کراچی ایٹمی بجلی گھروں سے متعلق ماہرین کے خدشات مسترد

کراچی میں منصوبہ سوچ سمجھ کرشروع کیا،قواعدکاخیال رکھا،ایٹمی توانائی کمیشن


Net News December 19, 2013
بجلی گھروں کی مجوزہ جگہ پرزلزلوں اورسمندری طوفانوں کاخدشہ ہے، مقامی ماہرین۔فوٹو:فائل

پاکستان میں جوہری توانائی کے کمیشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کراچی میں 2جوہری بجلی گھروں کی تعمیرپر مقامی ماہرین کے خدشات کومسترد کردیا ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کاموقف ہے کہ اِن ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیرکی منصوبہ بندی میںتمام ضروری قواعدوضوابط کاخیال رکھاگیا ہے۔حکومتِ پاکستان نے کراچی کے ساحلی علاقے میں 2جوہری بجلی گھر بنانے کا اعلان کیا تھا جس کی ابتدائی رپورٹ پر ماہرین نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اِن بجلی گھروں کی تعمیر سے قبل تیار کی جانے والی رپورٹوں میںسب سے پہلے سائٹ کی جائزہ رپورٹ تیار کی جاتی ہے جس میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ جوہری بجلی گھروں کی مجوزہ جگہ پر زلزلے اور سمندری طوفانوں کاخدشہ ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور جوہری امور کے ماہر اے ایچ نیرکا کہنا ہے کہ تاریخ میںاب تک ایک یا 2مرتبہ کراچی کے ساحل کے پاس بلوچستان کے ساحل پرسونامی آ چکے ہیں۔ یہ ویسے سونامی نہیںتھے جیسے جاپان میں آئے لیکن پھربھی خاصے طاقتورتھے۔ جوہری طبیعات کے پروفیسر پرویز ہودبھائی کہتے ہیںکہ کسی بھی حادثے کے نتیجے میں کراچی میں 40کلومیٹر اندرتک کی فضا آلودہ ہوجائے گی اورلوگوں کے متاثرہونے کاخطرہ ہے۔

 photo 4_zpsd67adda5.jpg

اگرکسی بھی حادثے یاقدرتی آفت کی صورت میں اِن مجوزہ جوہری بجلی گھروں کا نظام تباہ ہوا تو شہر میں افراتفری پھیل سکتی ہے۔ تابکاری کے اثرات بہت زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں کیونکہ اِن بجلی گھروں میں ٹنوں کے حساب سے جوہری مادہ ہوتاہے۔ اگراس مادے کاصرف 5فیصد بھی خارج ہواتو کراچی کے لوگوں کے لیے بہت خطرناک ہوگا۔ ان کاکہنا تھاکہ یہ بہت بڑے پلانٹ ہیںاور اتنے بڑے پلانٹ خودچین نے اس سے قبل نہیں بنائے۔ یہ پہلاماڈل ہوگا جو پاکستان میں لگایا جائے گا۔ یہ تو ایک تجرباتی ماڈل ہے اوراس میں حفاظتی تدابیر کا ہمیں علم نہیں۔ تاہم پاکستان میں جوہری بجلی پیدا کرنے کے ذمے دارادارے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ڈائریکٹراور اس شعبے کے ماہرغلام رسول اطہرنے بی بی سی کوبتایا کہ کراچی میںلگائے جانے والے بجلی گھروں کی تنصیب کے سلسلے میں تمام قواعدوضوابط کاخیال رکھاگیا ہے۔ ان کی باقاعدہ منظوری تمام متعلقہ محکموں مثلاً پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی، پلاننگ کمیشن اور ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی سے لی گئی ہے۔ اس عمل کومکمل ہونے میں 3سے 5سال کا عرصہ لگاہے۔

مقبول خبریں