امریکی سینیٹر نے وینزویلا میں ٹرمپ کی فوجی کارروائی کو غیرقانونی قرار دے دیا

امریکا کے صدر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یک طرفہ طور پر ملک کو جنگ میں دھکیل دے، برنی سینڈرز


ویب ڈیسک January 04, 2026
فوٹو: رائٹرز

واشنگٹن:

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا میں یک طرفہ فوجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ وینزویلا کے امور چلانے سے گریز کریں۔

امریکی سینیٹر برنی سینڈر نے بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ صڈر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا آئینی اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب 60 فیصد امریکی تنخواہ سے تنخواہ پر گزارہ کر رہے ہیں تو انہیں گھر کے بحرانوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، غیرقانونی عسکری جارحیت ختم کریں اور وینزویلا کو تیل کے لیے چلانے کی کوششیں ترک کردیں۔

اس سے قبل انہوں نے وینزویلا میں کارروائی کے خلاف اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی، عالمی سلامتی کو خطرے سے دوچار کر رہی ہے اور اس سے جنگ کے اعلان کرنے کا کانگریس کا واحد حق بھی ختم ہوجاتا ہے۔

برنی سینڈرز نے کانگریس پر زور دیا کہ فوری طور پر اس کارروائی کے خلاف قرارداد منظور کرنی چاہیے تاکہ یہ کارروائی ختم ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر آئین اور قانون کی حکمرانی پر حقارت کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ امریکا کے صدر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یک طرفہ طور پر ملک کو جنگ میں دھکیل دے، چاہے وہ مادورو جیسے کرپٹ اور ظالم ڈکٹیٹر کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو وینزویلا کے امور چلانے کا حق بھی حاصل نہیں، اس لیے کانگریس کو فوری طور پر ایک بھرپور قرارداد منظور کر کے اس غیر قانونی فوجی کارروائی کو ختم کرنا اور اپنے آئینی فرائض کی ادائیگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

برنی سینڈرز نے کہا کہ ٹرمپ کے وینزویلا پر حملے سے امریکا اور دنیا کے لیے محفوظ ماحول محدود ہوجائے گا، عالمی قانون کی یہ بدترین خلاف ورزی دنیا کے کسی بھی ملک کو جواز فراہم کرتی ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک پر حملہ کر کے اس کے وسائل پر قبضہ کرے یا حکومت الٹ دے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طاقت کی خوف ناک مثال ہے، جسے پوٹن نے یوکرین پر ظالمانہ حملے کا جواز بنانے کے لیے استعمال کیا تھا۔

امریکی سینیٹر نے کہا کہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اکثر کہتی رہی ہےکہ وہ مونرو ڈاکٹرائن کو بحال کرنا چاہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکا کو اس خطے کے معاملات پر اثر و رسوخ رکھنے کا حق حاصل ہے اور انہوں نے وینزویلا کے تیل کے ذخائر حاصل کرنے کی کھل کر بات کھل کی ہے جو بدترین سامراجیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام لاطینی امریکا میں امریکی مداخلت کے سیاہ ترین ابواب کی یاد تازہ کر رہا ہے، جس کا یہ ایک خوف ناک حصہ ہے لہٰذا جمہوری دنیا کی جانب سے اس عمل کی مذمت ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے صدر بننے کے لیے امریکا فرسٹ پلیٹ فارم پر انتخابی مہم چلائی اور خود کو امن کے امیدوار کے طور پر پیش کیا۔

برنی سینڈرز نے کہا کہ ایسے وقت میں جب 60 فیصد شہری تنخواہ سے تنخواہ پر گزار رہے ہیں، ہمارا صحت کا نظام زبوں حال ہے، لوگ رہائش کا اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور اے آئی کی وجہ سے لاکھوں ملازمتوں کو خطرات درپیش ہیں تو ایسے میں صدر کو ملک کے اندر موجود بحرانوں پر توجہ دینی چاہیے اور بیرون ملک اس فوجی مہم کو ختم کرنا چاہیے۔

امریکی سینیٹر نے کہا کہ ٹرمپ امریکا کو چلانے میں ناکام ہو رہے ہیں، انہیں وینزویلا چلانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

مقبول خبریں