ایف بی آر اور پی ایس کیو سی اے کی جعلی ٹیموں کے دکانوں پر چھاپوں کا انکشاف

کراچی جوڑیا بازار کے متاثرہ دکان دار نے چیئرمین ایف بی آر کو خط لکھ دیا، ایف بی آر کی چھاپے کی تردید


بزنس رپورٹر February 02, 2026

اسلام آباد:

ایف بی آر اور پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے جعلی افسران اور پولیس حکام پر مشتمل جعلی مشترکہ ٹیموں کی جانب سے کاروباری مراکز میں جعلی چھاپے مارنے اور تاجروں کو ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے معروف کاروباری مرکز جوڑیا بازار میں متاثرہ دکان داروں نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو خط لکھ کر معاملے کی انکوائری کی درخواست کردی ہے۔

 

ایکسپریس کو دستیاب اس خط کے مطابق کراچی کے جوڑیا بازار کے سہیل قادری نامی متاثرہ تاجر کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو لیٹر لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جوڑیا بازار میں تجارت کررہے ہیں، 31 جنوری کو شام چار بجے کے قریب دس سے بارہ لوگوں نے ان کی دکان پر چھاپہ مارتے ہوئے دکان میں موجود مصنوعات کو پھینکنا اور نقصان پہپنچانا شروع کردیا اور دکان میں موجود اشیاء کے پیداواری سرٹیفکیٹ مانگنا شروع کردیئے اور کہا کہ آپ کے بارے میں اطلاع ہے کہ آپ غیر رجسٹرڈ اشیاء فروخت کررہے ہیں۔
 
جب ان سے اصرار کیا گیا تو انہوں نے خود کو ایف بی آر اور پی ایس کیو سی اے کے افسران ظاہر کیا تاہم جب ان سے دفتری کارڈز مانگے گئے تو دفتری کارڈز دکھانے کی بجائے دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ لیٹر میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی دکان پر آنے والے افسران میں سے تین افراد پولیس اہلکار تھے جو خود کو میٹھا در پولیس اسٹیشن سے ظاہر کر رہے تھے، ان افراد نے بغیر کسی پیشگی اطلاع، وارنٹ یا قانونی اجازت کے میری دکان میں موجود مصنوعات کو پھینکا اور نقصان پہنچایا، مزید یہ کہ انہوں نے انتہائی غیر پیشہ ورانہ رویّے کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو بڑے اداروں ایف بی آر اور پی ایس کیو سی اے کا نام استعمال کر کے مجھے ہراساں کیا اور میرے خلاف کارروائی کی دھمکیاں دیں۔
 
لیٹر میں کہا گیا ہے کہ میری بار بار درخواست اور اصرار کے باوجود نہ تو انہوں نے اپنی مکمل شناخت ظاہر کی اور نہ ہی کسی قسم کے تحریری احکامات یا قانونی دستاویزات پیش کیں جو کہ سراسر غیر قانونی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے جس سے مجھے یہ یقین بلکہ شدید شبہ پیدا ہوا کہ مذکورہ افراد سرکاری اداروں کے نام فرضی طور پر استعمال کر رہے تھے اور اس عمل کے ذریعے اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
 
لیٹر میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں، میں اپنی جانب سے اس اہم امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اگر واقعی یہ کارروائی کسی سرکاری ادارے کی جانب سے ہوتی تو اس کے لیے باقاعدہ شناخت، تحریری احکامات اور قانونی طریقہ کار اختیار کیا جاتا جو کہ اس واقعے میں قطعی طور پر موجود نہیں تھا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد وہ متعلقہ پولیس اسٹیشن بھی گئے جہاں ساری صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
 
اس دوران معلوم ہوا کہ یہ کاروائی ان کے کاروباری حریف کی جانب سے کروائی گئی ہے لہذا چیئرمین ایف بی آر کی توجہ اس اہم امر کی جانب بھی مبذول کروانا چاہتا ہوں۔
 
انہوں نے لیٹر میں الزام عائد کیا ہے کہ جس اتھارٹی کا استعمال ایک شخص آصف مجید، مبینہ طور پر کاشف ضیاء کے نام پر کر رہا ہے اس کے بارے میں یہ بات میرے علم میں آئی ہے کہ وہ خود قومی اداروں ایف بی آر اور پی ایس کیو سی اے کے دائرہ اختیار میں کروڑوں روپے کی سیلز ٹیکس چوری سے متعلق تحقیقات میں شاملِ تفتیش ہے مذکورہ معاملات کی تفتیش اس وقت آر ٹی او لاہور اور آئی این آئی پشاور کی جانب سے کی جا رہی ہے لہٰذا میری درخواست ہے کہ مذکورہ تمام حقائق و شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور سخت سے سخت تفتیش و تحقیقات کرائی جائیں اور سرکاری اداروں کے نام کے ناجائز استعمال اور ہراساں کرنے کے جرم میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
 

دوسری جانب ایف بی آر اور پی ایس کیو سی اے حکام نے کسی بھی قسم کے مشترکہ ٹیم کے ہمراہ کاروائیوں کی تردید کی ہے اور پی ایس کیو سی اے نے معاملے کی چھان بین بھی شروع کردی ہے۔

مقبول خبریں