پہلے مینڈیٹ چھینا اب حکومت کو تسلیم کرنے کا دباؤ ہے فضل الرحمٰن

اس پراپوزیشن متحد ہے کہ دباؤ قبول نہیں کریں گے، ایسے ناسمجھوں کوحکومت دی گئی جن کے پاس وژن ہے نہ ٹیم


Numainda Express October 22, 2018
ملک آئیڈیل باتوں اورخیرات سے نہیں چل سکتا، ،مذاکرات کیلیے کسی نے رابطہ نہیں کیا،سربراہ جے یو آئی ف کی گفتگو فوٹو : فائل

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کیلئے کسی نے کو ئی رابطہ نہیں کیا۔

وہ اتوار کو چارسدہ میں حاجی حمید اللہ کی رہائش گاہ پر ان کی والد کی وفات پر فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے دو مہینوں میں ملک کو ایسے معاشی بحران کی طرف دھکیلا جو تاریخ میں پہلی بار ہوا، نئی نسل کو امیدیں اور سبز باغ دکھائے گئے تھے جو دھر ے کے دھرے رہ گئے، ایسے ناسمجھ لوگوں کو حکومت دی گئی ہے۔

جن کے پاس کوئی وژن ہے نہ ٹیم۔ عمران خان نے ملک کے وسائل، مسائل اور صلاحیتوں کو سمجھے بغیر آئیڈیل باتیں کیں لیکن آئیڈیل باتیں کرنے سے ملک ترقی نہیں کر سکتا بلکہ حقیقتاً آج پاکستان بہت پیچھے چلا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جن لوگوں نے پی ٹی آئی کو حکومت دی وہ کب تک چلاتے ہیں یہ ان پر منحصر ہے۔ پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے اور شائد آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک ہمیں قرضہ نہ دیں، دوست ملک ہمیں کتنی خیرات دیتے ہیں یہ اپنی جگہ مگر ملک خیرات سے نہیں چل سکتا۔

سیاسی جماعتوں سے مینڈیٹ بھی چھینا اور اب موجودہ حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے مگر اس حوالے سے اپو زیشن متحد ہے اور کسی صورت موجودہ حکومت کو تسلیم اور جائز نہیں سمجھتی، موجودہ حکومت ڈیفیکٹیو ہے اور پہلے بھی اس طرح کی حکومتیں بنتی آرہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے جنرل پرویز مشرف کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنرل مشرف کی وجہ سے عدالتوں کی بے توقیری کی گئی۔

مقبول خبریں