اوور لوڈنگ اور خستہ حال بسیںسیکریٹری ٹرانسپورٹ اور ڈی آئی جی ٹریفک کو نوٹس جاری

محکمہ خصوصی تعلیم کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف درخواست پر سرکار کو جواب داخل کرنے کیلیے مہلت


Staff Reporter March 20, 2014
محکمہ خصوصی تعلیم کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف درخواست پر سرکار کو جواب داخل کرنے کیلیے مہلت۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ نے سیکریٹری ٹرانسپورٹ اورڈی آئی جی ٹریفک کو نوٹس جاری کرتے ہوئے شہر میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ اور اسکول وین پر اوور لوڈنگ، خستہ حال گاڑیوں اورغیرذمے دارانہ ڈرائیونگ سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔

چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے راہ راسٹ ٹر سٹ کے سربراہ سید آغاعطااللہ شاہ کی درخواست کی سماعت کی، درخواست میں کہاگیاہے کہ موٹروہیکل قوانین میں پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال ہونے والی بسوں اور منی بسوں میں سواری کی گنجائش اور تعداد بھی درج ہوتی ہے، بسوں میں سفرکرنے کیلیے مسافر کا کرایہ فی نشست کے مطابق ایندھن کے استعمال اور مسافت کے لحاظ سے طے کیا جاتاہے مگر بسوں میں گنجائش سے زائد مسافروں کو سفر کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے دروازے کے ساتھ لگے اسٹینڈ پرکھڑاہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے،موٹر وہیکل آرڈیننس 1965کے سیکشن 44اور99کے تحت بسوں اور منی بسوں میں مسافر کو کھڑا ہونے کی اجازت دینا بھی غیرقانونی ہے جبکہ بس کی چھت پرمسافر کوبیٹھنے کی اجازت دیناان کی جان خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے جو کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ324اور اقدام قتل کے زمرے میں آتاہے۔

علاوہ ازیںسندھ ہائی کورٹ نے محکمہ خصوصی تعلیم کے ملازمین کو 19ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف دائر درخواست پرسرکار کو جواب داخل کرنے کیلیے 16اپریل تک مہلت دیدی ہے، عدالت نے سماعت کے موقع پرآبزرویشن دی کہ آئین کی دفعہ25-Aکے تحت 5سے 16سال تک کی عمر کے طلبا کو تعلیم کی مفت فراہمی اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمے داری ہے مگر مشاہدے سے پتا چلتا ہے کہ عوام کو روزگار کی فراہمی اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلیے اقدامات نہیں کیے جاتے اور جب اساتذہ کی تقرری کا معاملہ در پیش ہو تو حکومت کی جانب سے غیرذمے دارانہ رویہ اپنایا جاتا ہے، مدیر حسین، محمد خان سمیت 56 درخواست گزاروں کو دو علیحدہ علیحدہ درخواستوں میں موقف اختیار کیا ہے کہ انھوں نے اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کی روشنی میں محکمہ خصوصی تعلیم میں ملازمت کیلیے درخواست دی اور تمام مطلوبہ شرائط کو پورا کرنے پر سلیکشن کمیٹی کی سفارش پر انھیں تقرر نامے جاری کیے جس کے بعد درخواست گزاروں نے جولائی2012سے باقائدہ ملازمت کا آغاز کیا مگر درخواست گزاروں کوایک ماہ کی بھی تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں