ایک تیسری جماعت
تحریک انصاف اس وقت ملک کی ایک ایسی زندہ پارٹی ہے جس کے سامنے اس کا مستقبل نئی امیدوں کی دنیا میں رقص کر رہا ہے
ڈراؤنے موضوعات سے میں جان بوجھ کر ادھر ادھر ہو جاتا ہوں۔ ان دنوں نہ کوئی جاگنے دیتا ہے نہ سونے دیتا ہے۔ بس ایک ہی موضوع ہے کہ آئی ایس آئی کے ساتھ جو کچھ کر دیا گیا ہے اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اس سے قبل بھی آئی ایس آئی کے ساتھ یعنی فوج کے ساتھ بہت کچھ ہوتا رہا ہے اور ہم عوام یہ سب خاموشی کے ساتھ دیکھتے رہے ہیں۔ بات سخت ہو یا نرم حوالہ تو بہرحال سقوط ڈھاکہ کا ہی دینا پڑتا ہے۔ کچھ بھی ہو ہم اسے کہیں بھول نہ جائیں کیونکہ کمزور قومیں ناپسندیدہ حوالے بھول جاتی ہیں۔
درست کہ سقوط ڈھاکہ براہ راست آئی ایس آئی کی ذمے داری نہیں تھی لیکن انتظامی اعتبار سے آپ کچھ بھی کہتے رہیں کہ آئی ایس آئی خود کے نہیں وزیر اعظم کے ماتحت ہوتی ہے لیکن عوام اسے فوجی ہی سمجھتے ہیں۔ فوجی وردی' فوجی عہدے اور فوجی انداز اور چال ڈھال اور ایک ٹی وی کی اسکرین پر اگر ناقابل یقین حد تک آٹھ گھنٹے سے زیادہ وقت تک آئی ایس آئی کے باوردی جرنیل کی تصویر کسی گرفتار مجرم کی طرح دکھائی جاتی رہی ہے جیسے پولیس نے کوئی پرانا عادی مجرم پکڑ لیا ہے اور اب وہ عوام کے سامنے اپنا کارنامہ پیش کر رہی ہے۔
جب ٹی وی کے ایک چینل پر یہ تماشا ہو رہا تھا تو قوم کے ذہنوں اور دلوں میں بے شمار سوالات اٹھ رہے تھے۔ یہ سوالات اب تک باقی ہیں اور جواب طلب ہیں۔ ٹی وی کے اس ادارے پر نہ صرف ان سوالات کے جوابات ادھار ہیں بلکہ فوج اور حکومت پر بھی اس علانیہ دھاندلی اور فوج کی بے عزتی کے بارے میں سوالات باقی ہیں۔ بہت برا ہوا کہ حامد میر پر اس قدر سخت حملہ کیا گیا اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ چھ قاتلانہ گولیاں کم نہیں ہوتیں۔
بہرحال خدا نے اسے بچا لیا اور اب حامد میر کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ بچ گیا۔ اس کا کیس کمزور ہے۔ اسے ضد نہیں کرنی چاہیے۔ وہ اگر اپنے کیس کو تفتیشی ٹیم کے حوالے کر دے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اگر اس کے زخمی وجود پر کوئی سیاست کھیل رہا ہے تو جس کی جو نیت ہو گی اسے اس کا اجر ملے گا۔ سیاست دانوں میں اس وقت تک قومی امنگوں کے مطابق صاف ستھری پالیسی عمران خان کی ہے۔ عمران خان کے اس مؤقف کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ملک کی سیاست میں ایک متوقع خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ایک نئی جماعت کے لیے شاید غنیمت ثابت ہو اور یہ ایک کامیاب یا درست سمت ایک سیاسی چال ہو۔
موجودہ سیاست میں حالات تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں۔ ان ہی دنوں ایک حد سے زیادہ غیر معمولی واقعہ جماعت اسلامی میں ہوا لیکن اس پر سرسری گفتگو ممکن نہیں کیونکہ میرے لیے میری شناخت صرف جماعت ہی ہے اس لیے ابھی میں تیار ہوں فی الحال معذرت ۔ حالات کی کرشمہ سازی سمجھئے کہ ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ جماعت کی امارت یعنی صدارت گھوم پھر کر عمران خان کی جماعت میں چلی گئی۔ وہ بھی اس جماعت کے ایک وزیر کے پاس۔ عمران خان کو اس کا علم بھی نہ ہو گا کہ وہ ان دنوں کن دو قیمتی کشتیوں میں پاؤں رکھے ہوئے ہے اور اس کے دونوں پاؤں کتنے وزنی اور قیمتی ہیں۔
تحریک انصاف اس وقت ملک کی ایک ایسی زندہ پارٹی ہے جس کے سامنے اس کا مستقبل نئی امیدوں کی دنیا میں رقص کر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی زندہ سیاست اور جماعت کی اسلامی عالمی تاریخ کی برکات دونوں اس کے سامنے ہیں، اس کے پاس ہیں اور وہ اس وقت ملک کی تیسری بڑی سیاسی طاقت ہے۔ کوئی اس کی سیاسی طاقت سے انکار نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ایک واقعہ ہے۔ سیاست کی دنیا میں عمران خان ایک نیا سیاستدان ہے جس کے انداز بھی نئے ہیں۔ ہم نے لاتعداد پرانے سیاست دان دیکھے ہی نہیں بھگتے بھی ہیں۔
ہمارا یہ آج کا لیڈر ان پرانوں سے مختلف ہے لیکن افسوس کہ اس کے پاس بلکہ اس کے قریب پھٹکنے کی ہمت بھی نہیں کیونکہ ہمارے دو پھنے خان اخبار نویس اس سیاستدان سے ناراض ہو کر یا اسے اپنے آپ سے ناراض کر کے الگ ہو چکے ہیں۔ اگرچہ چھوڑی ہوئی منزل کی طرح اب بھی وہ اس منزل کو باقاعدگی سے یاد کرتے ہیں لیکن دور دور سے۔ معلوم نہیں ہمارے یہ دوست کیوں خوامخواہ ایک اذیت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ سیاست دانوں کی کوئی کمی نہیں جن کو ایسے صحافی مطلوب ہیں لیکن یہ ذاتی معاملے ہیں۔
میں نہ صرف یہ محسوس کرتا ہوں کہ میرے ساتھیوں کے تجربے نے یہ ثابت کیا ہے کہ عمران خان اخبار نویسوں کو پسند نہیں کرتے یا ان کے ساتھ زیادہ دیر تک چل نہیں سکتے اس لیے خود کو عمران خان سے دور دور رکھتا ہوں۔ ان کے والد جو ہمارے دوست اور ہم محفل تھے عزیزم عمران خان سے ایک رابطہ تھے لیکن میں ویسے بھی کبھی کسی سیاستدان کی عمل داری میں نہیں رہا۔ دوسرے سیاست دانوں کے بارے میں میرا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ ان سے تعلق یا خصوصی ربط و ضبط رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ان کو ہمیشہ اپنا محتاج رکھیں جس دن یہ آزاد ہو گئے تو یہ گھومنے والے پنکھے بن جائیں گے اور ان کی ہوا کے مرکز بدلتے رہیں گے۔
یہ سطریں میں اپنے ان دوستوں کے لیے لکھ رہا ہوں جن کی عزت اور اطمنان مجھے مطلوب ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ ان سے اپنی کوئی غرض وابستہ نہ رکھیں۔ ایک وقت کے بعد یہ اس کوشش میں ہوں گے کہ آپ ان سے کوئی کام تو کہیں اور وہ آپ کو ممنون کر سکیں لیکن کوئی مجبوری ہے تو ان کے کسی اسٹاف سے بات کر لیں ان سے نہ کریں۔ اب تو حالات بہت بدل گئے ہیں۔ میں پرنٹ میڈیا کے زمانے کی بات کر رہا ہوں جب لیڈروں کے پاس اپنی بات کو لوگوں تک پہنچانے کا سوائے اخبارات کے اور کوئی ذریعہ نہیں ہوا کرتا تھا۔
اب تو گلی گلی ایک ٹی وی چینل ہے جس پر بہتر شکل و صورت والے نیم اداکار بیٹھے دکھائی دیتے ہیں اور آپ کی بات کو آگے پہنچا دیتے ہیں۔ یہ آپ کی اہمیت پر منحصر ہے ورنہ وہ کیمرہ لے کر حاضر ہو جاتے ہیں۔ آپ کو اداکاری کا موقع بھی دیتے ہیں اور آپ کی بات بھی ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ بہرحال کہاں پرنٹ میڈیا یعنی اخبار اور کہاں ٹی وی والا میڈیا لیکن بات کو اگر ہوا میں نہیں اڑانا اور اسے باقی رکھنا ہے تو پھر آج بھی اخباروں نے اپنی حیثیت قائم کر رکھی ہے اور حوالہ اگر مطلوب ہو تو پھر اخبار ہی ہوتا ہے۔ آج بھی اخبار کا حوالہ دیا جاتا ہے نہ کہ ٹی وی کا۔ ہمارے جو دوست اخباروں میں کام کرتے ہیں اور بطور ماہر کسی ٹی وی پروگرام میں چلے جاتے ہیں ان کی بات الگ ہے۔
بات عمران خان کی تیسری سیاسی جماعت سے شروع ہوئی تھی۔ ان کی جماعت کسی صحافی کی ہمہ وقتی امداد اور تعاون کے بغیر چل رہی ہے۔ بہت اچھا ہو گا یہ اسی طرح چلتی رہے اور خان صاحب اپنے دوستوں سے مل کر اور ان کے مشورے سے کام کرتے رہیں۔ اعجاز چوہدری جیسے تجربہ کار ساتھی ان کے ساتھ موجود ہیں کئی دوسرے نام بھی ہیں یوں وہ اکیلے نہیں ہیں اور ان کی سیاست دوسری جماعتوں سے بہتر چل ہی ہے۔ اگر ان کی جماعت اشرافیہ سے بچی رہی۔