کالعدم تنظیموں کے ارکان کی مائیکرو چپس سے نگرانی کی جائے گی وزیر داخلہ پنجاب

پنجاب میں کچھ مدارس ایسے بھی ہیں جن کے مسلح تنظیموں سے رابطے ثابت ہوچکے ہیں، شجاع خانزادہ


ویب ڈیسک March 11, 2015
پنجاب میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے قانون کی خلاف ورزی پر ساڑھے 3 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا،صوبائی وزیرداخلہ فوٹو:فائل

وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ نے کہا ہے کہ حکومت نے''فورتھ شیڈول'' میں شامل افراد کی نگرانی کے لئے ان کے جسم میں مائیکرو چپس نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے شجاع خانزادہ نے کہا کہ حکومت پنجاب ایسے افراد کی مانیٹرنگ کو سخت کرنے کے لئے نیا نظام لا رہی ہے جن کے نام مسلح گروہوں، فرقہ وارانہ اور کالعدم تنظیموں کا رکن ہونے یا ان سے وابستگی کے باعث ''فورتھ شیڈول'' میں شامل ہیں، ماضی میں پولیس کے لئے فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نقل وحرکت پر نظر رکھنا ممکن نہیں تھا تاہم اب ان کے جسم میں مائیکرو چپس لگائی جائیں گی تاکہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کو ایسی مشینیں دی جائیں گی جن کی مدد سے وہ انگوٹھے کا نشان لے کر لوگوں کی شناخت کر سکیں گے جب کہ یہ مشینیں نادرا کے ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک ہوں گی۔

صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ''جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی'' نے اب تک 1132 افراد کی فہرست بنائی ہے جس میں زیادہ تر وہ افراد ہیں جو کہ تشدد میں ملوث رہے ہیں یا دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے رہے ہیں یا ایسے شعلہ بیان مقرر ہیں جو مسلح کاروائیوں کی حمایت کرتے ہیں جب کہ اس فہرست میں سے اب تک 700 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پنجاب نے لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال، نفرت انگیز مواد، وال چاکنگ اور کرائے داری کے حوالے سے آرڈیننس بھی جاری کئے ہیں جن سے صورت حال میں کافی بہتری آئی ہے جب کہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے قانون کی خلاف ورزی پر ساڑھے 3 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 350 کو عدالت سزا دے چکی ہے۔

فوجی عدالتوں میں مقدمات کے حوالے سے شجاع خانزادہ نے کہا کہ ابتدائی طور پر پنجاب سے 43 مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم اب عدالتیں مقدمات کے فیصلے تیزی سے کر رہی ہیں جس کے باعث 43 میں سے صرف 7 مقدمات ایسے رہ گئے ہیں جنہیں فوجی عدالتوں میں بھیجا جائے گا، باقی کے فیصلے سنا دیئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے حکومت کو صوبے میں مدرسوں کی صحیح تعداد بھی معلوم نہیں تھی تاہم اب 12 ہزار مدرسوں کو رجسٹر کیا جاچکا ہے جن کی نگرانی کی جا رہی ہے اور اکثر مدارس اس میں تعاون کر رہے ہیں تاہم کچھ مدارس ایسے بھی ہیں جن کے مسلح تنظیموں سے رابطے ثابت ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں