نجات کی دعا
پاکستان کے بیس کروڑ عوام دہشت گردی کی ہرقسم کی اشکال اور ہر قسم کے شدت پسندوں سے تنگ آچکے ہیں۔
28نومبر2012ء کو اِنہی صفحات پر ہمارا ایک کالم بعنوان''اِس عفریت سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟'' شایع ہوا۔دہشت گردی اور دہشتگردوں کی مختلف شکلوں کو ''عفریت'' سے تشبیہ دی گئی تھی ۔اِس عفریت نے گذشتہ ایک عشرے سے ایک خونخوارہشت پاتیندوے کی بھی شکل اختیار کرلی ہے جس کے ''کریڈٹ'' میں پاکستان کے 45ہزار معصوم مسلمانوں کا خون شامل ہے۔
حیرت کی انتہا نہ رہی جب اِس کالم کی اشاعت کے بعد بے پناہ ردِعمل سامنے آیا جو اِس بات کا بھی مظہر ہے کہ پاکستان کے بیس کروڑ عوام دہشت گردی کی ہر قسم کی اشکال اور ہر قسم کے شدت پسندوں سے تنگ آچکے ہیں۔بعض قارئینِ کرام کی طرف سے جو ای میلز موصول ہوئیں،اُن میں طالبان کے رہنما ملّا محمد عمر سے عقیدت ومحبت کا بھی اظہار ہوا ہے۔میرا خیال ہے کہ محبت وعقیدت کے اِس اظہار نے وطنِ عزیز کے اندرونی اتحاد کو پارہ پارہ بھی کیا اور ہمیں عالمی نظروں میں بے وقعت اور غیرمعتبر بھی ٹھہرایا ہے۔
جہاد کے نام پر جس شخص نے اِس عفریت کو جنم دے کر اپنی کُرسی مضبوط بنانے اور امریکی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی تھی،وہ تو دُنیا سے جاچکا ہے لیکن جاتے جاتے ہمیں جہنم کے حوالے کرگیا۔ خصوصاً گذشتہ ایک عشرے کے دوران جن خاندانوں نے جہاد کے نام پر فساد پھیلانے والوں کے ہاتھوں جانی ومالی نقصانات اُٹھائے ہیں،بس وہی جانتے ہیں کہ ہم نے جہادِافغانستان کے کونسے ثمرات سمیٹے ہیں۔اِن ''ثمرات'' میں افواجِ پاکستان کے پانچ ہزار سے زائد جوانوں اور افسروں کا خون بھی شامل ہے۔اتنا نقصان تو 65ء اور 71ء کی جنگوں میں ہماری افواج کو ہمارے ازلی دشمن بھارت نے بھی نہیں پہنچایا تھا۔
دہشت گردی کے اِس بے مہار طوفان میں فرقہ پرستوں اور فرقہ پردازوں نے بھی اپنے آپ کو خوب پروان چڑھایا ہے جس میں مبینہ طور پر عالمِ اسلام کے بعض ممالک نے بھی،پردے میں رہ کر،اپنے اپنے مسالک کے گروہوں کی پشت پناہی کی لیکن ہم دوش دیں تو کس کو دیں؟پنجابی کا محاورہ ہے: ماں،تجھے ماروں تو ہاتھ کہاں ڈالوں؟ ملّتِ اسلامیہ تو ہماری ماں کے مصداق رہی ہے لیکن پاکستان کے عوام کتنے بدنصیب ہیں کہ اِسی ملّتِ اسلامیہ کے بعض ممالک نے اپنی اپنی مسلکی اور فقہی جنگیں پاکستان میں لڑیں اور وہ اب بھی بازنہیں آرہے۔ایسے میں اگر امریکا یا کوئی مغربی ملک ہمارے باطنی نفاق سے فائدہ اٹھا کر اپنے مفادات کا تحفظ میں کرنے میں لگا ہے تو پھر اُس سے بھی کیسا گلہ؟
موچھ،میانوالی کا ایک دُور افتادہ مقام ہے۔یہاں سے تعلق رکھنے والے جناب کلیم اللہ نیازی نے خونخوار فرقہ پرستوں کے بارے میں لکھے گئے ہمارے کالم کے ردِعمل میں لکھا:''فرقہ واریت ہمارے قومی وجودکے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے لیکن حکومت اور بیوروکریسی مثبت انداز میں اِس کے خاتمے کے خلاف کوئی اقدام نہیں کررہی۔ہمارے ملک میں تقریباً ہرمسجد چھ،چھ ہیوی ویٹ لائوڈ اسپیکروں سے مزین ہے جنھیں مولوی حضرات،چند استثنیات کے ساتھ،سادہ لوح افراد کے ذہنوں کو مسموم کررہے ہیں۔کوئی انھیں روکنے والا نہیں ہے۔
حکومت اور بیوروکریسی یہ اقدام اِس لیے نہیں کرتی ہے کیونکہ مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنا ان کے اپنے مفاد میں ہے اور انھیں سوٹ کرتا ہے لیکن یہی تقسیم ہمیں تباہی کی جانب دھکیل رہی ہے۔اگر لکھنے والے فرقہ واریت کے واقعی خلاف ہیں تو انھیں اجتماعی حیثیت میں اِن لائوڈ اسپیکروں کے ناجائزاستعمال کے خلاف لکھتے رہنا چاہیے۔مَیں ایک اسکول چلاتا ہوں اور اِن اسپیکروں کے بے جااستعمال کی وجہ سے بچوں کو پڑھانا بہت دشوار ہوجاتا ہے۔
خدا کے واسطے اِس بارے میں سنجیدگی اختیار کیجیے۔ہم نجی حیثیت میں اِن لوگوں کے بارے میں کوئی لفظ کہتے ہیں تو ملّا حضرات ہمارے خلاف ناجائز فتوے جاری کرکے ہمیں اور ہمارے خاندانوں کو ہراساں کرتے ہیں۔عام آدمی ہر فرقے کے لوگوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ پاکستان کے سُنی مسلمان ایرانی صدر احمدی نژاد کا بھی بے پناہ احترام کرتے ہیں''نیازی صاحب نے ایک تجویز بھی دی ہے:''ہمیں صرف اُن مدارس کی مالی اعانت کرنی چاہیے جہاں تمام مسالک کے بچے دینی تعلیم حاصل کررہے ہوں''۔کلیم اللہ نیازی صاحب نے اپنا موبائل فون نمبر بھی دیا ہے لیکن ہم بوجوہ یہ شایع کرنے سے قاصر ہیں کہ اتنی مردانگی بھی اچھی نہیں ہوتی۔
جناب عباس کا کہناہے کہ فرقہ پرستوں اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف بالآخر حکومت ہی کوئی قدم اٹھاسکتی ہے کہ پاکستان کو لاحق دہشت گردی کے مرض سے نجات کا بس یہی طریقہ رہ گیا ہے۔ہمارے مکرم دوست جناب محمد نواز کھرل،جو دینی جماعتوں کے ایک اتحاد کے''وزیرِ اطلاعات ونشریات'' بھی ہیں،سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے اِس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا:''پاکستان کی تمام مساجد اور مدارس پر حکومت کا کنٹرول ہونا چاہیے۔انھیں حکومت کی نگرانی ہی میں بروئے کار رہنا چاہیے اور سرکار پر لازم ہے کہ وہ جمعہ کے لیے ایک متحدہ ومشترکہ خطبہ مرتب کرے اور وہی سارے پاکستان میں پڑھاجانا چاہیے۔
فی الفور تو اِس اقدام کی ضرورت ہے کہ تمام مدارس کے تمام منتظمین سے پوچھا جائے کہ تمہارے فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔اور اگرکوئی مذہبی جماعت،اُس کا تعلق خواہ کسی بھی مسلک سے ہو،کہیں جلسہ کرتی ہے تو اُس سے آن دی ریکارڈ استفسارکیاجائے کہ جلسے کے انعقاد کے لیے پیسے کہاں سے آئے؟''جناب نوازکھرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر حکومت جرات واستقامت سے یہ قدم اٹھائے تو پاکستان میں مسلک وفرقہ کی آگ دہکانے والی غیر ملکی فنڈنگ کا انسداد بھی ہوسکے گا اور یقیناً یہ قدم وطن عزیز کے لیے نعمتِ کُبریٰ بھی ثابت ہوگا۔
کھرل صاحب یہ مستحسن تجویز دے رہے تھے اور مجھے خلیج کا ایک بڑا ملک شدت سے یادآرہاتھا جہاں کسی شخص کو نجی حیثیت میں مسجد بنانے کی اجازت ہے نہ جمعے کو اپنی اپنی مرضی ومنشاء کا خطبہ ارشاد فرمانے کا حق دیاگیا ہے۔حتیٰ کہ یکم دسمبر 2012ء کو اِس ملک کے عظیم مفتی صاحب کا یہ فتویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ جلسے جلوس نکالنا غیر شرعی اور غیرقانونی ہے۔اگراِس فتوے پر ہمارے ملک میں بھی نفاذ ہوجائے تو خدا کی قسم،ہم جیتے جی جنت میں آجائیں گے۔
یہ دنیا مختلف رنگوں سے مزین ہے۔تنوع ہی اِس کی سب سے بڑی انفرادیت اور اِس کا جمال ہے۔چنانچہ ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص ہمارے ہرحرفِ مطبوعہ سے متفق ہو۔یہ تو سوویت یونین میں بھی ممکن نہ ہوسکاتھا جہاں جبر کی تلوار سے سب کو یک رنگ اور ہم نظر بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ہمارے ایک قاری عابدعلی صاحب نے ہمارے کالم سے اختلاف کرتے ہوئے اردو میں برقی ڈاک یوں بھیجی ہے:''آپ کا کالم جب بھی پڑھتا ہوں،مجھے اِس سے تعصب کی بُو آتی ہے۔آپ نے اپنے کالم میں ایرانی صدر احمدی نژاد کودرویش صفت اور جری کہاہے،صرف اِس لیے کہ وہ امریکا کو للکارتا ہے،امریکی استعمار سے اُس نے متھا لگا رکھا ہے جب کہ ملا عمر اور اسامہ بن لادن کو آپ جیسے دانشور دہشتگرد کہتے ہیں جو کہ امریکا سے براہ راست جنگ کررہے ہیں۔
احمدی نژاد اگرامریکی استعمار کو للکاررہے ہیں تو پھر وہ افغانستان اور عراق میں امریکا کا ساتھ کیوں دے رہے ہیں؟''عابد علی صاحب، آپ کو غلط فہمی اور سہو ہوا ہے۔ہم نے کبھی ملا محمد عمر کو دہشت گرد نہیں کہا ہے۔ہاں اتنا افسوس ضرور ہے کہ اُن کے دورِ اقتدار میں پاکستان کے بعض دہشتگردوں کو افغانستان میں بروئے کار رہنے کی آزادی تھی اور جناب محمد عمر صاحب کے عہدِ اقتدار میں پاکستان کی لاتعداد گزارشات کے باوجود ڈیورنڈ لائن کا قضیئہ نہ نمٹ سکا۔
واضح رہنا چاہیے کہ ملا عمر اور افغانستان کا ایک بھی احسان پاکستان پر نہیں ہے جب کہ پاکستان،الحمداللہ،ملامحمدعمر اور افغانستان پراتنے احسانات کرچکا ہے کہ افغانستان کے ہرفرد کو اگر تین بار بھی جنم ملنے کے مواقع میسر آئیں توبھی وہ اِن احسانات کا بدلہ نہیں چکاسکتا۔ اسامہ بن لادن کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔جس ملک کا وہ شہری تھا،اُسی نے اُس سے ناتہ منقطع کرلیاتو عالمی قوانین کے تحت ہم کون ہوتے ہیں اُس سے رشتہ استوار کرنے والے اور اُسے اپنا بنانے والے؟
ہم اپنے خالقِ حقیقی کی جناب میں دست بہ دعا ہیں کہ وہ ہمیں فرقہ پرستی اور فرقہ پرستوں کی محبت سے نجات عطاء فرمائے اور اُس خنجربدست گروہ سے جلدازجلد نجات دے جس نے مجاہدین کا روپ دھار کر ملّتِ اسلامیہ خصوصاً اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ڈس لیا ہے۔