حکومت کا سعودی عرب پر نیا گیم پلان

پاکستان کی غیر یقینی صورتحال ہی اس کا حسن ہے


مزمل سہروردی November 14, 2016
[email protected]

پاکستان کی غیر یقینی صورتحال ہی اس کا حسن ہے۔ یہاں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہاں دن کو رات اور رات کو دن ہونا بھی نا ممکن نہیں ہے۔ صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ بھی ضرورت کے مطابق پالیسی بدلتی ہے۔کبھی امریکا کا دور تھا ہمارے سارے انڈے امریکا کی چھابڑی میں تھے۔ اب چین کا زمانہ ہے۔ اب ہمارے سارے انڈے چین کی چھابڑی میں ہیں۔ایک حوالہ سے مستقل مزاجی ہے کہ ہم سارے انڈے ایک ہی چھابڑی میں رکھنے کے عادی ہیں اور شدید نقصان اٹھانے کے باوجود ہم نے اپنی یہ پالیسی نہیں بدلی ۔ ہم چھابڑی بدل لیتے ہیں۔ لیکن رہتے ایک ہی چھابڑی کے محتاج ہیں۔

سعودی عرب پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کی خواہش کا اعلان کر چکا ہے۔سعودی عرب کے یمن تنازعہ میں پاکستان کی جانب سے فوج نہ بھیجنے کے اعلان سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں سرد مہری آگئی۔ یہ سرد مہری کوئی ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ماحول ایک مرتبہ پھر بدل رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان کی اسٹبلشمنٹ نے سعودی عرب کے حوالہ سے اپنی پالیسی اور سوچ میں کوئی تبدیلی کر لی ہے۔

حافظ سعید نے تحفظ حرمین شریفین کی تحریک دوبارہ شروع کی ہے۔اور ان کی اس تحریک کو سیاسی حکومت کی تصدیق دینے کے لیے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف جماعت الدعوۃ کے ہیڈکواٹر میں حافظ سعید کے پاس پہنچ گئے ۔ ورنہ اس سے قبل تو موجودہ حکومت حافظ سعید کے ساتھ ایک فاصلہ رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھی۔ ایسے میں سعودی عرب کے ساتھ یمن تنازعہ میں عسکری تعاون کے لیے ماحول کو سازگار کرنے کے لیے حکومت اور حافظ سعید میں تعاون دراصل اسٹبلشمنٹ اور سول کے درمیان تعاون ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

حافظ سعید نے یہ تحریک تب بھی شروع کی تھی جب سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔ لیکن تب ان کی یہ تحریک اس قدر کامیاب نہ ہوئی جس کی توقع تھی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ گو کہ سعودی عرب نے بھی کافی کوشش کی لیکن وہ پاکستان میں مطلوبہ عوامی رائے عامہ بھی ہموار نہیں کر سکے۔اسٹبلشمنٹ کو قائل نہ کر سکے۔ کہا جا رہا ہے کہ عمران خان اس وقت اسٹبلشمنٹ کی رائے کا ہی اظہار کر رہے تھے۔

سعودی عرب کے لیے پاکستان میں عمومی طور پر عام آدمی کے دل میں اچھے جذبات ہیں۔ بلا شبہ سعودی عرب کے لیے عام پاکستانی امریکا کی طرح نہیں سوچتا۔کوئی یہ کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کہ جو سعودی عرب کا یار ہے غدار ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب اپنے لیے پاکستان میں چین جیسا ماحول بھی پیدا نہیں کر سکا ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ سعودی عرب پاکستان کی ایک ہی چھابڑی میں تمام انڈوں والی پالیسی کو سمجھ نہیں سکا ہے۔

سعودی عرب کے حوالہ سے دستک دینے والے نئے گیم پلان میں یہ قیاس آرائی بھی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل راحیل شریف سعودی عرب کی جانب سے قائم کی جانیوالی مختلف ممالک کی ایک مشترکہ فوج کی کمان سنبھالیں گے۔ اب ہوتا کیا ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

بہر حال پاکستان میں سعودی عرب کے حوالہ سے بڑے فیصلے ہونے والے ہیں۔ اور اس دفعہ لگتا ہے کہ سعودی عرب نے بھی کافی تیاری اور ہوم ورک کیا ہے۔ اسی لیے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یو سف حافظ سعید کے پاس پہنچ گئے ہیں۔ اور حافظ سعید نے عوام کو متحرک کرنے کے لیے تحفظ حرمین شریفین کی تحریک دوبارہ شروع کر دی ہے۔

میں حافظ سعید کے کسی بھی فیصلے کو عام فیصلہ نہیں مانتا۔ انھیں علم ہے کہ وہ پل صراط پر چل رہے ہیں۔ ان کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ پاکستان کی سیاسی حکومتیں انھیں ان کی ملک کی خاطر خدمات کے باوجود ایک بوجھ سمجھ رہی ہیں۔ جب موجودہ حکومت بھارت سے دوستی کا راگ الاپ رہی تھی تب حافظ سعید ہی خطرہ کی گھنٹی بجا رہے تھے کہ ایسی کوئی دوستی ممکن نہیں۔ جب کشمیر کو ٹھنڈا کرنے کی پالیسی بنائی جا رہی تھی تب بھی حافظ سعید ہی با آواز بلند کہہ رہے تھے کہ کشمیر گرم ہو گا۔ اور اب حافظ سعید نے تحفظ حرمین شریفین کی تحریک شروع کر دی ہے۔ جو بظاہر بے وقت لگ رہی ہے۔ لیکن بے وقت نہیں بلکہ بر وقت ہی ہے۔

حافظ سعید تو سعودی عرب کو میزائیل دینے کی ایسے ماحول میں بات کر رہے ہیں جب وہاں ایک فوجی بھیجنے کا بھی ماحو ل نہیں۔ لیکن شاید ماحول بنانے کاکام ہی تو شروع ہو گیا ہے۔ یہ شاید پہلا کام ہو گا جب حافظ سعید کو سیاسی حکومت کا تعاون بھی حا صل ہو گا۔ اسی لیے وزیر صاحب ان کے گھر پہنچ گئے ہیں۔ ایسے میں سعودی عرب کو سمجھنا ہو گا کہ پاکستان سعودی عرب نہیں۔ یہاں بند کمروں میں فیصلے نہیں ہو سکتے۔ یہاں ایک مضبوط میڈیا ہے۔ اس لیے سعودی عرب کو بند دروازوں کو کھول کر اپنا مقدمہ پاکستان کی عوام کو سمجھانا ہو گا۔ یہ سمجھانا ہو گا کہ یمن کے تنازعہ کا براہ راست ایران سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایران کی پراکسی اور سعودی عرب کی اپنی جنگ ہے۔

یمنی باغیوں کی جانب سے مکہ شہر کی جانب فائر کیا گیا میزائیل حقیقی تھا۔ سعودی عرب کا اس پراپیگنڈہ کو بھی خود کاؤنٹر کرنا ہے کہ سعودی عرب کی مدد فرقہ واریت نہیں ہے بلکہ پاکستان سعوی عرب دوستی اور تعلقات کا تقاضہ ہے۔ ایران کی بھارت سے دوستی کو بھی سعودی عرب نے عیاں کرنا ہے۔ اور سعودی عرب کو یہ بھی سمجھنا ہے کہ پاکستان سے بھر پور مددحاصل کرنے کے لیے اسے بھارت سے فاصلے پیدا کرنے ہونگے۔ مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز دیکر پاکستان سے مطلوبہ نتائج ممکن نہیں۔ پاکستانی میڈیا میں اپنا کیس جیتنا ہو گا۔ تب ہی اسٹبلشمنٹ اور حکومت ان کی مدد کر سکے گی۔ بہر حال ایسے اشارے سامنے آرہے ہیں کہ پاکستان میں سعودی عرب کے حوالہ سے سوچ میں تبدیلی واضح ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلی ابھی غیر محسوس ہے لیکن اگلے ایک ماہ میں ہر پاکستانی اسے محسوس کرے گا۔نئے گیم پلان کے حوالہ سے دیکھتے ہیں کہ یہ نیا گیم پلان کس قدر کامیاب ہو گا۔

مقبول خبریں