خوفناک افریقی بولنگ اٹیک پاکستانی اعصاب پر سوار

تیسرے ٹیسٹ کا آج سنچورین میں آغاز،ڈیل اسٹین اورفلینڈر ستم ڈھانے کیلیے تیار، مہمان بیٹنگ لائن کیلیے ثابت قدمی کا۔۔۔


Sports Desk February 22, 2013
بیٹنگ میں بہتری درکار ہے، نئی گیندکے سامنے میں درپیش مشکلات دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں(مصباح الحق) کلین سوئپ کا خواب پورا کرینگے، اسمتھ فوٹو : فائل

جنوبی افریقہ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کا سخت ترین امتحان جمعے سے سنچورین میں شروع ہوگا، فاسٹ اور بائونسی پچ پر خوفناک پروٹیز بولنگ اٹیک پاکستانی اعصاب پر سوار ہو چکا۔

ڈیل اسٹین اور ورنون فلینڈر ستم ڈھانے کیلیے تیار ہیں، مہمان ٹیم پروٹیز کا قلعہ سمجھے جانے والے اسٹیڈیم میں ساکھ بحال کرنے کیلیے کوششیں کریگی،اب تک ناقابل اعتبار ثابت ہونے والی بیٹنگ لائن کیلیے ثابت قدمی کا مظاہرہ کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا، دو میچزکی شکست خوردہ سائیڈ کی امیدوں کے محور دراز قامت پیسر محمد عرفان اور ان فارم اسپنر سعید اجمل ہوں گے، جنید خان کے میچ فٹ نہ ہونے کی صورت میں عبدالرحمان یا احسان عادل کو موقع دیا جاسکتا ہے۔

مورن مورکل کی عدم موجودگی میں پروٹیز کلینویلڈ کی خدمات حاصل کرینگے،کپتان مصباح الحق ایک بار بھر بیٹسمینوں سے نئی گیند کا بہتر سامنا کرنے کی توقعات لگائے بیٹھے ہیں، میزبان قائد گریم اسمتھ کا کہنا ہے کہ ہمارے سوئنگ کے ہتھیاروں سے لیس پیسرز کنڈیشنز کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں، کلین سوئپ کا خواب پورا کرینگے۔ تفصیلات کے مطابق سنچورین کے میدان پر گذشتہ17 میں سے13 ٹیسٹ جیتنے والی جنوبی افریقی ٹیم پاکستانی بیٹنگ لائن کا ایک اور امتحان لینے کیلیے تیار ہے، جوہانسبرگ میں واضح مارجن سے کامیابی کے بعد کیپ ٹائون میں پاکستان کیلیے سازگار کنڈیشنز میں سعید اجمل نے میزبانوں پر کاری ضربیں لگائیں اور انھیں فتح کیلیے سخت محنت کرنا پڑی، میزبان ٹیم کی پوری کوشش ہے کہ دوسرے ٹیسٹ جیسی صورتحال پیدا ہونے کی نوبت ہی نہ آئے اور کلین سوئپ کا خواب پورا ہو جائے۔

کوچ گیری کرسٹن ٹرننگ پچ کے امکانات ختم کرنے کی ہدایت دے چکے،امکان یہی ہے کہ گرین ٹاپ وکٹ پر ڈیل اسٹین اور ورنون فلینڈرکو تباہ کاری مچانے کا پورا موقع ملے گا، مورن مورکل کا خلا میڈیم پیسر کلینویلڈ سے پُر کیا جائے گا، نیا تجربہ کرنے کے شوق میں کائیل ایبٹ کو بھی آزمایا جاسکتا ہے، بیٹنگ میں قابل قدر کارکردگی دکھانے والے روبن پیٹرسن اسپن کا شعبہ سنبھالیں گے،ہر اننگز میں نئی گیند پر مشکلات کا شکار پاکستان ناصر جمشید کی جگہ عمران فرحت کو آزمائش میں ڈالنے کا سوچ رہا ہے، فارم کو ترستے دوسرے اوپنر محمد حفیظ بھی سخت دبائو میں ہوں گے،اظہر علی بھی ایک دو بار اچھے آغازکے باوجود بڑی اننگز نہیں کھیل پائے، نیولینڈز میں سنچری میکر یونس خان اور اسد شفیق کے ساتھ کپتان مصباح الحق کو جم کر کھیلنے کی ضرورت ہوگی، پہلے ٹیسٹ میں49 پر ڈھیر ہونے والی مہمان ٹیم ایک بار پھر خوف کے سائے سے نکلنے کیلیے کوشاں ہوگی۔



دوسرے ٹیسٹ میں اپنے قد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ورلڈ نمبر ون ٹیم کی بیٹنگ لائن کو پریشان کرنے والے دراز قامت پیسر محمد عرفان سنچورین کی وکٹ پر پاکستان کے اہم ترین ہتھیار سمجھے جارہے ہیں، فٹنس مسائل کے سبب نیولینڈز میں میدان سے باہر بیٹھنے والے جنید خان کی شمولیت مایوس کن کارکردگی دکھانے والے کم رفتار فاسٹ بولر تنویر احمد کی چھٹی کرادے گی، جنید کی عدم دستیابی پر عبدالرحمان یا احسان عادل کو موقع دیا جاسکتا ہے، مہمان بولرز کی کوشش سے میچ لو اسکورنگ ہوا تب بھی ناقابل بھروسہ پاکستانی بیٹنگ لائن کے حوالے سے تشویش کم نہیں ہوگی۔کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا سمیت دنیا بھر میں پچز سلو ہوتی جارہی ہیں تاہم سنچورین کی وکٹ بدستور سخت اور بائونسی ہے، فاسٹ بولرز کا سامنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا، کریز پر جم کر کھیلنے کی ضرورت ہے۔

وقت گزارنے کے بعد ہی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ ایک اننگز نہیں تسلسل کے ساتھ بڑے اسکور کا تقاضا کرتی ہے، ہمیں اپنی بیٹنگ بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ہر بیٹسمین نئی گیند کا سامنا کرنے میں درپیش مشکلات دور کرنے کی کوشش کررہا ہے، خاص طور پر اننگز کے ابتدائی10اوورز میں بہتری کیلیے فکرمند ہیں، امید ہے کہ اس بار صورتحال ٹھیک رہے گی۔پروٹیز قائد گریم اسمتھ نے کہا کہ نتائج سے قطعہ نظر پاکستان بہتر ٹیم ہے، سعید اجمل اور پیسرز کی موجودگی میں مہمان ٹیم کا مضبوط بولنگ اٹیک ورائٹی سے بھرپور ہے، کئی کھلاڑی عمدہ کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، دوسرے ٹیسٹ میں ثابت کرچکے کہ اگر اچھا پرفارم کریں تو ہمیں ایک بار پھر مشکل میں ڈال سکتے ہیں، ہمیں اگلی سیریز بھی یو اے ای میں پاکستان کے خلاف ہی کھیلنا ہے ۔

جہاں کے حالات بھی ان کیلیے سازگار ہوں گے، ہوم گرائونڈ پر کلین سوئپ کا اعتماد ساتھ لیکر ٹور پر جانا چاہیں گے، انھوں نے کہا کہ سنچورین کا میدان ہمیں ہمیشہ اپنی قوت کے اظہار کا بھرپور موقع فراہم کرتا ہے، سوئنگ کے ہتھیاروں سے لیس فاسٹ بولرز یہاں کی کنڈیشنز کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں، گذشتہ میچ میں پچ نے ہمیں اہم وکٹیں حاصل کرنے اور رنز بنانے کا موقع نہیں دیا، اس بار صورتحال ہمارے بجائے حریف ٹیم کو مشکلات میں ڈالنے والی ہوگی، سیریز میں فتح اپنی جگہ مگر ہم کوئی بھی میچ ہارنا نہیں چاہتے۔

مقبول خبریں