سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں زندگی کی فریاد کرنے والے شہری اور پیپلزپارٹی کے زخمی کارکن علی گوہر کلہوڑو کو پولیس اہلکار نے سرعام گولیاں مار کر قتل کردیا۔
تفصیلات کے مطابق قمبر شہداد کوٹ کوٹ سے تعلق رکھنے والے پی پی کے کارکن اور 8 بچوں کے باپ، پیشے کے اعتبار سے کاشت کار کو پولیس اہلکار عرض محمد جتوئی نے سرعام گولیاں مار کر قتل کردیا۔
عینی شاہدین کے مطابق متوفی موٹرسائیکل پر سوار تھا جس نے اہلکار کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی مگر ایک نہ سنی گئی اور اہلکار نے بہت قریب سے سرعام گولیاں مار دیں۔
پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے روز واقعہ پیش آیا، جس میں قمبر شہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والے ملزم کے حملے میں پولیس اہلکار زیب جتوئی زخمی ہوا۔
ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار کے بھائی موقع پر پہنچے اور سرعام گولیاں مار دیں۔
اہل خانہ کے مطابق واقعہ چار روز پہلے پیش آیا، ڈی آئی جی لاڑکانہ کی سربراہی میں واقعے کی تحقیقات کیلیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے جبکہ ایس ایس پی لاڑکانہ کی ہدایت پر پولیس اہلکار عرض محمد کو گرفتار کر کے ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پولیس اہکار نے گولیاں مارتے ہوئے کہا کہ اس نے ہمارے بچوں سے جھگڑا کیا، پھر ملزم کو پکڑ کر تین سے چار گولیاں ماریں۔
انہوں نے بتایا کہ ایس پی نے قانونی کارروائی کیلیے ورثا کو بلا لیا تاکہ اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی کی جائے۔