پمیکس کاگزشتہ ماہ 129ارب کی تجارت کانیاریکارڈ

جون تااگست پمیکس میںتینوں اسٹاک ایکس چینج کے مجموعی حجم سے زیادہ کاروبارہوا


Business Reporter September 04, 2012
جون تااگست پمیکس میںتینوں اسٹاک ایکس چینج کے مجموعی حجم سے زیادہ کاروبارہوا. فوٹو فائل

پاکستان مرکینٹائل ایکس چینج لمیٹڈ(پمیکس) نے اگست 2012 کے دوران ماہانہ 129 ارب روپے مالیت کے تجارتی حجم کے ساتھ تاریخ کانیا ریکارڈ قائم کردیا جو 3 لاکھ25 ہزار کاروباری معاہدوں پر مشتمل رہا اس سے قبل جون2012 میں ایکس چینج نے 119 ارب روپے مالیت کے تجارتی معاہدے کیے تھے۔

تاریخ ساز کاروباری حجم کے حوالے سے پمیکس کے منیجنگ ڈائریکٹر سمیر احمد نے کہاہے کہ کاروباری معاہدوں میں اضافے کے رحجان سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایکس چینج پرلوگوں کا اعتماد بڑھتا جارہا ہے جبکہ اجناس کی تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے سرمایہ کاروں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے، انھوں نے بتایاکہ 2011 کے بعد پمیکس میں تجارتی حجم مقامی تینوں اسٹاک ایکس چینجزکے مجموعی کاروباری حجم سے بھی تجاوزکرگیا جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جون تا اگست2012 کے دوران پمیکس میں مجموعی طور پر 352 ارب روپے مالیت کی تجارت ہوئی جبکہ اسی عرصے میں مقامی تینوں اسٹاک ایکس چینج میں تجارت کامجموعی حجم214 ارب روپے رہا۔

انھوں نے بتایاکہ پمیکس اپنی کارکردگی میں بہتری کیلیے تسلسل پر مبنی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے جو اجناس کی مختلف قسموں اور دیگر مصنوعات میں سہل سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہاہے۔ پمیکس کے چیف بزنس آفیسرمنصورعلی نے کہا کہ ان کا ادارہ مختلف نوعیت کی پروڈکٹس کیلیے تجارتی مواقع فراہم کررہاہے جبکہ ان شعبوں میں دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کو بھی بتدریج پمیکس کے حوالے سے آگہی ہورہی ہے جو نہ صرف اس ادارے پر اعتماد کی فضا کو سازگار بنا رہا ہے بلکہ سرمایہ کاری اور کاروباری حجم میں اضافے کا بھی باعث بن رہا ہے،

یہی وجہ ہے کہ سونے کی تجارت پمیکس کا مقبول ترین شعبہ ہے جبکہ خام تیل کی تجارت میں بھی تیزی رفتاری سے اضافے کارحجان غالب ہے جس کا پمیکس کے مجموعی کاروباری حجم میں 39 فیصد حصہ ہے،اگست2011میں خام تیل کے تجارتی معاہدوں کی مالیت8 ارب روپے تھی جواگست 2012 میں بڑھ کر47 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

مقبول خبریں