سیاسی ڈرائی کلین فیکٹری
میں ن لیگ کی بات اس لیے نہیں کرتا کہ ن لیگ نے کبھی سیاسی نظام بدلنے کی بات نہیں کی
KARACHI:
سیاسی جماعتوں کا ان کے منشور کی روشنی میں ہی احتساب ہو سکتا ہے۔ اگر ایک سیاسی جماعت نے اپنے منشور میں ایک لبرل نظام حکومت کی بات کی ہے تو اس کی پالیسیوں کو اس کے تناظر میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک سیاسی جماعت نے اپنے منشور میں ایک اسلامی نظام حکومت کا وعدہ کیا ہے تو اس کی پالیسیوں کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ عوام سے دھوکا تب ہے جب سیاسی جماعت ووٹ تو کسی ایک نعرہ پر حاصل کرے اور عملی پالیسیوں میں اس سے انحراف کرے۔ دینی جماعت کا سیکولر بن جانا اور سیکولر کا دینی بن جانا بھی عوام سے دھوکا قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح نظام کو بدلنے کا نعرہ لگانے والے جب نظام کا حصہ بن جائیں تو مقام افسوس بن جاتا ہے۔ ایک مثبت جمہوری معاشرہ میں سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے لیے اپنے منشور پر کاربند رہنا ہی سب سے اہم ہوتا ہے۔
میں ن لیگ کی بات اس لیے نہیں کرتا کہ ن لیگ نے کبھی سیاسی نظام بدلنے کی بات نہیں کی۔ ن لیگ کے ووٹرز جانتے ہیں کہ ان کی جماعت اسی نظام کی پیداوار ہے اور اسی نظام کو چلانے میں خواہاں ہے۔ ن لیگ نے اپنے ووٹر کو کبھی نہیں کہا کہ وہ نظام کو بدلنے جا رہی ہے۔ وہ اپنے ووٹر کو نظام سے بدظن بھی نہیں کرتی۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کی بات بھی اس لیے نہیں کی جا سکتی کہ پیپلزپارٹی نے شکست فاش کے باوجود کبھی بھی نظام بدلنے کے بات نہیں کی بلکہ وہ اسی نظام میں سے اپنے لیے دوبارہ راستہ بنانے کے لیے خواہاں ہیں۔پیپلزپارٹی میں کسی بھی لیڈر پر کسی بھی کرپشن کا کوئی الزام اہمیت نہیں رکھتا بلکہ پیپلزپارٹی کو تو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اگر ان کا کوئی لیڈر کرپشن کے کسی کیس میں پھنس جائے تو وہ اس کو اس مشکل وقت میں چھوڑتی نہیں ہے بلکہ آخری دم تک اس کا دفاع کرتی ہے۔
افسوس اور دکھ تو تحریک انصاف سے ہے جس نے نظام کو بدلنے کی بات کی، نئی قیادت آگے لانے کی بات کی ، روایتی سیاست کے بت توڑنے کی بات کی، نوجوان قیادت کو سامنے لانے کی بات کی اور پھر آہستہ آہستہ اپنی باتوں سے انحراف کرتے ہوئے خود کو بھی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے سانچے میں ہی ڈھال لیا ہے۔ نئی نوجوان قیادت کے ذریعے تبدیلی کا نعرہ لگانے والی جماعت نے ایک ڈرائی کلین فیکٹری شروع کر دی ہے۔ جس کا نعرہ ہے کہ ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ ہم ماضی کا تمام گند صاف کر کے آپ کو صاف ستھرا کر دیں گے۔ اس سیاسی ڈرائی کلین فیکٹری نے اب تو کام بہت تیز کر دیا ہے اور ہر ہفتہ ڈرائی کلین کر کے مال مارکیٹ میں بھیج رہی ہے۔ یہ سیاسی ڈرائی کلین فیکٹری بلا شبہ پارٹی منشور اور اس کے بنیادی تبدیلی کے نعرہ سے انحراف ہے۔
ایک امید تھی کہ عمران خان کو ان جیتنے والے گھوڑوں کی مدد کے بغیر عوامی پذیرائی ملی ہے اس لیے وہ اور ان کی جماعت خود کو ان کی محتاج نہیں بنائے گی۔ امید تو یہی تھی کہ عمران خان ہر قسم کے سیاسی گند کو اپنی جماعت سے دور رکھیں گے۔اس جماعت میں کوئی منڈی نہیں ہو گی۔ یہاں صرف انتخابات جیتنے کے لیے پارٹی بدلنے والوں کی بولی نہیں لگائی جائے گی۔ لیکن افسوس سب امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ بلکہ تحریک انصاف نے مارکیٹ میں تیزی پیدا کر دی ہے اور پارٹی بدلنے والوں کا ریٹ پہلے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔
تازہ خبر تو یہی ہے کہ محترمہ فردوس عاشق اعوان کو بھی عمران خان نے چشم ما روشن دل ماشاد کہتے ہوئے تحریک انصاف میں خوش آمدید کہہ دیا ہے۔ وہ پیپلزپارٹی سے تحریک انصاف میں آئی ہیں۔ محترمہ فردوس عاشق اعوان پاکستان کی کوئی پہلی سیاستدان نہیں ہیں جنہوں نے انتخابات سے قبل سیاسی جماعت تبدیل کی ہے ۔ وہ اس سے پہلے ق لیگ سے پیپلزپارٹی میں گئی تھیں۔
فردوس عاشق اعوان کوئی پہلی سیاستدان نہیں ہیں جو تحریک انصاف کی ڈرائی کلین فیکٹری سے کلین ہوئی ہیں۔ اس میں تو اب اتنے نام شامل ہیں کہ گنتی مشکل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان بھی ایک نئی قیادت ملک کو دے سکے ہیں۔ شاہ محمود قریشی بھی پیپلزپارٹی سے آئے اور ڈرائی کلین ہو گئے ہیں۔ جہانگیر ترین ق لیگ سے آئے اور ڈرائی کلین ہو گئے۔ پرویز خٹک بھی پیپلز پارٹی سے آئے اور صاف ہو گئے۔ علیم خان بھی ق لیگ سے آئے اور مسٹر کلین ہو گئے۔ چوہدری سرور ن لیگ سے آئے اور صاف ستھرے قرار پائے۔ تازہ تازہ غلام مصطفیٰ کھر بھی ڈرائی کلین ہوئے ہیں۔ بلوچستان سے رند بھی ق لیگ سے آکر ڈرائی کلین ہوئے۔ جے یو آئی (ف)سے اعظم سواتی بھی ڈرائی کلین ہو گئے ہیں۔ ن لیگ سے آنے والوں کی تعداد کم اس لیے ہے کہ ن لیگ ابھی اقتدار میں ہے۔ اور یہ پارٹی بدلنے والے بہت سمجھدار ہیں کبھی اقتدار کا اصطبل نہیں چھوڑتے۔
یہ درست ہے کہ تحریک انصاف اکیلی یہ کام نہیں کر رہی ۔ جناب آصف زرداری نے سندھ میں یہ کام بہت زیادہ کیا ہے۔ بلکہ کہا جا رہا ہے کہ آصف زرداری نے سندھ میں اپنے تمام مخالفین کو اپنی جماعت میں شامل کر لیا ہے۔ فنکشنل لیگ تو بند ہی ہوگئی ہے۔ پنجاب میں بھی فیصل صالح حیات پیپلزپارٹی میں واپس آ گئے ہیں۔لیکن کیا پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی ڈرائی کلین فیکٹریوں کو ایک ہی تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
یہاں منشور اور نعرہ کی اہمیت ہے۔ کیا تحریک انصاف نے جو سیاسی ڈرائی کلین فیکٹری لگائی ہے وہ اس کے منشور سے مطابقت رکھتی ہے۔ کیا یہی تبدیلی ہے کہ آپ دوسری جماعتوں سے وہی آزمودہ چہرے اپنی فیکٹری میں لے آئیں۔ کیا آپ نے عوام سے اسی تبدیلی کا وعدہ کیا تھا۔مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ پرانے چہروں کی مدد سے عمران خان کس تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں۔
کیا یہ ڈرائی کلین فیکٹری کسی تبدیلی میں مدد گار ہو سکتی ہے۔ ایسا تو ہو سکتا ہے کہ ان جیتنے والوں کی مدد سے تحریک انصاف کی سیٹوں میں اضافہ ہو جائے لیکن تبدیلی ممکن نہیں ہو گی۔کیا ایسا نہیں کہ تحریک انصاف اور دوسری سیاسی جماعتوں میں فرق ختم ہو گیا ہے۔ وہ بھی اس نظام کی ہی حصہ دار بن گئی ہے۔ شاید ہمارے نظام کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ بہت جلد سب کو اپنے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ اور عمران خان بھی اس نظام کے رنگ میں رنگے جا چکے ہیں۔مختلف جماعتوں سے ڈرائی کلین ہو کر آنے والے رہنماؤں نے عمران خان کو سمجھا دیا ہے کہ یہ تبدیلی وغیرہ سب فضول ہے ۔ اصل مقصد انتخابات جیتنا ہے۔ منشور اور نعرہ کی کوئی اہمیت نہیں اور اس کے لیے ڈرائی کلین فیکٹری کا دن رات چلنا بہت ضروری ہے۔ اسی لیے ڈرائی کلین فیکٹری نے دن رات کام شروع کر دیا ہے۔