دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹ پر جدید سائنس کی تحقیق

انسان کو قدرتی ماحول سے چھیڑ چھاڑ کرنے سے پہلے قدرت کے اشاروں کو ضرور سمجھنا چاہیے۔


Editorial May 10, 2019
انسان کو قدرتی ماحول سے چھیڑ چھاڑ کرنے سے پہلے قدرت کے اشاروں کو ضرور سمجھنا چاہیے۔ فوٹو: فائل

ایک خبر کے مطابق دنیا کے تین طویل ترین دریاؤں میں سے دو دریا آبی ذخائر بنانے اور دیگر تعمیرات کی وجہ سے ختم ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے کرہ ارض کے ایکوسسٹم پر بہت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس بات کی نشاندہی سائنسی تحقیق کرنے والوں نے کی ہے۔

اس حوالے سے اعداد و شمار جدید ترین سیٹلائٹ کمپیوٹر کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ اس جدید سائنسی طریقے سے دنیا بھر کے دریاؤں والے علاقے کے 12 ملین (یا ایک کروڑ 20 لاکھ کلو میٹر) کے علاقے کا ڈیٹا حاصل کیا گیا جس سے دریاؤں کے بہاؤ پر انسانی مداخلتوں کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کمپیوٹرائزڈ پروگرام میں دنیا کے آبی راستوں پر مختلف قسم کی رکاوٹوں کی وجہ سے ہونے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 91 دریا جو ایک سو کلو میٹر سے زیادہ طوالت کے تھے اور جن کی لمبائی میلوں میں 600 میل بنتی ہے، ان میں سے صرف 21 اپنی اصل شکل اور طوالت میں باقی بچے جو اپنے منبع سے نکل کر سیدھے سمندر تک پہنچتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 242 طویل ترین دریاؤں میں صرف 37 فیصد بغیر کسی رکاوٹ کے بہتے ہوئے سمندر تک پہنچتے ہیں جن کا اثر زمین کی بائیوڈائیورسٹی پر منفی طور پر مرتب نہیں ہوتا۔ دنیا کے تمام دریاؤں کا زمین کی خشکی کے ساتھ بہت پیچیدہ اور نازک نیٹ ورک قائم ہے۔

میک گل یونیورسٹی (پیرس) کے شعبہ جغرافیہ کے پروفیسر اور مصنف گنھتر گرل نے کہا ہے کہ دریاؤں کا بغیر رکاوٹ سے بہنا انسانوں اور ماحولیات کے لیے بے حد ضروری ہے لیکن دنیا بھر میں ہونے والی اقتصادی ترقی کے نتیجے میں ہونے والی تعمیرات اس فطری بہاؤ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔

پروفیسر گنھتر نے بتایا کہ بغیر رکاوٹ کے بہنے والے زیادہ تر دریا آرکٹک' ایمزون اور کانگو طاس کے علاقے میں ہیں۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی طرف سے بھی ایک اپیل جاری کی گئی ہے کہ دریاؤں کے فطری بہاؤ میں کم سے کم رکاوٹیں پیدا کی جائیں۔ دریا میں بہنے والی پانی ایک قدرتی نعمت ہے، یہ پانی زمین کی تہہ میں موجود میٹھے پانی کے ذخائر کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔اس سے زمین کی زرخیر قائم رہتی ہے اسی وجہ سے جنگلات ہرے بھرے رہتے ہیں اور یہ جنگلات زمین کے ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انسانوں کو پانی ذخیرہ ضرور کرنا چاہیے لیکن کوئی بھی آبی ذخیرہ تعمیرہ کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ کہیں اس کے نتیجے میں قدرتی ماحول کو نقصان تو نہیں پہنچے گا۔دریا زمین کی زندگی ہے، اگر یہ خشک ہوگئے تو انسان بھی اس کرہ ارض پر زندہ نہیں رہ سکتا ۔انسان کو قدرتی ماحول سے چھیڑ چھاڑ کرنے سے پہلے قدرت کے اشاروں کو ضرور سمجھنا چاہیے۔

مقبول خبریں