کے ای ایس سی نجکاری کا ریکارڈ غائب ہونے کی تحقیقات کا حکم

پی آئی سی میں سماعت، نجکاری کی تفصیلات سے متعلق درخواست پر عبوری حکم نامہ جاری۔


کورٹ رپورٹر March 20, 2021
نجکاری ریکارڈ کیسے غائب ہوا، کون کون ملوث ہیں؟ ریکارڈ دوبارہ مرتب کیا جائے، کمیشن فوٹو : فائل

کے ای ایس سی کی نجکاری کی تفصیلات پبلک کرنے سے متعلق درخواست پر پاکستان انفارمیشن کمیشن نے عبوری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے وزرات نجکاری کو باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا۔

طارق منصور ایڈوکیٹ کی درخواست پر پاکستان انفارمیشن کمیشن اسلام آباد میں سماعت ہوئی۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے کارروائی کا عبوری حکم نامہ جاری کردیا۔ پی آئی سی نے نجکاری دستاویزات غائب ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے پی آئی سی نے سیکریٹری وزرات نجکاری سے وضاحت طلب کرلی۔ پی آئی سی نے وزرات نجکاری کو باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا۔

پی آئی سی نے عبوری حکم نامے میں کہا ہے کہ بتایا جائے کے ای ایس سی نجکاری ریکارڈ کیسے غائب ہوا۔ نجکاری دستاویزات غائب ہونے میں کون کون ملوث ہیں؟ کمیشن نے ذمہ دار حکام کیخلاف انکوائری رپورٹ 25 مارچ تک طلب کرلی۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر ریکارڈ غائب ہوا تو دوبارہ مرتب کیا جائے۔ کمیشن نے تمام وفاقی اداروں سے ریکارڈ مرتب کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ وزرات نجکاری نے جواب میں کہا کہ ریکارڈ دستیاب نہیں۔ کمیشن نے ابزوریشن نے دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا کے ای ایس سی نجکاری ریکارڈ جان کر ضائع کیا گیا۔ کے ای ایس سی نجکاری کا ریکارڈ غائب ہونا مجرمانہ فعل ہے۔

سماعت چیف انفارمیشن کمشنر محمد اعظم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ممبران میں فواد ملک اور زاہد عبداللہ شامل تھے۔ نجکاری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے طارق منصور ایڈووکیٹ نے کمیشن سے رجوع کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں