ایکسپریس نیوز کو بلیک میل کرنے کا اسکینڈلانسپکٹر بشیر نے چھاپہ مارنے کا اعتراف کرلیا

راولپنڈی پولیس کو چھاپے کی اطلاع کے سوال پرانسپکٹربشیرکی ٹال مٹول، لیڈیز پولیس ساتھ نہ ہونے کی وضاحت بھی نہ دے سکے


Numainda Express September 12, 2015
چھاپہ مارنے والے اہلکار ایک دوسرے کے بیانات ساتھ ملا کر بیان قلمبندکرتے رہے،متاثرہ خاتون،والدہ اوربھائیوں نے بھی بیانات دے یے ۔ فوٹو : فائل

ٹی وی ریٹنگ کی نجی کمپنی میڈیا لاجک اور سی آئی اے پولیس لاہورکے عملے کے مبینہ گٹھ جوڑ سے ایکسپریس نیوزکو بلیک میل کرنے کی سازش بے نقاب ہونے پرچھاپہ مارنے والے انسپکٹر بشیر نیازی نے انکوائری ٹیم کے سامنے شائستہ مشتاق کے گھر چھاپہ مارنے کااعتراف کرلیا۔

سی پی او راولپنڈی اسرار عباسی کی سربراہی میں ایس ایس پی آپریشن،ایس پی پوٹھوہار عتیق طاہر، ایس پی راول ٹاؤن ملک اقبال، ڈی ایس پی لیگل راجہ عظمت پر مشتمل انکوائری ٹیم واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔

گزشتہ روز متاثرہ فریق شائستہ مشتاق، اس کے والدین اور بھائیوں کو ایک مرتبہ پھر طلب کیا اور پولیس لائن میں تقریباً چھ سے سات گھنٹے تک بیانات حاصل کیے گئے۔سی آئی اے پولیس لاہورکے انسپکٹر بشیر نیازی اور ساتھ آنے والے اہلکاروں نے راولپنڈی میں شائستہ مشتاق کے گھر چھاپے کیلیے مدعی خالد دوست کے ہمراہ آنے کااعتراف کر لیا تاہم راولپنڈی سے شائستہ مشتاق کے دو بھائیوںکو زبردستی لاہور لے جانے سے مکرگیا۔

انکوائری ٹیم کو بیانات ریکارڈکرانے کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انسپکٹر بشیر نیازی نے برملا اس امرکا اظہارکیا کہ ملزمہ کی گرفتاری کیلیے مدعی خالد دوست کے ہمراہ وارنٹ لیکر راولپنڈی آیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا قانون اور ضابطہ آپ کو پابند نہیںکرتا کہ متعلقہ ضلع کی پولیس اور تھانے میں آمد ورفت کی اطلاع دیں اور پھرکارروائی کریں تووہ ٹال مٹول کرنے لگے اورکہا اطلاع دینے کی ضرورت محسوس نہیںکی۔جب ان سے پوچھا گیا اگر مان لیا جائے آپ وارنٹ لیکر خاتون ملزمہ کوگرفتارکرنے آئے تھے توکیا خاتون کی گرفتاری کیلیے لیڈیز پولیس ہمراہ تھی تو وہ اس کا مناسب جواب نہ دے سکے۔

انکوائری ٹیم نے بعدازاں شائستہ مشتاق ،ان کے اہلخانہ اور سی آئی اے پولیس کے مذکورہ عملے کوآمنے سامنے بٹھا کرسوالات کیے ۔انکوائری کے دوسرے مرحلے میں سی آئی اے لاہورکے انسپکٹر بشیر نیازی، سب انسپکٹر مصطفی سمیت معاونت کیلئے ساتھ آنے والے دیگر پولیس عملے کے بیانات ریکارڈکرلیے گئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق انکوائری کے دوران شائستہ مشتاق ،ان کی والدہ اور دونوں بھائی اپنے موقف پر قائم رہے اور ایک مرتبہ پھر سی آئی اے کے مذکورہ عملے کی جانب سے رات کی تاریکی میںگھر میںگھس کر والد اور بھائیوںکو اٹھالے جانے اور بعدازاں والدکوکچھ فاصلے پر چھوڑنے اور لاہور میں پیش آنے والے تمام واقعات کودہرایا ۔دونوں فریقین کو الگ الگ کمروں میں بٹھا کر تمام ملوث عملے کو الگ الگ بیانات تحریرکرکے فراہم کرنے کا کہا گیا جس پر سی آئی اے پولیس لاہورکے ملازمین ایک دوسرے کے بیانات ساتھ ملا کر اپنے بیان قلمبندکرتے رہے۔

راولپنڈی پولیس کے سینئر آفیسر نے ایکسپریس کو بتایاکہ دونوں فریقین کے بیانات تحریرکرلئے گئے ہیں، اب انکوائری کو آگے بڑھاتے ہوئے مذکورہ پولیس اہلکاروں اور متاثرہ خاندان کے افرادکے موبائل فون کے کال ریکارڈاور لوکیشنزکو حاصل کرکے اس کا جائزہ لیا جائے گا اسی طرح سی پی او اسرار عباسی متاثرہ فریق کے گھر جا کرموقع ملاحظہ کریں گے۔

پولیس آفیسر نے بتایاکہ خاتون کے دونوں بھائیوںکو سی آئی اے لاہور میں محبوس رکھنے کا پولیس ٹیم وہاں جا کر جائزہ لے گی ۔پولیس آفیسر نے بتایاکہ انکوائری میں انسپکٹر بشیر نے اقرارکیا ہے کہ وہ لاہور میں ایف آئی آرکے اندراج کے بعد وارنٹ لے کر مذکورہ خاتون کے گھرگیا تھا ۔پولیس افسران کے مطابق عدالت کے حکم پر جاری انکوائری چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں مکمل کرلی جائے گی۔

 

مقبول خبریں