صحافیوں کے ملک بھر میں مظاہرے پریس کلبوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے

پارلیمنٹ ہائوس کے باہر بھی احتجاج، ایکسپریس نیوز کی ٹیم پر حملے کے ملزم گرفتار کرنیکا مطالبہ


لاہور پریس کلب میں سیاہ پرچم لہرانے کے بعد صحافی ملزمان کی گرفتاری کیلیے نعرے لگارہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

لاہور: کراچی میں ایکسپریس نیوز کے کارکنوں کی شہادت کیخلاف صحافی تنظیموں نے پیر کو بھی ملک بھر میں احتجاج جاری رکھا اور مظاہرے کیے۔

پریس کلبوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔لاہور پریس کلب میں ہونیوالے مظاہرے میں پی ایف یو جے کے رہنما رانا عظیم، پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر وسیم فاروق، لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سیکریٹری محمد شہباز میاں، سینئرصحافی حسین نقی سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر پریس کلب پر سیاہ پرچم لہرایا گیا۔ سینئر صحافی حسین نقی نے کہا کہ صحافیوں کو اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنا چاہیے، آج ساری دنیا میں صحافیوں کے لیے پاکستان دوسرے نمبر پر خطرناک ملک قرار دیا جاچکا ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔اسلام آباد میں آر آئی یو جے کے تحت پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ آئندہ دو روز میں تمام صحافی برادری سرکاری و نجی تقریبات کی کوریج میں سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔پشاور میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کے تحت مظاہرہ ہوا اور یوم سیاہ منایا گیا، پریس کلب پر سیاہ جھنڈے لہرائے گئے، اس موقع پر صحافیوں نے کالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔ کوئٹہ میں بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مقررین نے کہا ہم اپنے شہداء کی قربانیاں رائیگاں جانے نہیں دیں گے۔



گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ بار کی جانب سے شہید کارکنوں کی غائبانہ نماز جنازہ سیشن کورٹ کمپلیکس میں ادا کی گئی جس میں قائم مقام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راؤ عبدالجبار خاں، صدر ڈسٹرکٹ بار احور طفیل وڑائچ اور دیگر شریک ہوئے۔ وکلاء نے کہا کہ سندھ حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں بالکل ناکام ہو چکی ہے۔ سرگودھا پریس کلب میں فاتحہ خوانی کی گئی، سلانوالی میں صحافیوں، وکلاء، تاجروں اور دیگر نے ریلی نکالی اور مطالبہ کیا گیا کہ ملزم فوری گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچائے جائیں اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ملتان پریس کلب کے سامنے ملتان یونین آف جرنلسٹس نے مظاہرہ کیا اور سیاہ پرچم لہرائے۔ وہاڑی میں انجمن شہریان، مرکزی انجمن تاجران، صحافیوں وکلاء، سیاسی جماعتوں نے گول چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور ریلی نکالی۔ میاں چنوں، ایبٹ آباد، مری، سکھر، روہڑی، گھوٹکی، خیرپور، اوباڑو، دریا خان اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں کے علاوہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں بھی صحافیوں اور دیگر تنظیموں نے مظاہرے کیے اور ریلیاں نکالیں، شہداء کیلیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ پریس کونسل پاکستان کے چئیرمین راجہ شفقت خان عباسی نے ایکسپریس نیوز کی ٹیم پر ٹارگٹ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں پابند ہیں کہ آزادی اظہار رائے کے حق کا تحفظ کریں اور عامل صحافیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات اٹھائیں۔ ایسی سنگین کارروائیاں آزادی صحافت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہیں۔

مقبول خبریں