کرائے کا بجلی گھر’’کارکے‘‘ نے پاکستان پرسوا 2ارب ڈالرہرجانے کادعویٰ کردیا

دعویٰ کمپنی نے عالمی بینک کے عالمی مرکزمیں31جنوری کودائرکیا،تخمینہ غیر جانبدار ماہر نے لگایا


Staff Reporter February 11, 2014
پاکستان سمجھوتے کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے،نیب کے این اوسی کے باوجودگرفتاررکھا،موقف، فوٹو: فائل

کرائے کابجلی گھرلانے والی ترک کمپنی ''کارکے'' نے بین الاقوامی عدالت میں پاکستان کے خلاف 2.1 ارب ڈالرہرجانے کادعویٰ دائرکر دیاہے۔

کارکے کاراڈینزپروڈکشن کارپوریشن نے عالمی بینک کے بین الاقوامی مرکزبرائے سرمایہ کاری تنازعات(آئی سی ایس آئی ڈی) میں دعویٰ(میموریل آن دی میرٹس) 31جنوری کودائر کیاگیا۔ میموریل میں کارکے کا سرکاری موقف اورمانگی جانے والی ہرجانے کی رقم تحریری طورپر بتائی گئی ہے۔ دعوے کے مطابق کمپنی کے بحری بجلی گھروں کو روکے رکھنے کے نتیجے میں پاکستان کو جو ہرجانہ ادا کرنا ہو گا اس کی کل مالیت کا تخمینہ ایک غیر جانبدار بین الاقوامی ماہر نے لگایا ہے۔کارکے، سرمایہ کاری کے دوطرفہ سمجھوتے کے تحت ذمے داریوں کی خلاف ورزی، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں اورکراچی میں رینٹل پاورپروجیکٹ میں کارکے کی سرمایہ کاری کے حوالے سے ICSIDکے عبوری اقدام کے حکم کوماننے سے انکارپر پاکستان سے یہ معاضہ مانگ رہاہے۔ پاکستان میں کارکے کے پاورشپ آپریشنزکی ابتدائی کنٹریکٹ ویلیو 560ملین امریکی ڈالرتھی اوراس کی مدت 5سال کے لیے تھی۔ ماہرین نے کلیمزکی جس مالیت کوشمار کیا ہے۔



اس میں آمدنی کانقصان اوربحری جہازوں کی گرفتاری سے منسلک اخراجات شامل ہیں، دستاویزی ثبوت پیش کیے گئے ہیں کہ پاکستان سمجھوتے کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے، انصاف سے انکاری ہے اورکارکے کے خلاف دوسرے غیر قانونی اقدام جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ بھی کہاگیا ہے کہ پاکستان، کارکے کے بحری جہازوں کو قومی احتساب بیورو(نیب) کی طرف سے کسی بھی قسم کے غلط کام سے بری کردینے کے بارے میں عدم اعتراض کاسرٹیفکیٹ جاری کردینے کے باوجود مسلسل گرفتاررکھے ہوئے ہے اور ICSIDنے اکتوبر2013 میں عبوری اقدام کے بارے میں جو فیصلہ کیا تھا، ان پرعمل نہیں کر رہا۔2012سے پاکستان کی قید میں ہیں اور انھیں کسی دوسرے ایسے ملک میں جا کر بجلی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جہاں ان کی ضرورت ہے، جس سے کارکے کوزبردست مالی نقصان ہورہا ہے۔

مقبول خبریں