کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے میڈیا پر عائد پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے میڈیا سپورٹ تنظیموں کے پرمٹ منسوخ کر دیے ہیں، جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سخت ردعمل دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آزادی اظہارِ رائے کو دبانے اور ذرائع ابلاغ پر مکمل کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق طالبان حکومت کے تحت کام کرنے والی میڈیا سپورٹ تنظیمیں پہلے ہی دھمکیوں، سخت پابندیوں اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہی تھیں، جبکہ پرمٹس کی منسوخی سے ان کے لیے کام کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ طالبان کے یہ انتہا پسندانہ اقدامات میڈیا کو مؤثر اور منظم بنانے کے دعوؤں کے بالکل برعکس ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی آمرانہ سوچ اور غیر منصفانہ فیصلوں کے باعث آزاد صحافت شدید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے اور صحافیوں کے لیے کام کرنا مزید غیر محفوظ ہو گیا ہے۔
ان کے مطابق طالبان شفافیت، جوابدہی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دبانے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے میڈیا پر شکنجہ سخت کر رہے ہیں۔