرے حافظہ میں اب تک محفوظ ہے۔اگست 2012ء کے آخری ہفتہ کے دوران میری بیٹی ایک یورپی ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے گئی ہے۔

میں نے اس کی تعلیم کے ابتدائی دنوں میں اس کی خیریت دریافت کرنے کے لیے اُسے فون کیا اور پوچھا کہ آپ یونیورسٹی کیسے جاتی ہو تو اس نے بتایا ''ڈیڈی ''واک'' کرتے ہوئے۔'' میرے لیے یہ خوش کن بات تھی کہ میری بیٹی بلاخوف وخطر پیدل یونیورسٹی جاتی ہے۔ اس کے دو تین دن بعد میں نے فون کر کے اپنی بیٹی کو پوچھا کہ اس وقت وہ کیا کر رہی ہے۔اس نے بتایا کہ وہ اس وقت پارک میں ''واک'' کررہی ہے۔برادرِ عزیز، آپ سے میرا سوال ہے کہ میرے لیے اچھا ملک کون سا ہے؟

کیا وہ ملک جہاں میری ایک بیٹی اکیلے پیدل یونیورسٹی جاتی اور پارک میں بلاخوف وخطر ''واک'' کرتی ہے یا وہ ملک جہاں میری تین بیٹیوں (ملالہ یوسفزئی، کائنات ریاض اور شازیہ) کو اسکول کی وین میں گولی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے؟ اور بہتر انسان کون ہیں؟ کیا وہ انسان جن کے ملک میں اکیلی بچی یونیورسٹی جاتی ہے یا وہ لوگ جن کے ملک میں دن دیہاڑے تین بچیوں کو اسکول جاتے ہوئے گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے؟ برادرِ عزیز، مجھے یقین ہے کہ پراڈو اور پجارو ایسی مہنگی گاڑیوں میں سوار اور کلاشنکوف بَردار محافظوں کے جلو میں سفر کرنے والے اور واشنگٹن، دہلی اور سرینگر میں اسلام کا پرچم لہرانے کے متمنی ''مجاہدین اسلام'' اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔''

مقبول خبریں