روایتی سیاست کو بدلاجاسکتا ہے

یہ جادو یہ نظر بندی کا کھیل اس ملک میں 70 سال سے جاری ہے اور کامیابی سے جاری ہے


Zaheer Akhter Bedari January 16, 2018
[email protected]

سیاسی جماعتیں 2018 کے انتخابات کی تیاریاں کررہی ہیں۔ یہ وہی سیاسی جماعتیں ہیں جو عشروں سے انتخابات لڑتی آرہی ہیں،اس فرق کے ساتھ کہ ماضی میں ان کے آبا انتخابات میں حصہ لیتے تھے اور کامیاب ہوجاتے تھے اب وہ اپنے آباواجداد کی جگہ خود انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔ چونکہ ہمارا انتخابی نظام طاقت اور دولت کے چہروں پر کھڑا ہے اور اس ملک کے 20 کروڑ عوام طاقت اور دولت سے محروم ہیں لہٰذا وہ انتخابات جیتنے کے بارے میں بھلا کیا سوچ سکتے ہیں۔ وہ انتخابات لڑنے ہی کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ یہ نظام 70 سال سے ہماری سیاست کا حصہ بنا ہوا ہے لہٰذا اس موروثی نظام کو ہمارے سیاست دان جمہوری نظام کا نام دے کرعوام کو مستقل دھوکا دیتے آرہے ہیں اور اگر 2018 میں انتخابات ہوئے تو طاقت اور دولت کے مالک ہی ملک کے مالک بن جائیںگے۔ اربوں روپوں کے خرچ سے جو انتخابات سجائے جاتے ہیں اس کا نتیجہ پہلے سے معلوم ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہماری سیاسی روایات کا حصہ ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ دھاندلی سو فی صد نہیں ہوتی ووٹروں کی بڑی تعداد ایماندارانہ ووٹ ڈالتی ہے لیکن اس کا فائدہ اس لیے نہیں ہوتا یعنی عوام کے حقیقی نمایندے اس لیے قانون ساز اداروں میں نہیں پہنچ سکتے کہ ان میں انتخابات لڑنے کی سکت ہی نہیں ہوتی۔ اس صورتحال میں عوام کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کاسٹ کرتے وقت کم ازکم اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ جس امیدوار کو ووٹ دے رہے ہیں کیا وہ اور اس کی پارٹی ماضی میں برسر اقتدار رہے ہیں، اگر رہے ہیں تو ان بزرگوں نے اپنے دور میں عوام کے کون سے مسائل حل کرسکے ہیں۔ جبتک آپ اس کسوٹی پر نمایندوں کو نہیں پرکھیںگے اس وقت تک نہ اپنا ووٹ درست طریقے سے استعمال کرسکتے ہیں نہ کوئی حقیقی عوامی نمایندہ قانون ساز اداروں میں پہنچ سکتا ہے۔

ہماری سیاست کے اکھاڑے میں جو پہلوان اپنی تقریر دلپسندیہ سے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں یہ تقاریر الفاظ کے الٹ پھیر کے ساتھ وہی تقاریر ہیں، جو 70 سال سے مسلسل دہرائی جارہی ہیں۔ ہماریسیاست دان جو غریبوں کے غم میں گھلے جارہے ہیں ان سے عوام یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ جن محترمین کو یہ رہنما الیکشن لڑنے کے لیے پارٹی ٹکٹ دیتے ہیں ان میں کتنے مزدوروں کے نمایندے ہیں، کتنے کسانوں کے نمایندے ہیں، کتنے ہاریوں کے نمایندے ہیں، کتنے چھوٹے کاروباری لوگوں کے نمایندے ہیں، کتنے اساتذہ کے نمایندے ہیں، کتنے وکلا کے نمایندے ہیں، کتنے ڈاکٹروں کے نمایندے ہیں،کتنے انجینئروں کے نمایندے ہیں، کتنے صحافیوں کے نمایندے ہیں، کتنے ادیبوں کے نمایندے ہیں، کتنے شاعروں کے نمایندے ہیں، کتنے فنکاروں کے نمایندے ہیں، کتنے غریب اقلیتوں کے نمایندے ہیں؟

افسوس کے ان سوالوں میں سے کسی ایک سوال کا جواب بھی وہ سیاست دان نہیں دے سکتے جو سیاست کو اپنے باپ دادا کی جاگیر سمجھتے ہیں اور انتخابی میدان میں یا تو اپنے بیٹے بیٹیوں اور رشتے داروں کو اتارتے ہیں یا کروڑ پتیوں یا ارب پتیوں کو۔

آج کل سابقہ حکمران طبقہ یا موجودہ برسر اقتدار طبقہ اپنے ''پچھلے کارناموں'' کو دہرا رہا ہے، کہاجارہاہے کہ ہم نے ملک میں لوڈ شیڈنگ ختم کردی رول تو یہ کھلا جھوٹ ہے کیونکہ ملک کے تمام شہروں میں کسی نہ کسی دورانیے کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، ہمارے ایکوزیر ایک جلسے میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی حاضرین کو خوشخبری سنارہے تھے کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ معلوم نہیں کہ وزیر موصوف پر اس حاضر سروس لوڈ شیڈنگ کا کیا اثر ہوا لیکن خوب جگ ہنسائی ضرور ہوئی۔ اس حوالے سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ عشروں سے مسند اقتدار پر براجمان رہنے والوں کو الیکشن سے کچھ عرصے قبل ہی عوامی مسائل حل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے جو زعما30،30 سال سے اقتدار میں ہیں انھیں اب تک عوامی مسائل کے حل کا خیال کیوں نہیں آیا؟ اب عین انتخابات سے کچھ عرصہ قبل ہی انھیں عوامی مسائل کے حل کی ضرورت کا اس شدت سے احساس کیوں ہورہاہے؟

یہ جادو یہ نظر بندی کا کھیل اس ملک میں 70 سال سے جاری ہے اور کامیابی سے جاری ہے، اس کی ویسے تو بہت ساری وجوہات ہیں لیکن ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا قومی ذمے داریوں کو محسوس کرتے ہوئے سیاست دانوں خاص طور پر حاضر سروس سیاست دانوں اور سابق حکمرانوں کے کارناموں سے عوام کو آگاہ کرنے کے بجائے کروڑوں روپوں پر مشتمل اشتہارات جو اشرافیائی خاندانوں کی تصویروں سے بھرے رہتے ہیں وہ میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچاکر عوام کو مس گائڈ کرنے کا فرض ادا کررہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ غریب طبقات مزدوروں، کسانوں، اساتذہ، چھوٹے تاجروں، وکیلوں، ڈاکٹروں، صحافیوں، ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کے نمایندے کروڑوں روپے خرچ کرکے انتخابی مہم نہیں چلاسکتے۔ کیا ہمارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ان کمزور لیکن ایماندار مخلص، اہل لوگوں کو بڑے پیمانے پر عوام میں روشناس کرانے کی عوامی اور قومی ذمے داری پوری نہیں کرسکتا؟

یہ درست ہے کہ اگر میڈیا اس عوامی تعارف کی مہم شروع کرے تو ہر کوئی اس سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا لیکن اس کا ایک بہتر اور قابل عمل طریقہ یہ ہے کہ یہ کیٹگری پر پروفیشنل تنظیم اپنے امیدوارنامزد کرے مثلاً ٹریڈ یونین ہے، کسانوں اور ہاریوں کی تنظیمیں ہیں، وکلا اور ڈاکٹروں کی تنظیمیں ہیں، صحافیوں اور ادیبوں کی تنظیمیں ہیں وہ ہر علاقے سے اپنے امیدوار چن کر ان کے نام میڈیا کو دے سکتی ہیں اور میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا عوام کے ان حقیقی نمایندوں کو عوام میں روشناس کراسکتا ہے اور ہر شہر، ہر گاؤں میں ایسی عوامی تنظیمیں کھڑی کی جاسکتی ہیں جو اپنے علاقے کے معروف اور اہل امیدواروں کو مقامی سطح پر عوام میں متعارف کرانے کی ذمے داری پوری کریں۔ ہوسکتا ہے اس کام میں مشکلات پیش آئیں لیکن خلوص اور دلجمعی کے ساتھ ہر علاقے کے نوجوان یہ ذمے داریاں سنبھالیں تو چوروں، لٹیروں اور موروثی سیاست دانوں سے نجات حاصل ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں