ٹیکس دینے کا کلچر

اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی ذمے داری پوری کریں، یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم ٹیکس دیں، وزیر خزانہ


Editorial January 09, 2022
اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی ذمے داری پوری کریں، یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم ٹیکس دیں، وزیر خزانہ۔ فوٹو: فائل

STEPANAKERT: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ٹیکس نادہندگان تک پہنچ چکے ہیں، بس سوئچ آن کرنا ہے۔

قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس نہ دینے والوں کو وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس تو سب کو دینا پڑے گا، نوٹس نہیں، خود ٹیکس گزار تک پہنچیں گے، لوگ کارروائی سے پہلے محاصل ادا کرنا شروع کر دیں، ٹیکس دہندگان کی تعداد 2 کروڑ ہونی چاہیے، اب ہم نوٹس نہیں دیں گے، ٹیکس نادہندگان کو بتائیں گے کہ ان کی آمدنی کتنی ہے۔ بہتر ہوگا ہمارے پہنچنے سے پہلے خود ٹیکس جمع کرادیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کیے بغیر ٹیکس کی وصولی لیے احکامات صادر کیے ہیں، جس کا رد عمل عوام، کاروباری طبقات اور ٹیکس نادہندگان کی طرف سے شاید قسطوں میں آ جائے تاہم جس عزم کے ساتھ وزیر خزانہ نے7 کروڑ ٹیکس دہندگان جمع کرنے کا عندیا دیا ہے وہ اگر اس حجمکا ٹپ آف گلیشیئر وصول کر لیں تو حکومت اس کو ایک بریک تھرو شمار کر سکتی ہے۔

کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں تین ماہ انتہائی اہم بتائے ہیں، ان تین مہینوں میں وہ ٹیکس سمیت ریاست، حکومت کے کار جہاں دراز کو مکمل کرنے کا ارادہ کر لیں تو ٹیکس سسٹم کیا بلکہ ملک کا سارا نظام ہی درست ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر حکومت اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی ٹیکس کے نظام، اس کی عوام سے وصولی اور ٹیکس نادہندگان کی جیبوں سے پیسے نکالنے کے لیے '' گربہ کشتن روز اول'' کے اصول پر عمل کرتی تو اس قول و فعل کا اجتماعی اثر ملکی نظام، معیشت، کاروبار، تجارت اور آمدن پر حیران کن نتائج برآمد ہوتے، ماہرین سیاست نے ٹیکسیشن نظام میں ایک غیر معمولی اقدام کے نتائج پر بحث کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس نوٹس نہیں ملیں گے بلکہ ٹیکس نا دہندگان اپنی رہائش گاہوں پر دستک دینے والے ٹیکس لینے والوں کو حاضر پائیں گے۔

وہ ایک نیا تجربہ ہوگا، کیونکہ ملکی عوام ٹیکس نہ دینے کے پرانے ذہنی رجحان کے ساتھ ریاست اور حکومت سے متعلق ہیں، ملک کی پوری تاریخ ٹیکس دینے کی سائیکی، عادت اور خود ٹیکس کی شماریاتی پیچیدگیوں کے ناخوشگوار یادیں رکھتے ہیں، حکمرانوں نے ملکی معیشت، اقتصادیات اور مالیاتی نظام کی شفافیت کے لیے کتنے درد سر اٹھائے ہیں؟

یوں اچانک پورے ٹیکس سسٹم میں ایک انقلابی تبدیلی سے ملکی ٹیکس نظام میں خرابیوں کا خاتمہ ہوگا اور لاکھوں بزنس مین، تاجر، دکاندار، سرمایہ کار اور ٹیکس سے گریز پائی میں مبتلا لوگ حکومت کی ایک کال پر ٹیکس دینے کے لیے دروازے پر ہونے والی دستک کا انتظار کریں گے، ''ٹیکس دو ورنہ کہیں جانے کا راستہ نہیں ملے گا'' یاد کیجیے، برس ہا برس پہلے جب ٹیکس حکام اور تاجروں کے درمیان ٹیکس پر ٹکراؤ کی فضا بنی، تاجروں نے ٹیکس اور یوٹیلیٹی بل نہ دینے کا عہد کیا، ڈنڈے سنبھالے اور ایک عجیب صورتحال پیدا ہوئی تھی، اس بار بھی کہیں تاریخ پھر سے خود کو نہ دہرالے۔

حکمرانوں کو یہ حقیقت ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ قرضوں سے ملک کی قسمت نہیں بدل سکے گی، مفت کی مئے پینے کی عادت چھوڑ کر خود اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا نام خودداری ہے، کسی ملک کے حوالے دے کر ہم نے نہ تو اپنی معیشت درست انداز میں سنبھالی، نہ غربت ختم کرنے کے چینی طریقوں سے کوئی سبق لیا، نہ مہاتیر محمد کی رہنمائی سے اقتصادی تراکیب اختیار کی، نہ خود کفالتی اور نہ ایک ایسی معیشت کی بنیاد ڈالنے کی کوشش کی کہ ہم غربت سے نجات حاصل کرلیں، نہ ہمارے اشرافیائی طبقات نے خودداری، وطن دوستی، قوم پرستی اور ٹیکس کلچر کی سرپرستی کی کوشش کی۔ بلکہ ہمارے حکمران طبقہ نے دھن والوں کا ایک خود سر ٹولہ جنم دیا اور نئے حکمران رات دن اسی طبقے کو تمام خرابیوں کا ذمے دار قرار دیتے رہے۔

گزشتہ روز ایف بی آر ہیڈ کوارٹر میں قومی سیلز ٹیکس ریٹرن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکسوں کا نظام خودکار ہونے سے محصولات بڑھیں گے، ٹیکسوں کے نظام کو آسان بنایا جا رہا ہے، جب لوگوں کو سہولت ہوگی تو زیادہ ٹیکس دیں گے، جب ٹیکس اکٹھے نہیں ہوں گے تو ملک میں ترقی کیسے ہو گی، اگر اس منصب پر رہا تو سب کو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس دینا پڑے گا، ہم سہولت ضرور دیں گے مگر ٹیکس دینا ہوگا، تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، آپ ٹیکس دیں پھر حکومت کا احتساب کریں چند ہفتوں میں بغیر نوٹس کے ٹیکس نادہندگان کے پاس ایف بی آر پہنچ جائے گا۔

چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کی زندگی کو آسان بنا دیا ہے، ٹیکس کی ادائیگی سے ہی ملک میں پائیدار ترقی ہو سکتی ہے، ٹیکس نا دہندگان کو کسی صورت ہراساں نہیں کیا جائے گا، دیگر ممالک میں اگر آپ ٹیکس نہیں دیتے تو آپ کا ووٹ نہیں ہوتا، ملک میں صرف20 لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں، اب یہ سسٹم تبدیل ہوگا، ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر شخص تک پہنچیں گے، اگر پھر بھی ٹیکس ادا نہیں کرتے تو قانونی کارروائی کریں گے، ان سطروں میں چھڑی اور گاجر دونوں طریقوں سے کام لیا گیا ہے، یہ سارے پند و نصائح عوام اور کاروباری لوگ سن چکے ہیں، پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے، حکومتیں بدلی ہیں، حکمراں بدلے ہیں، مگر ٹیکس سسٹم نہیں بدلا۔

ایف بی آر کے حکام بدلے، ملک میں مہنگائی، غربت، امیکرون وائرس موجود ہے، لوگ جو اربوں روپے اپنے بزنس میں انوسٹ کر چکے ہیں وہ سوال کرتے ہیں کہ قبائلی لارڈز،مذہبی اور روحانی لارڈز، زمیندار محلات میں رہتے ہیں وہ زرعی ٹیکس کیوں نہیں دیتے، انھیں استثنیٰ کیوں حاصل ہے، زرعی اصلاحات کیوں نہیں آئیں، زرعی ملک ہوتے ہوئے دہقانوں کو رہنے کے لیے گھر میسر نہیں۔

کسان آج بھی احتجاج پر مجبور ہیں، کھاد کی قلت ہے، اس نے گنے کی فصل کی پرچی ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہے وہ اپنی محنت کی کمائی کے حصول کے لیے در دفتر اور کھیت کے چکر کاٹ رہا ہے، اس پورے سسٹم میں جب تک شفافیت نہیں آئے گی وزیر خزانہ لاکھ دروازوں پر دستک دیں، ٹیکس لوگوں کی جیبوں سے نہیں نکلیں گے، عوام، کاروباری اور کروڑ پتی لوگ سب ایک منجمد ٹیکس سسٹم کے ڈسے ہوئے ہیں۔

حکومتیں آتی جاتی رہیں لیکن ٹیکس اصلاحات اور طرز حکمرانی نے ملکی زراعت کی بنیادی ترجیحات پر کوئی معنی خیز اقدامات نہیں کیے، کوئی بنیادی کام نہیں ہوا، لوگ ٹیکس دینا چاہتے ہیں، وطن سے محبت کرتے ہیں لیکن وہ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ ٹیکس سے ان کا سماج، معیشت، ریاست، سیاست، تجارت، سیاحت، تعلیم، صحت اور معاشرتی فضا کے بدلنے کا کوئی امکان بھی ہے یا ٹیکس ادھر سے ادھر ہوں گے، عوام آج بھی ایک بحرانی اور ہنگامی صورتحال سے دوچار ہیں، وزیر اعظم نے تین ماہ کا عرصہ دیا ہے، پورا سسٹم ایڈہاک ازم کے تحت چل رہا ہے، کوئی اقتصادی مرکزیت نظام کے کسی شعبے میں نہیں ملتی، ملک کی تقدیر بدلنے کا نام نہیں لیتی۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ٹیکس وصولی کے لیے خودکار نظام بنا رہے ہیں اور نادہندگان کو اب نوٹس نہیں دیا جائے گا بلکہ غیر رجسٹرڈ افراد کے پاس ہم خود پہنچ جائیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس اصلاحات کے لیے کام کر رہے ہیں، ہمارا ٹیکس کا نظام بہت پیچیدہ ہے، ہم ٹیکس سسٹم کی اصلاح اور آسانی کے لیے کام کر رہے ہیں، ہم ٹیکس نادہندگان تک پہنچیں گے اور انھیں بتائیں گے کہ آپ کی انکم اتنی ہے اور آپ کو اتنا ٹیکس دینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کا ڈیٹا جمع کر لیا ہے، خود کار ٹیکس سسٹم سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوگا، وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس گزاروں کی رہنمائی کے لیے لیگل ٹیم بنا رہے ہیں جو ٹیکس گزاروں کی رہنمائی کرے گی اور ان کے مسائل سنے گی، قانونی ٹیم ٹیکس نا دہندگان کی شکایات سن کر ان کے حل کے لیے اقدامات کریگی۔

ان کا کہنا تھا کہ مصنوعات پر ٹیکس جمع کرنا وفاقی حکومت کا دائرہ اختیار ہے، ٹیکس کی پائیدار ادائیگی ملک کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ٹیکس ڈاکیومنٹیشن کرنا چاہتے ہیں، کئی ممالک میں ٹیکس نادہندگان کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں ہے، جرمنی میں جو ٹیکس نہیں دیتا وہ ووٹ کاسٹ نہیں کر سکتا۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اب ہم ٹیکس نوٹس نہیں دیں گے بلکہ اب ہم غیر رجسٹرڈ افراد تک پہنچ جائیں گے اور ان کو بتائیں گے کہ یہ آپ کی تفصیلات ہیں، آپ کا اتنا ٹیکس بنتا ہے اور یہ آپ کو دینا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پہنچنے سے پہلے لوگ ٹیکس دیں، غیر رجسٹرڈ افراد فوری ٹیکس دیں، غیر رجسٹرڈ افراد کے لیے خوش خبری ہے کہ ہم خود آپ تک پہنچیں گے، آپ کہہ سکتے ہیں حکومت کون سا ٹھیک طریقے سے فنڈز خرچ کرتی ہے، آپ حکومت پر تنقید کریں، آپ حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کریں مگر آپ کو ٹیکس دینا ہوگا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی ذمے داری پوری کریں، یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم ٹیکس دیں، کوئی ملک ٹیکس وصولی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔

مقبول خبریں