ایگزیکٹ نے چیلنج کیا تو عدالت میں اپنی اسٹوری ثابت کروں گاڈیکلن والش

ایگزیکٹ اپنے ملازمین سے ایک معاہدے پر دستخط کراتی ہے جس کے تحت وہ اپنے کام کی تفصیلات ظاہر نہیں کر سکتے، ڈیکلن والش


Monitoring Desk May 21, 2015
ماضی میں امریکا میں اس طرح کمپنیوں کے خلاف تفتیش اور کارروائی کی گئی ہے، ڈیکلن والش فوٹو : فائل

ایگزیکٹ اسکینڈل کا انکشاف کرنے والے امریکی صحافی ڈیکلن والش نے کہا ہے کہ ان کے پاس اور بھی شواہد ہیں جنھیں وہ منظر عام پر نہیں لائے، اگر چیلنج کیا گیا تو وہ عدالت میں اپنی خبر کا دفاع کریں گے۔

بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹ اسکینڈل سے متعلق ان کے پاس اور بہت سے شواہد ہیں جن کا ذکر انہوں نے اپنی اسٹوری میں نہیں کیا، اگر یہ معاملہ عدالت میں گیا توانھیں یقین ہے کہ وہ اپنی اسٹوری کا کامیابی سے دفاع کریں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صحافت میں اپنے ذریعے کا دفاع کرنا خاص کر جب آپ کو اپنی جان و مال کا خطرہ ہو، کوئی نئی بات نہیں ہے، یہی صورتحال کراچی میں موجود ایگزیکٹ کے سابق ملازمین کے ساتھ ہے، ایگزیکٹ اپنے ملازمین سے ایک معاہدے پر دستخط کراتی ہے جس کے تحت وہ اپنے کام کی تفصیلات ظاہر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے ایگزیکٹ کے کئی سابق ملازمین سے بات کی ہے، اس معاملے میں بہت سے لوگوں کی کہانی ملتی جلتی نظر آئی ہے۔

ایگزیکٹ کے خلاف امریکی ایف بی آئی کی کارروائی سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایف بی آئی اس بارے میں کیا کرتی ہے، یہ انہیں نہیں پتہ، ماضی میں امریکا میں اس طرح کمپنیوں کے خلاف تفتیش اور کارروائی کی گئی ہے لیکن امریکا سے باہر ایف بی آئی نے اس طرح کی کوئی تفتیش نہیں کی۔ ڈیکلن والش نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا انڈسٹری میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں کام کررہے تھے اور اسی سلسلے میں نئے آنیوالے چینل بول کے بارے میں بھی انہوں نے تحقیق کا آغاز کیا، اس کمپنی کے اصل کام کا پتا لگانے کی کوشش کی تو مجھے معلوم ہوا کہ ایگزیکٹ آئی ٹی کمپنی جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں ملوث ہے۔

مقبول خبریں