قطر کا مسئلہ

اندر کی بات یہ کہی جا رہی ہے کہ امریکا ایران اور قطر کے تعلقات خراب کرنا چاہتا ہے


Zaheer Akhter Bedari June 15, 2017
[email protected]

سعودی عرب کی قیادت میں قطرکے خلاف جو محاذ بنا ہے، اس نے قطر سے نہ صرف سفارتی تعلقات ختم کردیے ہیں بلکہ بعض سخت قسم کی پابندیاں بھی عائد کردی ہیں جس کی وجہ سے قطر شدید مشکلات کا شکار ہے، قطر ایئرلائن بھی ان مشکلات میں شامل ہے۔ سعودی حکومت نے تمام قطری باشندوں کو جو سعودیہ میں رہتے ہیں چودہ دن میں ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے۔

یہ سارا ڈرامہ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے بعد ہو رہا ہے۔ قطر پر الزام ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے دہشت گردوں کی مدد کرنا خواہ وہ کسی ملک کی طرف سے ہو یا کسی حکمران کی طرف سے آج کے سنگین حالات میں ایک عالمی جرم کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس قسم کے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیق کا کوئی بندوبست ہے نہ کوئی موثر نظام موجود ہے۔ دور کیوں جائیں پاکستان اور افغانستان کو لے لیں ایک طویل عرصے سے افغانستان پاکستان پر دہشت گردوں کی مدد کا الزام لگاتا آرہا ہے اور جواب آں غزل کے طور پر پاکستان اسی قسم کا الزام افغانستان پر لگا رہا ہے لیکن نہ پاکستان نے افغانستان سے سفارتی تعلقات توڑے ہیں نہ افغانستان نے پاکستان سے سفارتی تعلقات توڑے ہیں۔

اس حوالے سے اندر کی بات یہ کہی جا رہی ہے کہ امریکا ایران اور قطر کے تعلقات خراب کرنا چاہتا ہے جس کا مقصد ایران کو خلیج میں تنہائی کا شکارکرنا ہے ایران سے تعلقات توڑنے پر شاید قطر تیار نہ ہوا لہٰذا اس پر دہشت گردوں کی مدد کا الزام لگا کر سفارتی تعلقات توڑنے کی راہ ہموار کی گئی۔ ٹرمپ حکومت ایران پر دھڑلے سے دہشت گرد ملک ہونے کا الزام لگا رہی ہے۔

اس پس منظر میں ایران دوستی مغربی کتاب میں دہشت گردوں کی مدد ہی کہلاسکتی ہے۔ ایران سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کا اللہ واسطے کا بیر محض اس لیے ہے کہ ایران علاقے میں واحد ملک ہے جو اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے سخت خلاف ہے ۔ ایران اپنی اس پالیسی کی وجہ سے بجا طور پر اسرائیل کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اسی تناظر میں وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے لیکن امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اس کوشش کو عالمی مسئلہ بناکر اور دنیائے امن کے لیے خطرہ ٹھہرا کر ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں لگا دیں اور ایران کو مجبورکردیا گیا کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے سے باز آجائے۔

ایٹمی ہتھیار بنانا یا ایٹمی ہتھیار رکھنا بلاشبہ ایک ایسا سنگین جرم ہے جو کرہ ارض پر انسانی زندگی کی بقا کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے لیکن کئی ملک ایٹمی ہتھیاروں کے بڑے ذخائرکے مالک ہیں جن میں اسرائیل بھی شامل ہے لیکن امریکا یا اس کے مغربی اتحادیوں کو اسرائیل خطرہ نظر نہیں آتا ہے۔ اس حوالے سے اس حقیقت کی نشان دہی ضروری ہے کہ اسرائیل کے خطرے ہی کی وجہ سے عرب ملک جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں بلکہ سر فہرست ہیں مغربی ملکوں خاص طور پر امریکا سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خرید رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے حالیہ دورۂ سعودی عرب میں بھی سعودی عرب سے اربوں ڈالر کے اسلحے کی فروخت کے معاہدے کیے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے دوران 50 سے زیادہ مسلم ملکوں کی جس کانفرنس میں شرکت کی اس کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے خلاف ایک بڑا متحدہ محاذ بنانا تھا بلاشبہ دہشت گردی ایک ایسی بلا ہے جس کے خلاف ایک بڑے محاذ کی ضرورت ہے لیکن دہشت گردی کی آڑ میں اپنے حریف ملکوں کے خلاف محاذ بنانا بھی دہشت گردی سے بڑا جرم ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کا اصل مقصد بھی ایران کے خلاف عرب ملکوں کو متحد کرنا تھا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قطر اس اتحاد میں کباب میں ہڈی بن رہا تھا۔ جس کا ازالہ کردیا گیا۔

57 مسلم ملک افرادی قوت اور مادی وسائل کے حوالے سے ایک بہت بڑی طاقت ہیں لیکن سامراجی ملکوں نے اس طاقت خصوصاً خلیج کی طاقت کو اپنے قبضے میں کیا ہوا ہے اور انھیں اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا آرہا ہے۔ عرب ملکوں کی یہ سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ ان ملکوں میں رائے عامہ کا سرے سے کوئی وجود نہیں۔ ماضی بعید کا سلاطینی دور مختلف شکلوں میں ان ملکوں میں رائج ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ساری دنیا میں جمہوریت کا پروپیگنڈا کرنے والے مغربی ملکوں کو خلیج میں جمہوریت کی خلیج نظر نہیں آتی۔

جمہوریت سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے عشق کا عالم یہ ہے کہ اگر کسی جمہوری ملک میں جمہوری حکمرانوں کی حکمرانی عوام کے لیے عذاب بن جاتی ہے اور اس صورتحال میں ''غیر جمہوری'' قوتوں کی مداخلت کے امکانات نظر آتے ہیں تو امریکا فوری جمہوریت کا کلہاڑا لے کر غیر جمہوری قوتوں کا سر کچلنے کے لیے آجاتا ہے لیکن اسے اکیسویں صدی میں ماضی کے بادشاہی نظام پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ وہ اس نظام کا سرپرست اعلیٰ بنا ہوا ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے آج کی دنیا میں داعش سرفہرست ہے۔ داعش کی یہ عجیب سیاست ہے بلکہ تمام مذہبی انتہا پسند طاقتوں کی یہ عجیب پالیسی ہے کہ وہ دعویٰ تو ساری دنیا میں اسلامی نظام کے قیام کا کرتی ہیں لیکن ان کا سب سے پہلا نشانہ مسلمان بن رہے ہیں۔ صرف پاکستان میں اب تک 70 ہزار سے زیادہ بے گناہ مسلمان اس مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہوچکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسی انتہا پسندی ہے جس کا شکار ساری دنیا میں خصوصاً مسلم ملکوں میں بے گناہ مسلمان ہو رہے ہیں؟ کیا یہ تحریک عملاً مسلمانوں اور مسلم ملکوں کو نقصان نہیں پہنچا رہی ہے؟

کہا جا رہا ہے کہ اس تحریک کی خفیہ سرپرستی مغربی ملک خصوصاً اسرائیل کر رہا ہے تاکہ مسلم ملکوں کو نقصان پہنچایا جائے اور انھیں انتشار میں مبتلا رکھا جائے میڈیا کی خبروں کے مطابق داعش کو اسرائیل کی سرپرستی حاصل ہے اور یہ خبریں بھی میڈیا کی زینت بن چکی ہیں کہ 35 ملک اسے فنڈنگ کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں قطر کا مسئلہ کیا مسلم ملکوں میں خلفشار بڑھانے کی کوشش یا سازش نہیں ہوسکتا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر مسلم ملکوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں