انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا

ملک حساس معاملات کو ایک اس قدر سنگین صورتحال کی طرف جانے کی اجازت دے گا، کسی کو اس کی توقع نہیں تھی۔


Editorial October 31, 2021
ملک حساس معاملات کو ایک اس قدر سنگین صورتحال کی طرف جانے کی اجازت دے گا، کسی کو اس کی توقع نہیں تھی۔ فوٹو: فائل

قومی سلامتی کمیٹی کا 35 واں اجلاس جمعہ کو وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا جس میں وفاقی وزرا، مشیر قومی سلامتی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس آئی، آئی بی و ایف آئی اے اور سینئر سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ریاست کی حکمرانی کو قائم رکھنے کے لیے تمام اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ کسی بھی پچھلی حکومت یا وزیر اعظم نے ناموس رسالتؐ کے تحفظ اور اسلامو فوبیا کے تدارک کے لیے اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر اتنا کام نہیں کیا جتنا اس حکومت نے کیا ہے۔

حکومت نے کامیابی سے ان ایشوز کو اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اربوں مسلمان حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس سے محبت کرتے اور عقیدت رکھتے ہیں ، اجلاس کے بعد وزیر داخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، خواہش ہے کہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ محمد ﷺ کے نام لیواؤں سے قوم دردمندانہ اپیل کرے تاکہ ملک میں معمولات حیات نارمل ہوں، یہ وقت عفو و درگزر کا ہے۔ ملک کو مہنگائی، غربت اور بیروزگاری نے شدید مصائب میں مبتلا کیا ہے، شہر بند پڑے ہیں، امت مسلمہ پاکستان میں امن و امان کی دعائیں مانگ رہی ہے۔

پاکستان نے چین کو گزشتہ مالی سال کے دوران تجارتی مالیاتی سہولیات سے مستفید ہونے کے عوض 26 ارب روپے سود کی مد میں ادا کیے۔ یہ بات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

گزشتہ مالی سال کے حوالے سے جاری رپورٹ میں مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ پاک چین کرنسی مبادلہ کے معاہدے کے تحت 4 ارب 50 کروڑ ڈالر یا 30 ارب چینی یوان رکھے گئے تھے جس کا پاکستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران بھرپور فائدہ اٹھایا تاہم اس سلسلے میں اسے چین کو 26 ارب روپے سود کی مد میں ادا کرنے پڑے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ابتدا میں 20 ارب چینی یوان رکھے گئے تھے تاکہ تجارت کے دوران کرنسی کے تبادلے کی سہولیات سے فائدہ اٹھایا جاسکے تاہم بعد ازاں اس رقم کو بڑھا کر 30 ارب یوان کر دیا گیا تھا جس کی مدت تین سال تھی، اگر پاکستانی کرنسی میں جائزہ لیں تو یہ تجارتی کرنسی مبادلے کی سہولت پاکستانی روپوں میں 476 ارب 60 کروڑ روپے تھے جسے گزشتہ مالی سال کے اختتام تک بڑھا کر748 ارب 50 کروڑ روپے کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان اس مالیاتی سہولت سے زیادہ تر بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کا کام لیتا ہے، یعنی پاک چین تجارتی سہولیات کے لیے رکھے گئے 4 ارب 50 کروڑ ڈالر کی رقم بھی پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کا حصہ ہے۔ یہ سہولیات جو دراصل دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کو اپنی مقامی کرنسیوں میں فروغ دینے کی غرض سے رکھی گئی تھی وہ زیادہ تر بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں کام آرہی ہے۔

دوسری جانب یکم نومبر سے پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے، وزیراعظم نے نرخ نہ بڑھانے کا کہہ کر ختم کردیا ہے۔ ذرایع کے مطابق پیٹرول ساڑھے 6 روپے فی لیٹر تک مہنگا ہو سکتاتھا، جب کہ فی لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے تک اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا ۔ وزیراعظم نے اوگرا کی تجویز مسترد کردی ہے۔ بلاشبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی وجوہات 26 اکتوبر تک ڈالر اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

کرنٹ خسارہ میں اضافہ کے اعتراف نے اسٹاک ایکسچینج میں کھلبلی مچادی ہے، ڈالر کی شکستگی کا سلسلہ جاری ہے، حکومت نے پیدا شدہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں لیکن اقتصادی ماہرین کا خدشہ ہے کہ برآمدات میں اضافہ سے عالمی بینک کو شدید تشویش لاحق ہوئی ہے، دوسری طرف وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ قرضوں کی وجہ سے سبسڈی ہوتی تو حکومت دے دیتی۔

حکومت کے قرضے ادا کیے جا رہے ہیں، اقتصادی صورتحال کے پیش نظر پاک روس اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبہ موخر کرنے کی اطلاع آئی ہے، روس نے منصوبہ ختم کردیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں افراتفری کو دیکھ کر مہنگائی میں بے انتہا اضافہ کی اطلاعات سے مارکیٹ میں خریداری کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے، دکانداروں اور تاجروں نے چیزوں کے دام بڑھا دیے ہیں، سبزیوں، اشیائے خورونوش کے دام بے حساب بڑھ گئے ہیں، کوئی کنٹرول دیکھنے میں نہیں آتا، ایک عجیب مایوسی ہے، بے بسی اور غربت کے احساس سے عوام بے دم و پریشان ہوگئے ہیں، اقتصادی مسیحا سب غائب ہیں، عوام رل گئے ۔

حقیقت یہ ہے کہ حالات کے سیاسی و سماجی منظرنامہ نے پاکستان کو تاریخ کے سیاسی حالات میں پیدا شدہ غیر معمولی سیاسی، سماجی منظرنامہ نے عوام کو ذہنی طور پر نڈھال کردیا ہے، دوسری طرف اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مشیر خزانہ شوکت ترین کی رکنیت ختم اور عمر ایوب نے کمیٹی کی سربراہی سنبھال لی ہے، بعض مبصرین نے ملکی داخلی صورتحال پر حالات پر بے رحم جملے تحریر کیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے پریشان و دل گرفتہ عوام ایک چیمپئن اور بحران شکن کارکردگی کی پرفارمنس کی توقع رکھتے ہیں۔

عوام کے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک حساس معاملات کو ایک اس قدر سنگین صورتحال کی طرف جانے کی اجازت دے گا، کسی کو اس کی توقع نہیں تھی، اب بھی وقت ہے کہ قوم ملی درد، یکجہتی، دور اندیشی، سیاسی بصارت اور عظیم تر تدبر و مذہبی و دینی رواداری سے مملکت خداداد کے تحفظ کو یقینی بنانے میں والہانہ کردار ادا کریگی۔ قوم کے درد کو شاعر نے ان اشعار کو خون جگر کے ساتھ بیان کیا ہے۔

درد دل لکھوں کب تک جا کے ان کو دکھلاؤں
انگلیاں فگار اپنی خامہ خوں چکاں اپنا

مقبول خبریں