کراچی اور اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں46 کریکر دھماکےعوام میں خوف و ہراس

ناگن چورنگی ، گلشن حدید ، بن قاسم ، لانڈھی اور یونیورسٹی روڈ پر دھماکے،کورنگی تھانے پردستی بم حملے میں ایک اہلکار زخمی


ناگن چورنگی ، گلشن حدید ، بن قاسم ، لانڈھی اور یونیورسٹی روڈ پر دھماکے،کورنگی تھانے پردستی بم حملے میں ایک اہلکار زخمی.

کراچی ، حیدرآباد، کوٹری، ہالا، بھٹ شاہ اور سکرنڈ روڈ کے مختلف بارونق علاقوں اور شاہراہوں سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں جمعے کو46کریکر دھماکوںنے خوف و ہراس پیدا کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں دھماکوں سے بھگڈر مچ گئی اور خوف وہراس پھیل گیا تاہم کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا جبکہ ملزمان فرارہوگئے۔پولیس نیکریکر حملے کرنے والے متعدد ملزمان کو حراست میں لے لیاہے، پولیس کے مطابق ملزمان کا تعلق قوم پرست جماعت سے ہے جس نے ہفتے کوہڑتال کی کال دی ہے۔دھماکوں کے بعد صوبے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف شہروں میں کریکردھماکوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کے احکام دیے ہیں۔ اسٹاف رپورٹر کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں شرپسندوں نے 2 دستی بم حملوں ، کریکر حملوں اور پٹاخوں کے 9 واقعات کے ذریعے خوف و ہراس پھیلادیا، کورنگی تھانے پر دستی بم حملے میں ایک اہلکار زخمی ہوگیا، قیوم آباد ، ناگن چورنگی ، گلشن حدید ، بن قاسم ، لانڈھی اور یونیورسٹی روڈ پر پٹاخوں سے خوف و ہراس پھیل گیا تاہم کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ، کوئی ملزم گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ علاوہ ازیں کورنگی تھانے پر بھی موٹر سائیکل سوار دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے ، دستی بم پھٹنے سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور تھانے کے دروازے پر تعینات اہلکار منظور زخمی ہوگیا ، ایس پی کورنگی عثمان باجوہ کے مطابق زخمی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ قیوم آباد کے قریب موٹر سائیکل سوار کے پی ٹی فلائی اوور پر سے دھماکا خیز مواد پھینک کر فرار ہوگئے ۔

ڈی ایس پی کورنگی صنعتی ایریا رحیم شاہ نے بتایا کہ دھماکا شرپسندوں نے خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کیا، ایک پٹاخہ قیوم آباد چورنگی پر ڈپارٹمنٹل اسٹور کے سامنے جبکہ دوسرا فلائی اوور کے نیچے قائم چورنگی میں گرا۔ اسٹیل ٹائون کے علاقے گلشن حدید میں بھی 2 مقامات پر موٹر سائیکل سوار ملزمان دھماکا خیز مواد پھینک کر فرار ہوگئے۔ سرسید ٹائون کے علاقے میں ناگن چورنگی پر بھی فلائی اوور سے دھماکا خیز مواد ، بن قاسم ، لانڈھی 6 نمبر پر بند دکان کے سامنے موٹر سائیکل سوار ملزمان پٹاخے پھینک کر فرار ہوگئے۔ سچل کے علاقے میں محکمہ موسمیات کے قریب بھی کریکر پھینکا گیا۔ رات گئے نارتھ ناظم آباد کے علاقے اے بلاک میں پٹرول پمپ کے قریب خالی پارک میں موٹر سائیکل سوار کریکر پھینک کر فرار ہوگئے جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، پولیس کا کہنا ہے کہ پارک سے ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے کریکر حملے کا پتہ چلے۔ نمائندگان ایکسپریس کے مطابق جامشورو پولیس نے کریکر دھماکوں کے الزام میں ایک قوم پرست جماعت کے 4 کارکنوں کو گرفتارکر کے 3 پستول اور ایک کریکر برآمد کرنے کا دعوٰی کیا ہے جبکہ ایس ایس پی حیدرآباد نے حفاظتی انتظامات میں کوتاہی پر 4 تھانیداروں کو معطل کر دیا۔



 

حیدرآباد میں جمعے کی شام یکے بعد دیگر ے 7 مقامات تھانہ اے سیکشن کے علاقے یونٹ نمبر پونے 7 ،کوہ نورچوک، حیدر چوک، تھانہ حالی روڈ علاقے قائم خانی ہاسٹل، سول اسپتال کے قریب لبرٹی چوک پر مسافر وین کے اڈے،جیل روڈ ہیرآباد میں واقع ایک کوچ سروس کے اڈے ،علی پیلس چوک پر قائم ون فائیو مددگار کے دفتر پردھماکے کیے گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق حیدرآباد میں ساتوں کریکر حملوں کے واقعات میں یہ مماثلث پائی جاتی ہے، ہرجگہ عینی شاہدین نے 2 افراد کی نشاندہی کی۔ کریکر تیز آواز کے ساتھ پھٹے تو علاقے میں بھگڈر بھی مچ گئی۔ صرف 15 منٹ میں شہر کے 7 مختلف مقامات پر کریکرز دھماکے کیے گئے۔ ضلع جامشورو کے علاقے کوٹری میں مین چوک اور کوٹری پھاٹک پر کریکر دھماکوں سے خوف وہراس پھیل گیا، دکانیں اور بازار بند ہوگئے۔ ایس ایس پی جامشورو سید وصی حیدر نے ایکسپریس کو بتایا کہ کوٹری میں کریکر حملے میں ملوث 2ملزمان کو گرفتار کر کے 2 پستول برآمد کر لیے ہیں۔ سیہون میں کریکر پھینکے جانے سے قبل ہی کارروائی کرتے ہوئے ہڑتال کی کال دینے والی قوم پرست جماعت کے کارکن مختار لغاری کو پستول سمیت حراست میں لے لیا گیا جبکہ بھان سعید آباد میں پولیس نے جسمم کے کارکن کامران بگھیو کو گرفتار کر کے کریکر اور ہڑتال کے متعلق پمفلٹ تحویل میں لے لیے۔ دریں اثنا مٹیاری کے شہر ہالا میں مخدوم ہاؤس کے قریب کریکر حملہ کیا گیا۔

جبکہ بھٹ شاہ میں نیشنل بینک کے سامنے کریکر حملے میں ایک نوجوان معمولی زخمی ہوگیا۔ علاوہ ازیں سکرنڈروڈ پر بھی کریکردھماکوں سے خوف وہراس پھیل گیا۔ اسٹاف رپورٹر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کراچی، حیدرآباد، دادو، نوشہروفیروز سمیت مختلف شہروں میں کریکردھماکوں کو نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ڈی آئی جی سکھر کو ان دھماکوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کے احکام دیے ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ نے متعلقہ پولیس افسران سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے موثر اقدامات کے احکام بھی دیے ہیں۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق دادو کے مختلف مقامات پر 7 کریکردھماکے کیے گئے، شرپسندوں نے پہلا حملہ مچھلی مارکیٹ میں کیا جس سے قریبی دکانوں کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ دوسرا حملہ اسٹیشن روڈ پر کیا گیا، سرکٹ ہاؤس کے قریب دستی بم حملے میں مچھلی فروش زخمی ہوگیا۔ادھر رانی پور میں بھی شرپسندوں نے 7 ، لاڑکانہ میں 5 کریکر دھماکے کیے گئے،اسی طرح کنڈیارو کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ اور 2 دستی بم حملے کیے گئے۔ محراب پور،بھٹ شاہ ،نوابشاہ اور نوشہرو فیروز کے مختلف علاقوں میں بھی شرپسندوں نے دستی بم حملے

مقبول خبریں