آزادی کی بیٹی
’’آزادی کی بیٹی‘‘سیما مصطفیٰ صاحبہ کی ایسی یادیں ہیں جن کی جڑیں تقسیمِ ہند کے حوالے سے سیکولر انڈیا میں بہت گہری ہ
لاہور میں ہمارے ایک پرانے دوست رہتے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ حکیم ہیں اور خاصے مشہور بھی۔ برسوں قبل جب اُن کا مطب نئی انار کلی میں ہوتا تھا تو اُن سے باقاعدہ ملاقاتیں ہوتیں اور پھر پرانی انار کلی کے ایک پرانے چائے خانہ میں شام کے وقت گپ شپ لگتی۔ پھر اُن کا مطب جب وحدت روڈ پر ''آب پارہ'' اُٹھ آیا تو ملاقاتیں کم کم ہونے لگیں۔ بعد ازاں انھوں نے لاہور کے علامہ اقبال ٹائون میں اپنا پڑائو ڈالا تو ملاقاتیں نہ ہونے کے برابر رہ گئیں لیکن ٹیلی فون اور موبائل فون پر رابطہ منقطع نہ ہو سکا۔ الحمد للہ۔ حکیم صاحب پرانے حکماء کی طرح اخبارات اور تاریخی کتابوں کے نہایت شوقین ہیں۔
روزانہ دو اخبارات کو چاٹنا اُن کا مشغلہ ہے۔ اخبار نویسوں سے بھی اُن کے رابطے رہتے ہیں کہ وہ پنجاب کے ایک ایسے قصبے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ہمارے بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان علیہ رحمہ دفن ہیں۔ حکیم صاحب کے والد بھی حکیم تھے، کئی کتابوں کے مصنف اور وہ مولانا ظفر علی خان کے ارادت مندوں کی صفِ اوّل میں شمار ہوتے تھے۔ حکیم صاحب کبھی کبھار، سال ششماہی میں اپنے والدِ گرامی کی یاد کا چراغ روشن کرتے ہیں، سینئر صحافیوں کو بلاتے ہیں، ظفر علی خان اور اپنے والدِ مرحوم کی صحافتی و دینی خدمات کا ذکر کر کے مجلس گرماتے اور دل خوش کر لیتے ہیں۔
ہمارے یہ حکیم صاحب وطنِ عزیز کے اُن معدودے چند لوگوں میں سے ایک ہیں جو قائدِ اعظم محمد علی جناح علیہ رحمہ کی کردار کشی کرنے اور اُن کی بلند قامتی کو کوتاہ قامتی میں تبدیل کرنے کی کوششیں کرنے والوں کو دل میں بٹھاتے ہیں۔ جو پاکستان بننے کو جناحؒ کی ایک عظیم غلطی قرار دیتے اور اِس کا پرچار کرنے والوں کی ہمنوائی کرتے ہیں۔ جن کے دل سے ابھی متحدہ ہندوستان کے بٹوارے کا کانٹا نہیں نکلا۔ جو ابو الکلام آزاد (جنھوں نے پاکستان کی مخالفت میں کانگریس، نہرو، گاندھی اور ولبھ بھائی پٹیل کا ساتھ دیا) کو آج بھی دل کے قریب اور بانیٔ پاکستان اور اُن کے ساتھیوں کو دل سے دُور رکھتے ہیں۔ چند ہفتے قبل حکیم صاحب کا فون آیا۔ وہ اپنی بھاری بھر کم اور خوشی سے دمکتی آواز میں بولے: ''بس بھئی، کتاب پڑھ کر مزہ آ گیا۔
کتاب شاہ جہان پوری صاحب نے لکھی ہے۔ خاصی ضخیم ہے۔ آپ اِسے ضرور پڑھیں۔ اگر نہیں خرید سکتے تو میَں آپ کو بھجواتا ہوں۔'' ساتھ ہی اُن کا زبردست قہقہہ بلند ہوا۔ میَں نے کہا: حضرت کتاب کا نام کیا ہے؟ اور اِس کے مطالعہ سے آپ اتنے خوش کیوں ہیں؟ فرمایا: ''شاہ جہان پوری صاحب نے بڑی ہی عرق ریزی سے جناح پر، بڑے مٔوقر حوالوں سے، کتاب لکھی ہے۔'' پھر انھوں نے اِس کتاب کے چند ''ٹوٹے'' مجھے سنائے اور ساتھ ہی ہنستے ہوئے کہا: ''مولانا ابو الکلام آزاد کا پاکستان بنتے ہی یہ کہنا بِلا شبہ درست ثابت ہوا کہ پاکستان تیس پینتیس سال بعد ٹوٹ جائے گا۔'' میرے دل کو دھچکا سا لگا لیکن میَں نے جذبات پر قابو پاتے ہوئے عرض کیا: ''حکیم صاحب، یہ ابو الکلام آزاد وہی تو نہیں جن کی لندن میں بعض سرگرمیوںکی گواہی بھارت کے نامور صحافی اور ادیب خوشونت سنگھ نے اپنی سوانح حیات میں دی ہے؟'' فون پر چند ثانیے کے لیے خاموشی طاری ہو گئی لیکن حکیم صاحب کی کھرج دار آواز دوبارہ اُبھری: ''آپ جو مرضی ہے کہہ لیں لیکن مولانا (ابو الکلام آزاد) صاحب کی پاکستان ٹوٹنے کے حوالے سے پیشگوئی کے سچے ہونے سے انکار نہیں کر سکتے۔''
حکیم صاحب کے وعدے کے مطابق کسی شاہ جہان پوری کی بانیٔ پاکستان کے بارے میں ''معرکہ آرا'' کتاب ابھی تک مجھے ملی تو نہیں لیکن حکیم صاحب کے فون پر سنائے گئے چند ٹوٹوں کا مطلب یہ تھا کہ اِس کتاب میں قائد اعظم محمد علی جناح علیہ رحمہ کی ذاتِ گرامی پر (تحقیق کے نام پر) کیچڑ اُچھالا گیا ہے۔ پاکستان کو بنے چھ عشرے سے زائد کا عرصہ گزر رہا ہے لیکن وطنِ عزیز میں اب بھی ایسے لوگ حیات ہیں (ماشاء اللہ) جو قائد اعظمؒ اور پاکستان کو دی جانے والی گالی پر خوش ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اِسی پاکستان سے پوری طرح فیض یاب بھی ہو رہے ہیں۔ اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ آپ پاکستان اور بانیٔ پاکستان کو گالی دینے یا اُن کے خلاف گالی سُن کر خوش ہونے کی بجائے اچھا نہ تھا کہ آپ بھارت میں رہتے اور آج اِس کا مزہ چکھ رہے ہوتے تو وہ پَلٹ کر کہتے ہیں: ''یہ بھی جناحؒ کا گناہ تھا کہ اُس نے اُن مسلمانوں کو تو بھارت ہی میں چھوڑ دیا جنھوں نے پاکستان بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا اور یہ پاکستان لے لیا جہاں کے وڈیروں، جاگیر داروں اور رسہ گیروں نے پاکستان بنانے کی مخالفت کی اور محض دکھاوے کے لیے آخری دنوں میں تحریکِ پاکستان میں شامل ہو گئے اور پھر پاکستان مخالف ملائوں کی طرح اِس ملک پر قابض بھی ہو گئے۔''
ہم یہ سُنتے ہیں اور شرمندہ ہوتے ہیں۔ اِن افراد، گروہوں اور پاکستان مخالف دینی جماعتوں کا کچھ نہیں بگاڑا جا سکتا کہ اب وہ نہایت طاقتور بھی ہیں، بارسوخ بھی اور جدید اسلحہ سے لیس بھی۔ یہاں تک کہ Facts Are Facts ایسی کتاب لکھ کر پاکستان کے منہ پر طمانچہ مارنے والے اور جنھوں نے اِس ملک میں مر کر دفن ہونا بھی پسند نہ کیا، اُن کی ذریت پاکستان کے ایک صوبے میں برسرِ اقتدار آ گئی اور اِس ملک کے بے چارے عوام منہ تکتے رہ گئے۔ اب آگے بڑھ کر ہمارے بعض دانشور، جو زیادہ تر انگریزی زبان میں کالم اور تجزیے لکھتے ہیں، ہمیں مشورہ دے رہے ہیں کہ یومِ آزادی کے موقع پر ''آزادی کی بیٹی'' ایسی کتابیں پڑھیں تاکہ ''سمجھ آ سکے کہ سیکولر انڈیا سے تعلقات استوار کرنا اور بھارت کی ہمہ جہت ثقافت سے فیض حاصل کرنا ہمارے لیے کس قدر ضروری بھی ہے اور جدید ہمسائیگی کا تقاضا بھی۔'' ہمارے حکمران جس طرح بھارت سے جپھیاں ڈالنے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں اور ہمارے بعض بھارت نواز کالم نگار جس اسلوب میں یہاں بھارت کے حق میں تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں، اِس کا تو واقعی تقاضا یہی ہے کہ ''آزادی کی بیٹی'' ایسی کتابیں پڑھی اور پڑھائی جائیں تاکہ ہماری نسل یہ سیکھ سکے کہ اگر مسلمان بیٹی ہندو سے شادی کر لیتی ہے تو اِس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر شادی کے بعد گھر میں ایک طرف نماز پڑھی جاتی ہے اور دوسری طرف بُت کی پُوجا پاٹ ہو رہی ہو تو کوئی حرج نہیں۔
''آزادی کی بیٹی'' (Azadi,s Daughter) دراصل بھارتی مصنفہ سیما مصطفیٰ صاحبہ کی تازہ کتاب ہے۔ یہ محترمہ بھارت کی معروف صحافی، کالم نگار، تجزیہ نویس اور ایک سابق (بھارتی) کرنل کی صاحبزادی ہیں۔ ''جنتا دل'' ایسی سیاسی جماعت کی رکن بھی رہیں۔ کارگل جنگ کے حوالے سے انھوں نے اپنے اخبار ''پائینئر'' کے لیے جو رپورٹنگ کی، اِس پرانھیں ''پریم بھاٹیہ ایوارڈ'' بھی ملا۔ اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کارگل جنگ کے حوالے سے انھوں نے پاکستان اور افواجِ پاکستان کے بارے میں کیسے خیالات کا اظہار فرمایا ہو گا۔ کالج کے زمانے ہی میں سیما صاحبہ نے ایک ہندو کاروباری شخص سے شادی کر لی تھی اور دو بچوں کو جنم دیا۔ ایک کا نام اگنیا سنگھ اور دوسرے کا گیتی سنگھ ہے۔
یوں انھوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ وہ خالصتاً ایک سیکولر خاتون ہیں جہاں دین کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ ''آزادی کی بیٹی'' دراصل سیما مصطفیٰ صاحبہ کی ایسی یادیں ہیں جن کی جڑیں تقسیمِ ہند کے حوالے سے سیکولر انڈیا میں بہت گہری ہیں۔ انھوں نے آزادی کے حوالے سے جہاں بھارتی مسلمانوں کو رجعت پسندی کا طعنہ دیا ہے، وہیں یہ درس بھی دینے کی کوشش کی ہے کہ جب تک وہ بھارتی سیکولر ازم کو دل سے تسلیم نہیں کرتے، آزادی کی نعمتوں سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں نہ بھارت میں مقیم مسلمان سیاستدان کے لالچ سے نجات حاصل کرنا اُن کے لیے ممکن ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر اگر ہم ''آزادی کی بیٹی'' ایسی تصانیف کا تواتر سے مطالعہ کرتے رہے تو ہماری منزل یقیناً ''قریب'' آ جائے گی۔ حیرت کی بات ہے کہ ہمارے ایک سابق وزیرِ اطلاعات نے اِس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کتاب پاکستان کے نوجوان طبقے کو ضرور پڑھنی چاہیے۔