اپنوں پر اعتبار کیوں نہیں
اُنہوں نے غصے میں وہ کچھ کہہ دیا جو نہ کہتے تو پوری قوم کے لیے بہتر ہوتا۔
سچی بات یہ ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کی اشاعت اور نشر کیے جانے پر دل بُجھ سا گیا ہے۔ فوج اور ایئر فورس کے حوالے سے اخبارات و الیکٹرانک میڈیا میں جو نشتر زنی کی گئی ہے، کیا اِس پر فخر کیا جائے؟ اور وہ بھی ایک ''برادر'' اسلامی ملک کے ٹی وی کے ہاتھوں بے عزتی پر؟ وزیرِ اطلاعات و نشریات جناب پرویز رشید نے ارشاد کیا ہے کہ یہ کمیشن رپورٹ لیِک کیسے ہوئی، تحقیقات کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جناب خورشید شاہ کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن بھی ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کے لِیک ہونے کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جناب حمید گُل نے فرمایا: ''ایبٹ آباد آپریشن رپورٹ کا افشا فوج کے خلاف منظم سازش ہے، چیف جسٹس نوٹس لیں۔'' یہ بات طے ہے کہ یہ رپورٹ بہرحال فوج سے وابستہ کسی شخص نے کسی کو نہیں دی۔ اپنے پائوں پر خود کلہاڑی کے وار کون کرتا ہے؟ افسوس اِس بات کا بھی ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جناب احمد شجاع پاشا، جن کے بارے میں ہم رطب اللسان رہے ہیں، کو کیا ضرورت پڑی تھی اِس رپورٹ پر تبصرہ آرائی کی؟ اُنہوں نے غصے میں وہ کچھ کہہ دیا جو نہ کہتے تو پوری قوم کے لیے بہتر ہوتا۔ حیرت ہے کہ یہ قلغی والے افسرانِ بالا ہم ایسے اخبار نویسوں کے سامنے تو لب کشائی سے گریزاں رہتے ہیں لیکن غیروں کے سامنے باتیں کرنے کا اس قدر شوق۔
ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ، جس نے بعض بڑی شخصیات کے دل یقیناً دکھائے ہوں گے، غیروں کے ہاتھوں میں دینے سے کہیں بہتر تھا کہ اِس بارے میں متعلقہ ادارے کے ذمے داران پاکستانی اخبار نویسوں اور دانشوروں کو اعتماد میں لیتے اور بریف کرتے۔ اخبار نویسوں سے گزارش کی جا سکتی تھی کہ نیشنل سیکیورٹی کے تقاضوں کے پس منظر میں اِس تہلکہ خیز رپورٹ کے کونسے حصے سنسر کیے جا سکتے ہیں۔ اگر ایسا کیا جاتا تو بہت سی بے عزتی اور بے حرمتی سے محفوظ رہا جا سکتا تھا، عالمی جَگ ہنسائی سے بھی بچا جا سکتا تھا لیکن صد افسوس ایسا نہ کیا جا سکا۔
چنانچہ عرب دنیا کے ''الجزیرہ'' ٹی وی (جس کے بارے عالمِ اسلام میں بہت سے شکوک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں) کے توسط سے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ نے ہمارے بعض حساس اداروں کے خلاف طوفانِ بدتمیزی پیدا کر دیا ہے اور اِس کی بازگشت ساری دنیا میں سنائی دی گئی ہے۔ یہ المیہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ وطنِ عزیز کے اعلیٰ ذمے دار سول و سیکیورٹی فورسز کے افسران پاکستان کے بعض حساس معاملات کے بارے میں پاکستانی اخبار نویسوں کے استفسارات کو تو پائے حقارت سے ٹھکرا دیتے ہیں لیکن مغربی، امریکی اور غیر ملکی اخبار نویسوں اور محققین کے سامنے اپنا سینہ کھول دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر کرسٹینا لیمب کی پاکستان کے بارے میں لکھی گئی نہایت انکشاف خیز کتاب Waiting for Allah ملاحظہ کر لیجیے۔ کرسٹینا لیمب برطانیہ کی عالمی شہرت یافتہ صحافیہ اور نصف درجن سے زائد وقیع کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ ایک طرف اگر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے اُن کے گہرے تعلقات تھے تو دوسری طرف وہ افغان صدر حامد کرزئی کی بھی دوست ہیں۔ کئی بار اِس خاتون صحافی نے بی بی صاحبہ کے انٹرویو کیے۔ بے نظیر بھٹو جب 1988ء میں عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں تو کرسٹینا کی بعض نامعقول تحریروں سے تنگ آ کر اُسے پاکستان سے نکال بھی دیا گیا تھا۔ اکتوبر 2007ء میں جب بی بی صاحبہ جلاوطنی ختم کر کے کراچی پہنچیں اور اُن کے ہزاروں جاں نثاروں پر خونیں حملہ بھی ہوا تو کہا جاتا ہے کہ اِس المیے کے دوران یہ برطانوی صحافیہ اُن کے ساتھ ٹرک میں موجود تھیں۔ 1991ء میں کرسٹینا لیمب نے پاکستان کے بارے میں وہ معرکہ آرا کتاب لکھی جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔
لیمب بتاتی ہیں کہ کس طرح اُس کی سفید چمڑی سے متاثر ہو کر پاکستان کے بڑے بڑے افسروں نے اُس کے سوالات کے مفصل جوابات دیے۔ لیمب نے اپنی کتاب میں پاکستان کے سرکاری ذمے داران افسروں اور سیاستدانوں کے جو شرمناک واقعات لکھے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ پاکستانی صحافیوں کے سامنے تو یہ لوگ حساس سوالات پر بات سننا بھی پسند نہیں کرتے لیکن غیروں کے سامنے، اور وہ بھی غیر ممالک کی خواتین صحافیوں کے سامنے، یہ لوگ بچھ بچھ جاتے ہیں اور ضروری سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایک اور مغربی صحافیہ لکھتی ہیں کہ وہ سندھ کے ایک معروف سیاستدان کے گھر بطورِ مہمان ٹھہری تھیں۔ اچانک نصف شب کے بعد وہ سیاستدان میرے لحاف میں گھس آیا۔ میَں نے ہڑبڑا کر پوچھا تو کہنے لگا: میرے پیچھے پولیس اور دوسرے ادارے لگے ہیں، مجھے اپنے پاس چھپا لو۔ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کے لیک ہونے میں کسی ایسے ہی عنصر نے تو کمال نہیں دکھا دیا؟
برطانوی صحافیہ ایما ڈنکن، جو آجکل''دی اکانومسٹ'' میں ڈپٹی ایڈیٹر ہیں، کی 1989ء میں شایع ہونے والی کتاب Breaking with Curfew نے بھی پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے بعض ذمے داروں کے خلاف نازیبا باتیں لکھیں اور ہمارے بڑے لوگوں نے اُس سے خاص باتیں بھی شیئر کیں۔ اِسی طرح جیسیکا سڑن امریکا کی ممتاز صحافی اور محقق ہیں۔ وہ امریکا کے ممتاز ترین اور مہنگے تعلیمی ادارے، ہاورڈ یونیورسٹی، کی استاد ہیں۔ چند برس قبل جیسیکا نے ایک نہایت شاندار کتاب لکھی۔ اِس کا نام ہے: Terror in the name of God جو دراصل شدت پسند یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کی تنظیموں، اُن کے سربراہوں اور اُن کے وابستگان کے بارے میں ہے جو خدا کے نام پر معصوموں کا خون بہاتے اور اپنے نظریات کی تنفیذ کے لیے بندوق اور خنجر کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ محترمہ پاکستان بھی آئیں۔
جیسیکا سڑن نے اپنی تحقیقی کتاب میں اُس دَور کے ایک حساس ادارے کے سربراہ سے ملاقات اور اپنے سوالات کے جوابات کی شکل میں جو احوال لکھا ہے، پاکستان کے کسی بھی اخبار نویس سے اِس ادارے کا سربراہ کبھی بھی اِس طرح کھل کر اور کھِل کھلا کر گفتگو کرنے پر آمادہ نہ ہو گا اور نہ وہ کسی بھی پاکستانی صحافی کو اتنی جلدی اپنے ''دربار'' میں باریاب ہونے کی اجازت دے گا۔ سوال یہ ہے کہ جس طرح یہ امریکی صحافی خاتون وَن آن وَن ان سے ملاقات کرنے اور گپیں ہانکنے میں کامیاب ہو گئیں، کیا پاکستان کا کوئی صحافی یا محقق امریکی سی آئی اے کے سربراہ سے یوں مل سکتا ہے؟ کیا غیر ملکی صحافی بھارتی ''را'' کے چیف سے یوں ملاقاتیں کر سکتے ہیں؟ ممکن ہے اب بھی ''الجزیرہ'' کا کوئی جرنلسٹ ہمارے ہاں نقب لگانے میں کامیاب ہو گیا ہو اور وہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ لے اُڑا ہو۔ ہم تو آج تک یہ نہیں جان سکے کہ وہ کونسے ہاتھ تھے جنہوں نے حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کے بعض حصے بھارت اسمگل کیے اور یہ حصے بعد ازاں دو بھارتی جریدوں (''انڈیا ٹو ڈے'' اور ''ٹائمز آف انڈیا'') میں شایع ہوئے اور ہماری سُبکی کا باعث بنے۔
اب جب کہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ نے ہمارے بعض اداروں کے مورال پر منفی اثر ڈالا ہے اور اِس میں کسی غیر مسلم میڈیا نے نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے ایک مشہور الیکٹرانک میڈیا نے مرکزی کردار ادا کیا ہے، کیا مناسب نہیں ہے کہ حتمی حمود الرحمن کمیشن رپورٹ آج ہی شایع کر دی جائے؟ ساٹھ برس بعد شایع کرنے میں آخر کیا حرج ہے؟ ہم حقائق کا سامنا کرنے سے کب تک منہ چھپاتے رہیں گے؟ وہ رپورٹ بھی ایک جسٹس نے لکھی اور یہ رپورٹ بھی ایک ریٹائرڈ جسٹس کی زیرِ نگرانی مرتب ہوئی ہے۔ اچھا ہے کہ بعض ذمے دار چہرے ایک ہی بار بے نقاب ہو جائیں۔ وزیرِ اعظم جناب محمد نواز شریف کے اقتدار کے ابتدائی سو دنوں کا یہ سب سے بڑا نمایاں واقعہ اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ محترم نواز شریف یقیناً اُن ہاتھوں کو توڑ ڈالیں گے جنہوں نے ملک کے خلاف اقدام کرتے ہوئے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ ''الجزیرہ'' کے حوالے کی۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اِس رپورٹ کے افشا ہونے کے صرف دو دن بعد ہی جناب وزیرِ اعظم کو اسلام آباد میں بروئے کار آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر مدعو کر لیا گیا تاکہ پاکستان کی سلامتی اور ایبٹ آباد رپورٹ کے علیہ ماعلیہ کے بارے میں بھی گفتگو کی جا سکے۔