جامعہ کراچی شعبہ امتحانات میں تبادلہ کیے گئے افراد تعینات

تقررکردہ افراد سے متعلقہ امورواپس لے لیے گئے ہیں، تمام امورایک فرد کے سپرد کردیے گئے.


Safdar Rizvi January 01, 2013
تقررکردہ افراد سے متعلقہ امورواپس لے لیے گئے ہیں، تمام امورایک فرد کے سپرد کردیے گئے. فوٹو: فائل

جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات میں گذشتہ دور میں تبادلہ کیے گئے افراد کوتعینات جبکہ تقررکردہ افراد سے متعلقہ امورواپس لے لیے گئے ہیں۔

بیشترامور ایک ہی فرد کے سپردکردیے گئے ہیں اورشعبہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی اسامی ''ڈپٹی کنٹرولرکونفیڈینشل''کی نشست خالی چھوڑدی گئی ہے، شعبہ امتحانات کے سربراہ نے ایک ایسے ملازم جس کا تبادلہ سابق وی سی ڈاکٹر ناصر الدین نے کردیا تھا کوکونفیڈینشل روم میں مارک شیٹس کی تیاری سے لیکر دیگر اہم ذمے داریاں تفویض کردی ہیں،معلوم ہواہے کہ مارک شیٹس کی تیاری کے لیے گریڈ 19 کے سینئرافسرڈپٹی کنٹرولر جنرل کو بھی اکثرمذکورہ ملازم سے درخواست کرنی پڑتی ہے۔

6

مزیدبراں شعبہ کے سابق نگراں اورگزشتہ دور میں رکھے گئے ٹیبولیٹرز سے ٹیبولیشن کی بیشتر ذمے داریاں واپس لے لی گئی ہیں اور نتائج کی تیاری کے لیے ٹیبولیشن کے امورانجام دینے والے کئی افرادکاکام صرف 2 افراد سے لیاجارہاہے یونیورسٹی کے متعلقہ استاد کوٹیبولیشن کے علاوہ بیک وقت دیگرکئی ذمے داریاں تفویض کردی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ صبح اوردوپہر میں ہونے والے بی اے،بی ایس سی اوربی کام کے دونوں شفٹوں کے متعلقہ سینٹرکی سربراہی مذکورہ استادہی کے پاس ہے جبکہ پرچہ ختم ہونے کے بعدکاپیاں ''پیپرسیٹر''کے گھرپہنچانے کی حساس ذمے داری''اسائنٹی ٹو'' بھی ان ہی کے سپرد ہے جبکہ ان امورسے وقت نکال کرانھیں اپنے شعبے میں کلاسز بھی لینی ہوتی ہے دوسری جانب نتائج کی کمپیوٹررائزٹیبولیشن اورکمپیوٹرائزمارک شیٹس کاتیاری کا ٹھیکہ ایک ایسے شخص کے پاس ہے جویونیورسٹی کاملازم ہی نہیں،جامعہ کراچی کمپنی کے نام سے رجسٹرڈ اس شخص کوماہانہ تقریباً ایک لاکھ روپے اداکرتی ہے۔

مقبول خبریں