واشنگٹن: امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو محدود کرنے والا آخری معاہدہ نیو اسٹارٹ جمعرات کو ختم ہونے جا رہا ہے، جس کے بعد دنیا میں جوہری ہتھیاروں پر کوئی بڑا عالمی پابندی کا معاہدہ باقی نہیں رہے گا۔
یہ معاہدہ 2010 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا اور اس کے تحت دونوں ممالک کو جوہری وار ہیڈز اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی تعداد محدود رکھنے کا پابند بنایا گیا تھا۔ نیو اسٹارٹ سرد جنگ کے بعد جوہری اسلحہ کنٹرول کے سلسلے کی آخری کڑی تھا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ستمبر میں اس معاہدے میں ایک سال کی توسیع کی تجویز دی تھی، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر مثبت ردعمل دیا تھا، تاہم اس کے بعد اس حوالے سے کوئی باضابطہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
روسی رہنما دمتری میدویدیف کے مطابق ماسکو کو اب تک امریکا کی جانب سے نیو اسٹارٹ پر کوئی سنجیدہ جواب موصول نہیں ہوا، اگرچہ روس نے بات چیت کے لیے وقت دیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ جوہری ہتھیاروں کی حد بندی کے کسی بھی نئے معاہدے میں چین کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرمپ اس حوالے سے اپنے وقت پر مؤقف واضح کریں گے۔
اسلحہ کنٹرول کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیو اسٹارٹ کی توسیع ایک سادہ سیاسی فیصلہ ہو سکتا تھا، مگر امریکی انتظامیہ کے اندرونی طریقہ کار اور سفارتی عمل کی سست روی کے باعث یہ موقع ضائع ہو گیا۔
ماہرین کے مطابق معاہدے کے خاتمے سے امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی دوڑ دوبارہ تیز ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی خدشے کے باعث دنیا کو تباہی کے قریب دکھانے والی علامتی ڈومز ڈے کلاک کو بھی آدھی رات کے مزید قریب کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ روس نے 2023 میں ہی نیو اسٹارٹ کے تحت جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت معطل کر دی تھی، جبکہ صدر ٹرمپ ماضی میں امریکا میں دوبارہ جوہری تجربات شروع کرنے کی بات بھی کر چکے ہیں۔